دوقومی نظریہ کو زبان چاہئے

دوقومی نظریہ کو زبان چاہئے
دوقومی نظریہ کو زبان چاہئے

  

کسی قوم کے تشخص کو نقصان پہنچانا ہو تو آپ اس کی زبان کو تبدیل کرنا شروع کردیں وہ قوم اسی کلچر اور زبان کے تابع ہو جائے گی ،جس زبان اور ثفاقت کا ان کی زبان اور کلچر پر اثر زیادہ ہو گا۔یوں کسی بھی قوم کو جدید دور میں بم سے مارنے کی ضرورت نہیں بلکہ آپ اس قوم کی ثقافت اور زبان تبدیل کردیں تو وہ قوم یا خودبخود تباہ ہوجائے گی یا آپ کے تابع۔قوموں کے تشخص میں مادری اور قومی زبان بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔پاکستان کی بنیاد دو قومی نظریہ کی اساس بھی اردو ہندی تنازعہ تھا۔مسلمان ہند ہندی کو سرکاری زبان قرار دینے کے خلاف تھے کیونکہ ہندی زبان ہمارے قومی تشخص کے ناصرف منافی تھی بلکہ سرے سے مختلف تھی۔

شاید آج ہم اپنی تاریخ بھول گئے ہیں۔آج ہمارے لئے زبا ن اتنی اہمیت نہیں رکھتی ۔یقین کیجئے اگر ہم نے اس خطرناک صورت حال کا تدارک نہ کیا تو یہ تاثر کینسرکی طرح ہماری تمدن وثقافت کو اندر سے کھوکھلا کر دے گا ۔اس وقت پاکستان کے مختلف میڈیا ٹی وی چینلزپر ہندی پروگرام اور ہندی ڈرامے دکھائے جا رہے ہیں ۔جن کی زبان ہندی ہوتی ہے اور کردار بھی اکثروبیشتر ہندومذہب کے معتقد ہوتے ہیں۔اور ان ٹی وی ڈراموں میں بعض اوقات ایسی کہانیاں پیش کی جاتی ہیں جن کا ہمارے معاشرتی اقتدار سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے۔ان ٹی وی ڈراموں کی سب سے بڑی ویور شپ ہماری گھریلو خواتین اور بچے ہیں۔یہ خواتین ان ڈراموں سے گہرا اثر لیتی ہیں۔یہ ڈرامے اور ہندی کلچر نہ چاہتے ہوئے بھی ان خواتین اور بچوں پر اثرانداز ہوتا ہے۔اسی طرح کچھ میڈیا چینلز بچوں کے کارٹوں تک ہندی زبان میں دکھاتے ہیں۔ان کارٹوں سیریلز کی نہ صرف زبان ہندی ہوتی ہے بلکہ وہ ہندی کلچر کا آئینہ دار ہوتے ہیں۔آج ہمارے گھروں میں تین سال سے لے کر دس سال کے بچے یہ کارٹون سیریلز بڑے شوق سے دیکھتے ہیں اور حیران کن بات یہ ہے کہ یہ بچے ہندی زبان اور ان کا کلچر سیکھ رہے ہیں۔اکثرگھروں کے بچے یقین اور بھروسے کی جگہ اردو میں ہندی لفظ "وشواش"کو دینے لگے ہیں اسی طرح دوسرے ہندی لفظوں کا استعمال بھی اردو میں تیزی سے ہونے لگا ہے۔

اس طرح ایسے چینلز کے پروگرام پر بھی نظر ثانی کرنی چاہیئے جن سے بچوں کیلئے ہندی کارٹون نشر کیئے جاتے ہیں۔بچوں کی انٹر ٹینمنٹ کے لئے ہمیں متبادل کارٹون نیٹ ورک چینلز بنانے چاہئں جن سے ہمارے بچے پاکستانی ثقافت اور اقدار کو بھی با بھولیں اور سب سے بڑھ کر اپنی قومی زبان اردو کی پہچان میں آسانی سے تمیز کرسکیں ۔وگرنہ یہ دو قومی نظریہ کو بھی خطرے میں ڈال دے گی کیونکہ ہماری نئی نسلیں بہت جلد اپنی زبان ،ثقافت کھو بیٹھیں گی اور جب وہ ہم سے سوال کریں گی کہ پاکستان کیوں معرض وجود میں آیا تو ہمارے پاس سوائے خاموشی کے کوئی جواب نہیں ہوگا کیونکہ ہم اس وقت تک دوقومی نظریہ کھو چکے ہوں گے ۔

اگر آج ہم نے اس مسئلہ پر توجہ نہ دی تو ہماری تباہی اپنے ہی ہاتھوں سے ہو گی کیونکہ اگر کسی قوم کا کلچر تباہ کردیا جائے تو وہ اپنی موت آپ مر جاتی ہے ۔میری تمام متعلقہ حکام سے اپیل ہے کہ خدارا ہوش کے ناخن لیں اور پاکستان کی قومی زبان کلچر اور قومی تشخص کی بحالی کیلئے مناسب اقدام کریں تاکہ اپنی نسلوں کو قیام پاکستان کے اسباب فخر سے بتا سکیں ۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ