اک طاقت ہے جو مسلم ممالک کو نچاتی ہے

اک طاقت ہے جو مسلم ممالک کو نچاتی ہے
اک طاقت ہے جو مسلم ممالک کو نچاتی ہے

  

یہ بات انتہائی حیرت کا با عث ہے کہ امریکی صدر کے دورے پر تقریباً پچاس عرب اور مُسلم ممالک کے حکمران سعودی عرب کے دارالخلافہ ریاض میں اسلامی اتحاد کے نا قابلِ تسخیر اتفاق کا تاثر دینے کے لئے جمع تھے۔ اُس وقت کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ امریکی صدر کے چلے جانے کہ فوراً بعدیہ ا تحاد ریت کا ڈھیر ثا بت ہوگا۔ حالات و واقعات کو سامنے رکھ کر غیر جانبدارانہ طور پر اگر تجزیہ کیا جائے تو ایک حققیت سامنے اُبھر کر آتی ہے۔ وُہ یہ کہ کوئی نہ کوئی ایسی طاقت ضرور ہے جو اِن مُسلم مما لک کو اپنے اشارے پر نچاتی ہے۔ جب اِن مُسلم ممالک کا اتحاد در کار ہو تو جادُو کی چھڑی سے تمام مُلکوں کو ایک جگہ اکٹھا کر لیا جاتا ہے اور جب اس بات سے فکر مندی شروع ہو جائے کہ یہ اتحاد سُپر پاور کے خلاف بھی استعمال ہو سکتا ہے تو بڑی ہوشیاری سے مُسلم ممالک کے درمیاں نفاق کا بیج بُو دیا جاتا ہے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ اس اتحاد کو ممکن بنانے کے لئے اور بعد ازاں اِس اتحاد کو مُنتشر کرنے کے لئے سپر پاور کے خُفیہ ادارے کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ امریکی صدر کے انتخابات میں بھی رُوس کے خفیہ اداروں پر الزام تھا کے انہوں نے صدرٹرمپ کو الیکشن میں جتوانے میں در پردہ مدد کی تھی۔ جسکی رُوس کے صدر نے تردید کی تھی۔ تاہم صدارتی امیدوار ہلیر ی کلنٹن نے اپنی شکست کا ذمہ دار سی آئی اے اور رُوس کو ٹھہرایا تھا۔ اُسکے بعد صدرٹرمپ کی انتظامیہ کے اہل کار پر الزام تھا کہ اُسکے رُوس کے خفیہ اداروں کے ساتھ خصوصی تعلقات تھے۔ لہذا امریکی صدر کو عالمِ مجبوری میں مذکورہ اہل کار کو اُسکے عہدے سے ہٹانا پڑا۔ یہ ساری تفصیل بتانے کا مقصد یہ ہے کہ آج کے دور میں سُر پاورز کمپیوٹر ٹیکنالوجی کی مدد سے دوسرے مما لک کی جاسوسی کرتی ہیں اور اُنکے نظام کو درہم برہم کرنے کے لئے ٹیکنالوجی ذریعے وائرس بھیج کر اُن کا تما م کمپوٹر سسٹم ناکارہ بنا دیتی ہیں۔ یا ویب سائٹ کو ٹیکنالوجی کے استعمال سے ہیک کر لیتی ہیں۔ پھر اُس سائٹ کو کنٹرول کرکے اپنے مرضی کی معلومات فیڈ کر دیتی ہیں۔ جس کے نُْقصانات کا اندازہ لگانا مُشکل ہوتا ہے۔

سعودی عرب اور خلیجی ممالک نے قطر حالیہ تعلقات میں کشیدگی کا سبب ہیکنگ کو قرار دیاہے۔ اخباری اطلاعات کے مُطابق سائٹ ہیکنگ کا ذمہ دار بھی رُوسی خفیہ ادارہ ہی قرار دیا جار ہا ہے۔ قطر کے بائیکاٹ سے مشرق وسطیٰ کے حالات تلخ سے تلخ تر ہو گئے ہیں۔ قطر پر الزام ہے کہ وُہ مصر میں اخوان المُسمین اور شام میں داعش جیسی دہشت گرد تنظیموں کی مدد کر تا ہے۔ اِس کے علاوہ ایران کے سا تھ قطر کے خصوصی تعلقات ہیں۔ مزید براں، قطر ایران کے ساتھ مِل کر سعودی عرب میں رہنے والے شعیہ حضرات کی خُفیہ مدد کر رہا ہے تاکہ سعود خاندان کی حکومت کا خاتمہ کیا جا سکے۔ ایران اور سعودی کے تعلقات پہلے ہی سے کشیدہ ہیں۔ ایران یمن میں حوثی قبیلہ کے لوگوں کی مدد کر رہا۔ جبکہ سعودی عرب اور دوسرے خلیجی ممالک اُنکے خلاف جنگ میں بر سرِ پیکار ہیں۔ یہ ساری خفیہ اطلاعات امریکی صدر کے حالیہ دورے پر ریاض کو فراہم کی گئی ہیں ۔ لہذا سعودی عرب نے فوری طور پر تمام دوسرے خلیجی ممالک کے ساتھ مِل کر اپنے ہر قسم کے تعلقات منقطع کر لئے ہیں۔ جس سے قطر تمام دُنیا کے مسُلم مما لک سے کٹ کر رہ گیا ہے۔ لیکن ایران نے صورتِ حال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہر قسم کا تعاون دینے کا وعدہ کیا ہے۔ اور ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ایک فطری ردِ عمل ہے کیونکہ سعودی عرب نے قطر کو ایران کے ساتھ خاص تعلقات رکھنے کا الزام لگایا ہے۔ ایران کی وجہ سے قطر کو مُشکلات کا سامنا ہے۔ ا۔س لئے ایران قطر کی ہر طرح سے مدد کرنے کو تیار۔ با الفاظِ دیگر، ایران کو خلیج میںْ ایک مضبوط حلیف مِل گیا ہے جو ہر اعتبار سے ایران کے لئے ایک اثاثہ ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم حالیہ بگاڑ سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ خلیجی ممالک کے اتحاد کے درمیان دراڑ پیدا ہو چُکی ہے جس کا کُلی طور پر کوئی توڑ نظر نہیں آتا۔ پاکستان اور دوسرے ایسے مُسلم ممالک کے لئے قطر اور سعودی عرب جیسے ممالک میں کسی ایک کو تعلقات کئے لئے چُننا خاصہ مُشکل کام ہے۔ پاکستان کے لئے سعودی عرب کی حمائت کرنا بھی مُشکل ہے ۔ جُزوی حمائت سعودی عر ب اور دوسرے ممالک کو قبول نہیں ۔ ایران اور قطر سے تعلقات امریکہ کے اور سعودی عرب کو منظور نہیں۔

در اصل، اِن حالات میں پاکستان کی پوزیشن بہت نازک ہے۔ پاکستان اِن تمام مُلکوں سے دُشمنی موُل لینے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ لیکن مُشکل یہ ہے کہ ایک مُلک کے کہنے پر دوسرے مُلک سے لڑائی بھی مول نہیں سکتا۔ ایران کی نظر میں پہلے ہی سے پاکستان کا کردار مشکوک نظر آتا ہے۔ ایران کو گِلہ ہے کہ پاکستان سعودی عرب کو ایران پر فوقیت دیتا اور امریکہ کے کہنے پر پاکستانی جنر ل راحیل کی خدمات اسلامی اتحاد کو دینے پر راضی ہُوا ہے۔ جنرل راحیل کی خدمات حاصل کرنے کے لئے سعودی عرب نے پاکستان سے خصوصی طور پر درخواست کی تھی۔ نواز شریف نے سعودی عرب کے حُکمرانوں کو خوش کرنے کئے ایران جیسے پڑوسی مُسلم مُلک کی بھی پرواہ نہیں کی اور پاکستان کی پارلیمنٹ سے بھی باقاعدہ اجازت نہیں لی۔ لیکن موجودہ صورتِ حال کے مُطابق، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان کو ایک ثالث کا کردار ادار کرنا پڑے گا۔ کیو نکہ پاکستان کے مُفاد میں یہی بہتر ہوگا کہ وُہ اِس تنازعہ میں غیر جا نبدار رہے۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ