گزشتہ ہفتے لندن میں حملہ کرنے والا پاکستانی خرم بٹ پاکستان کے بارے میں کیا خیالات رکھتا تھا اور یہاں پر کیا کام کرنا چاہتا تھا؟ جان کر ہر پاکستانی کو غصہ آجائے

گزشتہ ہفتے لندن میں حملہ کرنے والا پاکستانی خرم بٹ پاکستان کے بارے میں کیا ...

لندن (نیوز ڈیسک)برطانیہ میں دہشتگردی کے حالیہ حملوں کے بعد آپ خرم شہزادبٹ نامی دہشتگرد کے نام سے ضرور واقف ہوگئے ہوں گے۔ اس شخص نے برطانیہ کے ساتھ جو کیا وہ تو سب کے سامنے ہے لیکن پاکستان کے بارے میں اس کے شیطانی خیالات اب تک اکثر لوگوں کے علم میں نہیں تھے۔

دی نیوز کی رپورٹ کے مطابق خرم بٹ ایک اور معروف شدت پسند انجم چوہدری کے ساتھ مل کر پاکستانی ہائی کمیشن کے سامنے مظاہرے کیا کرتا تھا اور پاکستان کے خلاف ایسے نفرت بھرے بلکہ زہریلے خیالات کا اظہار کیا کرتا تھا کہ جنہیں الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔ وہ نہ صرف پاکستان میں نظام حکومت کو تہہ و بالا کرنے کی باتیں کیا کرتا تھا بلکہ پاکستان کو ’کفر کا گھر‘ بھی قرار دیتا تھا۔

رمضان المبارک کے پہلے عشرے میں دنیا بھر میں دہشتگردی کے واقعات میں 100 سے زائد جاں بحق، اب اگلے 2 عشروں میں کیا ہونے والا ہے؟ سب سے خوفناک خبر آگئی، جان کر پوری دنیا ہل کر رہ گئی

پاکستانی ہائی کمیشن، ریجنٹ پارک مسجد اور ساﺅتھ ہال ایسٹ لندن اور لیوٹن جیسی جگہوں پر مظاہروں میں شمولیت کی اس کی تصاویر بھی سامنے آچکی ہیں۔ انجم چوہدری اور اس کے ساتھیوں نے پاکستانی فوج کے خلاف بھی نفرت آمیز مہم چلائی۔ اسی کے ساتھ مل کر خرم بٹ نے 2015ءمیں پاکستان کے یوم آزادی کے موقع پر پاکستان کے خلاف احتجاج کیا اورنفرت سے بھرپور تقریر کی۔ اس موقع پر ان لوگوں نے اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھارکھے تھے جن پر لکھا تھا ”پاکستان کافر ریاست ہے۔“ اس موقع پر کچھ پاکستانی نژاد لڑکے اور لڑکیاں پاکستانی جھنڈے اٹھائے ہوئے اور ” پاکستان کا مطلب کیا، لا الہ اللہ“ کے نعرے لگاتے ہوئے ان کے سامنے آگئے تھے۔ اس کے باوجود شدت پسندوں کو ذرا شرم نہ آئی اور وہ پاکستان کے خلاف زہر آلود نعرے لگاتے رہے۔

مزید : برطانیہ