فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔۔۔ قسط نمبر 116

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔۔۔ قسط نمبر 116
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔۔۔ قسط نمبر 116

  

ہم کو ویلی بازار کی اس خوبی کا علم تھا۔ اس کا تذکرہ سن کر ہمارے کان سرخ ہوگئے۔ ہم نے دبی زبان میں پوچھا۔ ’’منشی جی۔ ویلی بازار میں آپ کو کیا کام ہے؟‘‘

’’بڑے صاحب کا سوٹ لینا ہے۔ پھر کچھ نئے کپڑوں کے ڈیزائن بھی لانے ہیں‘‘۔

اس بازار میں بعض معروف ٹیلر ماسٹروں کی دکانیں بھی تھیں جو بہت مہنگے تھے۔ ان کے پاس سوٹ کا کپڑا بھی موجود رہتا تھا۔ کپڑا پسند کیجئے اور وہیں سوٹ کا آرڈر دے دیجئے۔ ہمارے خالو ابا (جن کے پاس ہم رہتے تھے کیونکہ خالہ نے ہمیں گود لے لیا تھا) عموماً دلّی سے اپنے سوٹ سلوایا کرتے تھے مگر میرٹھ میں ان کی پسندیدہ ٹیلر شاپ ویلی بازار ہی میں تھی مگر وہ خود کبھی وہاں نہیں گئے۔ جب ضرورت پیش آتی ٹیلر ماسٹر کپڑوں کے نمونے لے کر ناپ لینے کیلئے خود حاضر ہوجاتے اور سوت سی کر واپس پہنچا دیتے یا کوئی ملازم لے آتا۔ ان کی فٹنگ اتنی اچھی ہوتی تھی کہ ٹرائل کی ضرورت ہی نہیں آتی تھی۔ یہ ادھیڑ عمر کے شیروانی پوش، گنجے سے درزی تھی۔ انہیں یہ فخر حاصل تھا کہ وہ انگریزوں کے بھی سوٹ سلائی کرتے رہے تھے۔

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔۔۔ قسط نمبر 115 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

منشی جی ہمیں ٹٹولنے کیلئے ویلی بازار کا بار بار تذکرہ کرتے رہے۔

ہم نے کہا ’’ہم دو تین بار وہاں گئے تو ہیں‘‘۔

مسکرا کر پوچھنے لگے ’’میاں کبھی اوپر بھی تاک جھانک کی ہے؟‘‘

ہم نے کہا ’’منشی جی۔ تاک جھانک اوپر سے نیچے کی جاتی ہے یا برابر والی جگہ میں کی جاتی ہے۔ نیچے سے اوپر دیکھنے کو تاک جھانک نہیں کہتے‘۔

وہ ہنسنے لگے ’’میاں جاہل آدمی ہوں بس تھوڑا بہت حساب کتاب کرلیتا ہوں۔ آپ کی طرح کتابوں کا کیڑا تو نہیں ہوں‘‘۔

اس کے بعد منشی جی نے طوائفوں کے قصے چھیڑ دیے۔ وہ کس قدر مہذب اور وضع دار ہوتی ہیں۔ بات چیت کا سلیقہ اور اٹھنے بیٹھنے کا ڈھنگ ان پر ختم ہے۔ پرانے زمانے میں تو رئیسوں کے بیٹوں کو تعلیم و تربیت کیلئے طوائفوں کے گھر بھیجا جاتاتھا۔ یہ باتیں ہم بھی پڑھ اور سن چکے تھے اس لئے چپ رہے۔

منشی جی نے شرارت سے پوچھا ’’میاں کیا خیال ہے آپ کو تربیت کیلئے کسی اچھی سی طوائف کے گھر نہ بھیج دیا کریں۔ میں اسکول سے لے جایا کروں گا۔ شام تک واپسی ہوجائے گی‘‘۔

ہم نے کہا ’’منشی جی کیسی باتیں کرتے ہو۔ خالہ اماں اور خالو ابا بھلا کب اجازت دیں گے‘‘۔

’’مگر آپ کا دل تو چاہتا ہوگا؟‘‘ انہوں نے دریافت کیا۔

’’بالکل نہیں۔ ہم نے تو کبھی طوائف دیکھی تک نہیں۔ ان کی برائیاں ہی سنتے ہیں‘‘۔

کہنے لگے ’’برائیوں کا کیا ہے۔ اچھائی برائی تو سبھی میں ہوتی ہے۔مگر میاں بہت سی طوائفیں بہت اچھی ہوتی ہیں۔ میں دلی کے چاوڑی بازار میں جس بائی کے گھر میں کام کرتا تھا وہ تو بس ہیرا تھی ہیرا۔ اخلاق اور تمیز تو اس پر ختم تھی۔ خوب پڑھی لکھی تھی۔ بات بات پر شعر یاد تھے اس کو‘‘۔

ہم نے حیران ہوکر انہیں دیکھا۔ ’’منشی جی۔ آپ طوائف کے پاس ملازم تھے؟‘‘

’’اجی نوکری کا تو نام تھا۔ بس میاں اچھی لگتی تھی وہ۔ اور کوئی صورت نہیں نظر آئی تو وہاں ڈرائیوری کی نوکری کرلی۔ گھر سے بھاگ کر گیا تھا۔ گھر والوں نے بھی پھر میری صورت نہیں دیکھی۔ والد صاحب نے عاق کردیا تھا‘‘۔

ہم حیرت سے انہیں دیکھتے رہے۔

بولے ’’میاں سہارنپور کا رہنے والا ہوں۔ والد صاحب کا برتنوں کا کاروبار تھا۔ ایک بار دوستوں کے ساتھ دلّی گیا تو چاوڑی کی سیر کیلئے بھی پہنچ گئے۔ بس میاں نگینہ بائی کو دیکھا تو ہوش ہی اڑ گئے۔ ہم سب دوست چندہ جمع کرکے اس کا گانا سننے گئے تھے۔ میرے دل و دماغ پر تو اس کی صورت ایسی نقش ہوئی کہ دوبارہ کسی بہانے دلّی پہنچ گیا۔ مگر پیسے کم تھے۔ اوپر تو کیا جاتے آس پاس ہی منڈلاتے رہے۔ پڑھائی سے دل اچاٹ ہوگیا تھا۔ کوئی ترکیب ملنے کی نظر نہ آئی تو ان کے گھر میں ڈرائیوری کی درخواست دے دی جو اس کی بدمزاج ماں نے منظور بھی کرلی۔ راز کی بات بتاؤں؟ اصل میں اس کام کیلئے میں نے ایک عامل سے تعویذ لیا تھا ورنہ ہماری ایسی قسمت کہاں کہ نگینہ بائی کے گھر میں ڈرائیور بن جاتا؟‘‘ وہ ٹھنڈی آہ بھر کے خاموش ہوگئے۔ ہم ان کی باقی کہانی خود ہی سمجھ گئے تھے۔ ایسی بہت سی کہانیاں رسالوں اور افسانوں میں پڑھ چکے تھے۔

’’منشی جی پھر کیا ہوا ؟‘‘ ہم نے پوچھا۔

وہ آہ بھر کر بولے ’’بس میاں۔ دو سوا دو سال کے بعد نگینہ بائی ایک رئیس سے شادی کرکے پھر سے اڑ گئی۔ پھر اپنا وہاں کیسے دل لگتا۔ ہم نے بھی بوریا بستر اٹھایا اور ایک کلکٹر صاب کے گھر ملازم ہوگئے۔ اپنے گھر تو واپس جا نہیں سکتے تھے۔ کس منہ سے جاتے اور کیا جواب دیتے؟ بس وہ دن اور آج کا دن۔ ڈرائیور بن کر زندگی گزارتے ہیں۔ ’’منشی جی ایک دم اداس ہوگئے۔ شاید ان کی آنکھوں میں آنسو بھی آگئے تھے۔ ہمیں وہ اس وقت کسی افسانے یا ناول کا کردار نظر آ رہے تھے۔

’’منشی جی۔ پھر نگینہ بائی کبھی ملیں آپ کو؟‘‘

’’اجی اپنی ایسی قسمت کہاں‘‘۔ ان کی آواز بھرّا گئی۔ ہم نے بھی مصلحتاً خاموشی اختیار کرلی۔

گھنٹا گھر پہنچ کر منشی جی نے ایک جاننے والے کی دکان کے سامنے گاڑی کھڑی کردی اور ہم دونوں نے پیدل سفر شروع کیا۔ چند دکانوں سے فارغ ہوئے تو ٹیلی ماسٹر کی طرف رخ کیا۔ ویلی بازار پہنچتے ہی ہمارے جسم میں سنسناہٹ سی پیدا ہوگئی۔ موقع پاکر اوپر بھی دیکھنے کی کوشش کی مگر ویرانی کے سوا کچھ نظر نہ آیا۔ دن کے وقت بھلا کیا نظر آتا۔ بقول آغا شورش وہاں تو راتیں جاگتی اور دن سوتے ہیں۔

منشی جی ایک دم سیڑھیاں چڑھنے لگے تو ہم رک گئے۔

’’آئیے نا میاں‘‘۔ انہوں نے ہمیں پکارا۔

’’منشی جی۔ یہ آپ کہاں جا رہے ہیں؟‘‘

وہ ہنسنے لگے ’’ٹیلرنگ شاپ اوپر ہے۔ وہ دیکھئے سائن بورڈ‘‘۔

واقعی ٹیلرنگ شاپ کا سائن بورڈ لگا ہوا تھا۔ میرٹھ کے ویلی بازارجیسا بازار پھر ہم نے کہیں نہ دیکھا۔ نیچے بازار تھا۔ مختلف قسم کی دکانیں اور اوپر کا حصہ مخلوط تھا۔ یعنی طوائفیں تو تھیں ہی کچھ دکانیں بھی اوپر تھیں۔ مثلاً ٹیلرنگ شاپ۔ کسی کا دفتر۔ وہاں وکیلوں کے دفتر بھی تھے یہ بازار رواداری اور باہمی میل کا عجیب نمونہ تھا۔

ٹیلرنگ شاپ سے فارغ ہوکر ہم دونوں نیچے آئے تو دوپہر ہوگئی تھی۔ گرمی خاصی تھی۔ پسینہ آنے لگا تھا۔منشی جی نے پوچھا ’’گرمی لگ رہی ہے؟‘‘

’’ہاں لگ تو رہی ہے؟‘‘

’’ٹھیک ہے پھر اس کا بھی انتظام کرتے ہیں‘‘۔

کچھ دور چل کر وہ پھر دکانوں کے درمیان والی سیڑھیاں چڑھنے لگے۔

’’یہاں کیاکرنا ہے؟‘‘ ہم نے پوچھا۔

بولے ’’ایک واقف کا مکان ہے شربت پی لیں گے‘‘۔

ہم چپ چاپ ان کے پیچھے سیڑھیاں چڑھ گئے۔ سیڑھیوں کے خاتمے پر ایک بند دروازہ تھا۔ کھٹ کھٹانے پر ایک ملازم نمودار ہوا۔منشی جو کو دیکھا تو ادب سے سلام کرکے ایک طرف کو ہوگیا۔

’’میاں آجائیے‘‘۔ منشی جی نے ہمیں دعوت دی اور ہم ان کے ساتھ ایک سجے ہوئے کمرے میں داخل ہوگئے۔ ایک صوفہ اور چند کرسیاں بڑے سلیقے سے رکھی ہوئی تھیں۔ فرش پر قالین، دروازوں پر خوش رنگ پردے۔ دیواروں پر تصویریں لگی ہوئی تھیں۔

’’میاں آپ بیٹھے میں ابھی آیا‘‘۔ منشی جی یہ کہہ کر چلے گئے ہم دیوار پر لگی ہوئی تصاویر دیکھنے لگے۔ ایک تصویر میں شیر ہرن کا شکار کرتا ہوا دکھایا گیا تھا۔

اچانک کسی نے ہمارے سر پر سے ہیٹ اتار لیا۔ گھبرا کر ہم پلٹے تو ایک چودہ پندرہ سال عمر کی لڑکی نظر آئی۔ اس نے ہمارا ہیٹ اپنے سر پر رکھ لیا تھا۔ اور کمر پر دونوں ہاتھ رکھے کھڑی مسکرا رہی تھی۔ ہم نے پریشان ہوکر چاروں طرف دیکھا تو منشی جی غائب تھے۔

(جاری ہے،ایک طوائف کی چھوٹی بہن کی کہانی، فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔۔۔ قسط نمبر117پڑھئے ۔

(علی سفیان آفاقی ایک لیجنڈ صحافی اور کہانی نویس کی حیثیت میں منفرد شہرہ اور مقام رکھتے تھے ۔انہوں نے فلم پروڈیوسر کی حیثیت سے بھی ساٹھ سے زائد مقبول ترین فلمیں بنائیں اور کئی نئے چہروں کو ہیرو اور ہیروئن بنا کر انہیں صف اوّل میں لاکھڑا کیا۔ پاکستان کی فلمی صنعت میں ان کا احترام محض انکی قابلیت کا مرہون منت نہ تھا بلکہ وہ شرافت اور کردار کا نمونہ تھے۔انہیں اپنے عہد کے نامور ادباء اور صحافیوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا اور بہت سے قلمکار انکی تربیت سے اعلا مقام تک پہنچے ۔علی سفیان آفاقی غیر معمولی طور انتھک اور خوش مزاج انسان تھے ۔انکا حافظہ بلا کا تھا۔انہوں نے متعدد ممالک کے سفرنامے لکھ کر رپوتاژ کی انوکھی طرح ڈالی ۔آفاقی صاحب نے اپنی زندگی میں سرگزشت ڈائجسٹ میں کم و بیش پندرہ سال تک فلمی الف لیلہ کے عنوان سے عہد ساز شخصیات کی زندگی کے بھیدوں کو آشکار کیا تھا ۔اس اعتبار سے یہ دنیا کی طویل ترین ہڈ بیتی اور جگ بیتی ہے ۔اس داستان کی خوبی یہ ہے کہ اس میں کہانی سے کہانیاں جنم لیتیں اور ہمارے سامنے اُس دور کی تصویرکشی کرتی ہیں۔ روزنامہ پاکستان آن لائن انکے قلمی اثاثے کو یہاں محفوظ کرنے کی سعادت حاصل کررہا ہے)

مزید : فلمی الف لیلیٰ