”جے آئی ٹی ممبران نے مرضی کا بیان لینے کیلئے دباﺅ ڈالا ، سپریم کورٹ نوٹس لے “، صدر نیشنل بینک نے عدالت عظمیٰ کو خط لکھ دیا

”جے آئی ٹی ممبران نے مرضی کا بیان لینے کیلئے دباﺅ ڈالا ، سپریم کورٹ نوٹس لے ...
”جے آئی ٹی ممبران نے مرضی کا بیان لینے کیلئے دباﺅ ڈالا ، سپریم کورٹ نوٹس لے “، صدر نیشنل بینک نے عدالت عظمیٰ کو خط لکھ دیا

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن ) صدر نیشنل بینک سعید احمد نے بھی پاناما جے آئی ٹی ممبران پر مرضی کا بیان لینے کیلئے دبائو ڈالنے اور دھمکی آمیز لہجہ اختیار کرنے کاالزام عائد کرتے ہوئےرجسٹرار  سپریم کورٹ کو خط لکھ دیا ۔جے آئی ٹی ممبران نے مرضی کا بیان لینے کیلئے دباﺅ ڈالا، سپریم کورٹ نوٹس لے“۔

تفصیلات کے مطابق نیشنل بینک کے صدر سعید احمد نے پاناما جے آئی ٹی کے خلاف سپریم کورٹ کو خط لکھ دیا جس میں جے آئی ٹی ممبران کے رویے کی شکایت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پاناما کیس کی تحقیقات کرنے والی جے ائی ٹی ارکان نے 5گھنٹے تک انتظار کروایا اور کچھ ممبران کا رویہ دھمکی آمیز ہے۔ ان ممبران کا یہ رویہ سپریم کورٹ کے حکم کی نفی کرتا ہے۔

خط میں مزید کہا گیا کہ جے آئی ٹی ممبران نے مرضی کا بیان لینے کیلئے دباو¿ ڈالا ، جس کا سپریم کورٹ نوٹس لے۔” مجھے بتایا گیا تھا کہ بطور گواہ بلایا جا رہا ہے مگر میرے ساتھ سلوک سے لگا جیسے میں سنگین جرم میں ملوث ہوں“۔ 12 گھنٹے تفتیش کی گئی عام دنوں کی بات اور ہے رمضان میں یہ ظلم کے مترادف ہے۔

پاناما کیس کی تفتیش کیلئے سپریم کورٹ کے خصوصی بینچ نے ایف آئی اے کے واجد ضیاءکی سربراہی میں جے آئی ٹی تشکیل دی ہے ۔

نیشنل بینک کے صد سعید احمد نے خط میں مزید لکھا ہے کہ سوالات کے دوران میں نے محسوس کیا کہ میری بے عزتی کی جا رہی ہے ، دھمکایا جا رہا ہے اور دباﺅ ڈالا جا رہا ہے۔ اگر انٹرویو کی مکمل ریکارڈنگ دستیاب ہو تو اس سے ہر چیز واضح ہو جائے گی ۔”میں معاملے کی حساسیت کے باعث سوالات اور تحقیقات سے انکی مطابقت کو زیر بحث نہیں لا سکتا مگر میرے ساتھ ہونے والے رویے کو معز ز ججز کے نوٹس میں ضرور لا رہا ہوں۔ 

مزید : قومی