ماہ رمضان المبارک اور رسول خداﷺ کی محبوب غذائیں

ماہ رمضان المبارک اور رسول خداﷺ کی محبوب غذائیں
ماہ رمضان المبارک اور رسول خداﷺ کی محبوب غذائیں

  

ماہ رمضان اس بار موسم گرما میں ہے اور روزہ تقریباً سولہ گھنٹے کا ہے۔ اس موسم کے حوالے سے آج ہم ان چند غذاؤں کا ذکر کریں گے جن کے استعمال سے روزہ کے روحانی دینی کے ساتھ ساتھ جسمانی فوائد بھی حاصل کر سکتے ہیں اور سولہ گھنٹہ کا روزہ ہونے کے باوجود جسم کو کوئی نقصان ہونے کا خدشہ نہیں ہے۔ان غذاؤں کی برکت کا یہ ثبوت ہے کہ میرے آقاﷺ انہیں استعمال فرمایااور انکی افادیت پر بھی روشنی ڈالی ۔

کھجور

یہ ہمارے پیارے رسول ﷺ کی محبوب غذا ہے۔ کھجور سے افطاری سنت رسول ﷺ بھی ہے۔ کھجور غذائیت کا بھرپور خزانہ ہے۔ اس کی ایک اور خوبی یہ ہے کہ یہ جسم میں پہنچتے ہی خون میں شامل ہو کر جزو بدن بن جاتی ہے اور دن بھر کی بھوک پیاس سے جو جسم کے حرارے خرچ ہوتے ہیں یہ اس کا نعم البدل ثابت ہوتی ہے۔ جسم میں چستی و توانائی آجاتی ہے ۔ ماہرین طب سائنس کے مطابق کھجور میں گلوکوز کی صورت جو قدرتی شکر ہوتی ہے وہ فوری طور پر جزو بدن بن جاتی ہے۔ ایک سو گرام کھجور میں 315کیلوریز ہوتی ہیں جوکہ صحت جسم کے لئے روزانہ کی غذا کی صورت بہت مناسب غذا ہے۔ کھجور مقوی جسم اور زود ہضم ہے۔ بعض لوگ اسے گرم قرار دیتے ہیں کہ یہ صرف موسم سرما میں ہی مناسب ہے مگر تحقیق نے اسے غلط ثابت کیا ہے اور توازن کے ساتھ پورا سال استعمال کی جا سکتی ہے۔

شہد

شہد بارے ارشاد باری ہے کہ اس میں شفا ہے۔ جدید تحقیقات کے مطابق شہد بہترین غذا اور دوا ہے ۔ ایک طرف نومولود کو دیا جاتا ہے تو دوسری طرف جاں بلب بوڑھے کو۔ شہد کو دنیا بھر میں صحت کے تحفظ کے لئے سب سے موثر اور زود ہضم تسلیم کیا گیا ہے۔ شہد کے ایک سو گرام میں 319حرارے ہوتے ہیں۔ جو ایک صحت مند کے لیے روزانہ کی ضرورت کے لیے کافی ہیں۔ شہد بارے یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ اس کے استعمال کرنے والے طویل العمر صحت مند اور خوبرو ہوتے ہیں۔ شہد ہر مرض میں استعمال ہوتا ہے۔ شہد صحت کو تحفظ دیتا ہے۔ قدرتی طور پر اینٹی بائیوٹک ہے۔ مگر شہد کے فوائد تبھی حاصل ہو سکتے ہیں کہ خالص ہو۔ روزہ دار دو چمچے دودھ نیم گرم یا ٹھنڈا میں بھی ملا کر روزہ افطار کرے۔ حلق سے اترتے ہی معدہ میں پہنچ کر جزو بدن بن جاتا ہے۔

دہی

دہی کے استعمال سے ہی پنجاب کے باشندے قوی الجثہ ہوتے ہیں اور صحت مند و توانا ہونے کے ساتھ ساتھ جفا کش بھی ہوتے ہیں۔ بلغاریہ میں لوگ دہی اور پالک کا بہت زیادہ استعمال کرتے ہیں۔ اس لئے وہاں کے لوگ لمبی پاتے ہیں۔ دہی بنانے کا رواج تین ہزار سال قبل مصر میں شروع ہوا۔ تاریخ کے مطابق فراعنہ مصر کے دسترخوان پر دہی عمدہ غذا کے طور پر رکھا جاتا تھا۔ دہی اور اس کی چھاج کی ترشی میں تیزابیت برابر مقدار ہوتی ہے۔ جو آنکھوں کے مضر جراثیم دور کرکے غذا کو ہضم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ دہی جسم کی پرورش کرنے والے اجزاء سے بھرپور ہے۔ اس سے کریم اور مکھن تیار ہوتا ہے۔ روزہ دار کیلئے مفید ہے۔احادیث مبارکہ میں دہی کا ذکر موجود ہے

دودھ

یہ ایک مکمل غذا ہے۔ رسول خدا ﷺکا ارشاد ہے کہ دودھ تمام غذاؤں کا شہنشاہ ہے۔ ماہرین طب و صحت نے بھی تحقیقات کے بعد دودھ کو ایک مکمل غذا قرار دیا ہے ۔ایک کلو دودھ اپنی غذائی افادیت کے لحاظ سے ایک کلو گوشت کے برابر ہے۔ دودھ ہر عمر کے لوگوں کے لیے یکساں مفید ہے۔ دودھ سے جسمانی پرورش اور دماغی قوت حاصل ہوتی ہے۔ بیماری کے بعد ہونے والی نقاہت دور ہوتی ہے۔ خون پیدا ہوتا ہے۔ ہڈیاں مضبوط ہوتی ہیں۔ قبض کشاء اور پشیاب آور ہے۔ رنگت نکھارتا ہے۔ زود ہضم ہے۔ روزہ دار کو صبح صحری کے ساتھ اور فطاری کے ساتھ استعمال کرنا چاہئے۔ افطاری میں کھجور تین عدد ساتھ لے لی جائیں تو بہت مفید ہے۔ کہ اس سے دن بھر کی غذائی کمی پوری ہو جاتی ہے۔ دودھ سوتے وقت مناسب نہیں ہے۔ سحری و افطاری میں لیا جائے اگر شہد ملا لیا جائے تو اور موثر و فائدہ مند ہے۔ اور بہترین افطاری ۔

زیتون

زیتون کا شمار ان غذاؤں میں ہے۔ جن کا ذکر قرآن حکیم میں آیا ہے اور اسے مثل نور قرار دیا ہے۔ قرآن حکیم سے قبل توریت میں بھی زیتون کا ذکر ہے۔ اس کا شمار دنیا کے قدیم درختوں میں ہوتا ہے۔ یہ معدہ نظام انہضام کے لیے بہترین اکسیر ہے۔ ماہرین طب و صحت نے جو تحقیقات زیتون پر کیں ان سب نے اس کے موثر و مفید ہونے کی تصدیق کی ہے۔ روزہ دار کے لیے سب سے اچھا بغیر ملاوٹ روغن زیتون بہترین غذا ہے۔ زیتون تپ دق، (ٹی بی) ، سرطان (کینسر) میں بھی مفید ہے۔ معدہ اور آنتوں کے زخم میں مفید ہے۔ دمہ کے مرض میں تو نعمت غیر مترقبہ ہے۔ یہ ایک اچھی غذا ہے۔ روزہ دار کو سالن میں روغن زیتون کا استعمال کرنا چاہئے۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ