پاکستانی طلبا کی انٹیل انٹرنیشنل سائنس میلے میں آئیڈیاز کی نمائش

پاکستانی طلبا کی انٹیل انٹرنیشنل سائنس میلے میں آئیڈیاز کی نمائش

کراچی (اسٹاف رپورٹر)انٹیل انٹرنیشنل سائنس اور انجینئرنگ میلے 2017 میں انتہائی باصلاحیت اور ہونہار طالبعلموں نے اپنی صلاحیتوں کا اظہار کرتے ہوئے میوزیکل ٹارچ، جلد کے کینسر سے بچاؤ کا لوشن اور نابینا افراد کی مدد کیلئے بریسلیٹ سمیت کئی شاندار منصوبے پیش کیے۔انٹیل انٹرنیشنل سائنس اور انجینئرنگ میلے کا انعقاد 14 سے 19 مئی 2017 تک امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر لاس اینجلس میں ہوا۔ اس سال منعقدہ سالانہ مقابلے میں دنیا بھر سے 1700 سے زائد طالبعلموں نے شرکت کی۔انٹیل نیشنل سائنس میلے کے زیر اہتمام پاکستان میں انتخابی عمل منعقد ہوا تھا جس میں 56 تعلیمی اداروں کے طلبا نے شرکت کی جس میں 196 ہونہار نوجوان سائنس دانوں نے 96 پراجیکٹس پیش کیے۔ ان پراجیکٹس کی جانچ مشہور اور قابل ججز پر مشتمل پینل نے کی جنہوں نے انٹیل انٹرنیشنل سائنس اور انجینئرنگ میلے میں پاکستان کی نمائندگی کرنے کیلئے فاتحین کا انتخاب کیا جس کی بدولت فاتح امیدواروں کو اپنی آزاد تحقیق کو عالمی سطح پر پیش کرنے اور 4 ملین ڈالرز کے انعام اور اسکالرشپ کیلئے مقابلے میں حصہ لینے کا موقع ملا۔گزشتہ دہائی سے پاکستانی طالبعلموں نے شاندار کارکردگی سے اپنے گہرے نقوش چھوڑے ہیں اور انہوں نے انٹیل انٹرنیشنل سائنس اور انجینئرنگ میلے میں متعدد نمایاں اعزازات حاصل کیے۔ انہوں نے چند انتہائی جدید پراجیکٹس ڈیزائن اور تخلیق کیے۔ اس سال دس مقامی طلبا نے متعدد شعبوں میں بنائے گئے انوکھے تصورات کے حامل پراجیکٹس کے ساتھ عالمی سائنس اور انجینئرنگ میلے میں شرکت کی۔موجودہ عہد میں موبائل فونز ایک ضرورت بن چکے ہیں۔ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے پنجاب کے دانش اسکول کے طالبعلم احمد حسن، لیاقت علی اور نعیم حسن نے موبائل صارفین کو درپیش ایک اہم مسئلے کا حل ڈھونڈنے کا بیڑا اٹھایا اور وہ مسئلہ ہے ’موبائل کی بیٹری کا تیزی سے ختم ہونا‘۔ ان ہونہار طلبا نے موبائل کی چارجنگ کیلئے کال کرنے والے کی آواز کی توانائی کو استعمال کرتے ہوئے اسے برقی توانائی میں تبدیل کردیا۔ اس منصوبے کو ’کال کریں اور موبائل چار کریں‘ (Call and Charge the Mobile) کا نام دیا گیا جو ایک ایسی ڈیوائس ہے جو آپ کے فون کی بیٹری کو فون کال کے دوران ہی چارج کر سکتی ہے۔اسلام آباد ماڈل کالج فار بوائز کے گیارہویں جماعت کے طالبعلم ارقم علی خان نے ایک ایسا ماحول دوست الیکٹرو کیمیکل سینسر تخلیق کیا ہے جو محلول میں موجود ہر شے، گیس اور تمام چیزوں کو کم سے کم وقت میں محسوس کر لے گا۔ ان کا مقصد نایاب دھاتوں اور مشکل ٹیکنالوجی کی جگہ سستی دھاتوں اور آسان ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے لاگت کو کم کرنا ہے۔کراچی سے ایک اور باصلاحیت نوجوان آغا خان ہائر سیکنڈری اسکول کے بارہویں جماعت کے طالبِ علم حسان احمد خواجہ نے توانائی کی گونج( A Roar for energy) نامی میوزیکل ٹارچ کا پراجیکٹ تخلیق کیا۔ یہ پراجیکٹ توانائی میں درپیش غیر مؤثر توانائی کے وسائل سے نمٹنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ داب برقی اثرات (piezoelectric effect) کی بنیاد پر انہوں نے مختصر رینج کے والٹیجز کو معتدل رینج کے والٹیجز میں طول دیا ہے تاکہ آپریشنل ٹرانسسٹر کے ذریعے کسی بھی ارتعاشی؍حرکت کرنے والے ذرائع ( پنکھے سے آنے والی ہوا، موسیقی کی آواز وغیرہ) سے ہونے والی ترغیبی ارتعاش (induced vibration) کی مدد سے سیکنڈری سیل کو چارج کیا جا سکے۔نامیاتی (Organic) مصنوعات کی بڑھتی ہوئی مانگ کو دیکھتے ہوئے گیارہویں جماعت کے طالبِ علم حسان رضوان نے نویں جماعت کے منصور احمد کے ہمراہ سمندری گھاس سے نامیاتی پلاسٹک تخلیق کی ہے۔ پاک ترک انٹرنیشنل اسکولز اور کالجز کی اس جوڑی نے پاکستان کے ساحل پر پائی جانے والی کائی اور سمندری گھاس کی مختلف اقسام کو استعمال کیا اور سمندری گھاس سے نامیاتی پلاسٹک کی تخلیق کو وضاحت سے بیان کیا جو پلاسٹک بنانے کے لیے ایک اچھا خام مال ہے۔مصطفیٰ سجاد کمانی کا پراجیکٹ نابینا افراد کے لیے ایک متاثر کن کوشش ہے۔ کراچی سے آغا خان ہائیر سیکنڈری اسکول کے طالب علم نے نابینا افراد کی مدد کے لیے ایک بریسلیٹ ایڈ بنایا ہے۔ ان کا مقصد نابینا افراد کی مدد کرنا تھا تاکہ وہ اپنی زندگی آسانی کے ساتھ گزار سکیں اور جگہوں کو پہچاننے کی مشکلات میں کمی واقع ہو سکے اور صرف ایک کڑے (Bracelet) کی مدد سے اپنا مخصوص پتہ با آسانی تلاش کرنے میں ان کی مدد کی جا سکے۔ اس کڑے کی مدد سے امید کی جاتی ہے کہ دنیا بھر کے آنکھوں سے محروم افراد کو درپیش شدید مسائل کو کم کرنے میں مدد مل سکے گی۔پاک ترک انٹرنیشنل اسکولز اور کالجز، لاہور کے بارہویں جماعت کے طالبِ علم شاہ زیب اعجاز نے ماحول دوست ڈیزائن کے حامل شمسی توانائی سے چلنے والے پانی کے پمپنگ نظام کا نمونہ تخلیق کیا ہے۔ یہ پراجیکٹ ایسے شمسی توانائی سے پانی کی پمپنگ کا نظام ڈیزائن کرنے اور تعمیر کرنے کے متعلق تھا جو سورج سے توانائی حاصل کرتا ہو۔ پھر یہ توانائی Photovolatic cells کے ذریعے برقی توانائی میں تبدیل ہو کر بیٹریوں میں جمع ہوجاتی ہے۔ شاہ زیب کو امید ہے کہ اگر یہ منصوبہ بڑے پیمانے پر عمل میں لایا جائے تو یہ ایک منفعت بخش اور ماحول دوست حل ثابت ہو سکتا ہے۔آخر میں بہاولپور میں واقع ایک چھوٹے سے ٹاؤن حاصل پور کی رہائشی سعدیہ قادر کے پاس بہت عمدہ آئیڈیاز؍خیالات تھے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے جلد کے کینسر سے بچاؤ کا لوشن بنایا ہے۔ ایک ڈرائیور کی بیٹی جسے امید ہے کہ وہ ایک دن سائنسدان بنے گی اور پاکستان کی بہتری کے لیے کام کرے گی۔ یہ کچھ زبردست کہانیاں تھیں جو انٹیل ISEF کے میلے میں ابھر کر سامنے آئیں۔ ان میں سے بہت سے روشن فکر کے حامل ذہنوں نے پہلی مرتبہ اپنے گھروں سے اتنی دور آنے کی ہمت کی اور بہت سوں نے پہلی با ر نصف دنیا کا سفر کیا۔انٹیل ISEF طلباء کو ناصرف دنیا بھر کے سامعین کے سامنے اپنے خیالات پیش کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے بلکہ ان کو مختلف ثقافتوں کا سامنا بھی کرواتا ہے اور ان کو وسیع رینج کے پس منظر سے متعلق افراد کے ساتھ باہمی رابطہ کرنے کی اجازت بھی دیتا ہے۔ نوجوان پاکستانی موجدوں کی جانب سے پیش کیے گئے پراجیکٹ حقیقتًا بہت شاندار تھے اور ان کے متعلقہ اسکولوں کے ساتھ ساتھ وزارتِ تعلیم کو بھی ان کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔جو حل انہوں نے فراہم کیے ہیں وہ آج پاکستان کو درپیش بہت سے مسائل کا جواب اور ہمارے ملک کی ترقی میں فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر