دین اسلام نے سیاست اور امامت کیلئے شرائط مقرر رکر رکھے ہیں:مولانا طیب طاہری

دین اسلام نے سیاست اور امامت کیلئے شرائط مقرر رکر رکھے ہیں:مولانا طیب طاہری

صوابی(بیورورپورٹ)دین اسلام نے سیاست اور امامت کے لئے معیار اور شرائط مقرر کئے ہیں دین اسلام کی بنیادی تعلیمات سے بے خبر لیڈروں نے ملک کا معاشی بیڑا غرق کر دیا۔ ہمارے ہاں یہ بہت بڑا المیہ ہے کہ ہر شعبے میں ایک معیار مقرر ہے لیکن سیاست اور امامت کے لئے کوئی معیار نہیں سیاست میں وہ آتا ہے جس کا باپ داد ا سیاستدان ہی ہوں جب کہ امامت وہ کر تا ہے جس کا باپ دادا امام ہوں ان خیالات کااظہار مرکزی امیر اشاعت التوحید والسنت شیخ القر آن مولانا محمد طیب طاہری نے پنج پیر میں دورہ تفسیر القر آن کے موقع پر سورۃ یوسف کی تشریح کے دوران کیا ان کا کہنا تھا کہ امامت ایک مقدس فریضہ ہے جس کے لئے قر آن کریم میں اُصول مقرر کئے ہیں جو کہ عدل و انصاف اور دیانت پر مبنی ہے ان کا کہنا تھا کہ مصر کے بادشاہ نے جب یوسف ؑ کی قابلیت دیکھی تو انہیں حکومت میں شامل ہونے کی دعوت دی بادشاہ مصر نے یوسف ؑ کو وزیر خزانہ کے عہدے پر فائز کر دیا جنہوں نے اپنی قابلیت سے مصر کو بحرانوں سے نکال کر خوشحالی کی طرف گامزن کیا شیخ القر آن کا کہنا تھا کہ انبیاء کرام نے ہر میدان میں قدم اُٹھایا ہے اور لوگوں کو مشکلات سے نجات دلایا ہے جس طرح یوسف ؑ نے ملک مصر میں قحط زدہ لوگوں کو مالی بحران سے نکالا یہ ہمارے ملکی نظم و نسق چلانے والوں کے لئے مشعل راہ ہے#

مزید : پشاورصفحہ آخر