چارسدہ ،رمضان المبارک میں اشیائے خوردنی فروشوں کی چاندنی

چارسدہ ،رمضان المبارک میں اشیائے خوردنی فروشوں کی چاندنی

چارسدہ(بیورو رپورٹ) رمضان المبارک میں ضلعی انتظامیہ صارفین کو سرکاری نر خوں پر اشیائے خورد و نوش کی فراہمی میں مکمل طور پر ناکام ہو گئی ۔ روزہ دار قصائیوں کے رحم وکر م پر۔قصائی برادری صبح خوشی خوشی جرمانے بھر کر سارا دن صارفین کے چمڑے اتارتے ہیں۔ضلعی انتظامیہ اور ضلعی حکومت اےئر کنڈیشن دفاتر تک محدود ۔ کمشنر پشاور اور ڈسٹرکٹ سیشن جج سے ایکشن لینے کا مطالبہ ۔ تفصیلات کے مطابق چارسدہ میں رمضان المبار ک کے مقدس مہینے میں اشیاء خوردنوش کی قیمتوں کو پر لگ گئے ہیں ۔ اشیاء خورنوش کی قیمتوں میں کئی گناہ اضافہ کیا گیا ہے جبکہ سب سے زیادہ اضافہ گوشت کی نرخوں میں کیا گیا مگر دلچسپ امر یہ ہے کہ خود ساختہ اضافہ قصائی برادری نے اذ خود کیا ہے 270روپے فی کلو گوشت اب 350اور 400روپے میں فروخت ہو رہی ہے جبکہ وزن کی کمی بیشی پوچھنے کا صارف کو کوئی حق حاصل نہیں اور اگر صارف اس حوالے سے کچھ پوچھنے کی جسارت کرتا ہے تو کلہاڑیوں اور چھریو ں سے لیس قصائی برادری صارف کو ڈرا دھمکا کر بے عزت کر تے ہیں جبکہ اس حوالے سے پولیس کو شکایت کی جائے تو روزنامچہ رپورٹ درج کرکے رپورٹ کنندہ کو انکوائری پر ٹرخاتے ہیں۔دلچسپ امر یہ ہے کہ موٹر وے انٹر چینج اور غنی خان روڈ پر خود ساختہ غیر قانونی سلاٹر ہاؤس اور قصائیوں کے دوکانوں میں چھوٹے اور کچے جانوروں کا گوشت سرعام مہنگے داموں فروخت ہو رہا ہے مگر کوئی پوچھ گچھ نہیں ۔ بظاہر لگ یہ رہا ہے کہ ریاستی ادارے اور قانون قصائیوں کے تیز چھریوں کے سامنے سرنگوں جبکہ صارفین اور عوام بااثر قصائیوں اور تاجروں کے ہاتھوں قانون کی پامالی اور قانون شکنی کا تماشہ دیکھ رہے ہیں۔ دوسری طرف ضلعی افسران اپنی معمولی پراگرس سوشل میڈیا پر اس انداز میں پیش کر رہی ہے جیسے اپنی سرکاری ڈیوٹی کے ساتھ ساتھ انہوں نے کشمیر میں بھی فتح کے جھنڈے گھاڑ دئیے ہو۔

 

مزید : پشاورصفحہ آخر