بلڈرز پر فکسڈ ٹیکس عائد کرنے کا تجربہ ناکام ہو گیا،میاں زاہد

بلڈرز پر فکسڈ ٹیکس عائد کرنے کا تجربہ ناکام ہو گیا،میاں زاہد

کراچی (اکنامک رپورٹر)پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر ،بزنس مین پینل کے سینیئر وائس چےئر مین اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ بجٹ میں سیمنٹ اور سرئیے پر عائداضافی ٹیکس واپس لئے جائیں کیونکہ اس سے عوام کیلئے گھروں کی سہولت حاصل کرنا مزید مشکل ہو جائے گا۔ سیمنٹ پر فیڈرل ایکسائیز ڈیوٹی اور سٹیل پر سیلز ٹیکس میں اضافہ سے ملک بھر میں نجی اور سرکاری تعمیراتی و ترقیاتی منصوبوں کی لاگت میں اضافہ ہو جائے گا۔ میاں زاہد حسین نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ بلڈرز اینڈ ڈویلپرز نے بھی سپیشل ٹیکس عائد کئے جانے کی صورت میں ٹیکس کی مد میں اربوں روپے جمع کروانے کا دعویٰ کیا تھا جبکہ حکومت نے اسکا ہدف آٹھ ارب روپے رکھا تھا مگر اس سے صرف گیا رہ کروڑ روپے بطورٹیکس وصول ہوئے جس کے بعد حکومت نے یہ سہولت واپس لے لی ہے ۔ فکسڈ ٹیکس سے قبل اس مد میں ایک سال میں 2.6 ارب روپے جمع ہوئے تھے۔ایف بی آر اور بلڈرز اینڈ ڈویلپرز کی باہمی رضامندی سے طے کیا گیا ٹیکس سسٹم ناکام ہو گیا ہے اور اس شعبہ سے پرانے طریقہ کار کے مطابق ٹیکس وصول کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو درست ہے۔ انھوں نے کہا کہ بلڈرز اینڈ ڈویلپرزفکسڈ ٹیکس کے نظام کو جاری رکھنا چاہتے ہیں اورحکومت سے دو سال کی مہلت مانگ رہے ہیں جبکہ ساتھ ہی احتجاج بھی کر رہے ہیں مگر حکومت جسے بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔ انھوں نے کہا کہ بہت سے سٹیل اور سیمنٹ بنانے والے اور بلڈرز اینڈ ڈویلپرزصرف اضافی ٹیکسوں کا اثر عوام پر منتقل نہیں کریں گے بلکہ اس صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے زیادہ سے زیادہ کمانے کی فکر کریں گے اس لئے ان پر نظر رکھی جائے۔

 

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر