لاہور سمیت دیگر اضلاع کے39 او ایس ڈی بنائے گئے جوڈیشل افسروں کے خلاف محکمانہ انکوائریاں مکمل

لاہور سمیت دیگر اضلاع کے39 او ایس ڈی بنائے گئے جوڈیشل افسروں کے خلاف محکمانہ ...
لاہور سمیت دیگر اضلاع کے39 او ایس ڈی بنائے گئے جوڈیشل افسروں کے خلاف محکمانہ انکوائریاں مکمل

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور سمیت دیگر اضلاع کے39 او ایس ڈی بنائےگئے جوڈیشل افسروں کے خلاف محکمانہ انکوائریاں مکمل کرلی گئی ہیں،انکوائری میں قصور وار 20سے زائد سول اور ایڈیشنل ججز کو کرپشن اور اختیارات سے تجاوز کرنے پر برطرف اور جبری ریٹائر کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے ذاتی شنوائی کا آخری موقع دے دیا گیا،ایک سول جج شرافت علی ناصر کو ذاتی شنوائی کے موقع کے بعد ملازمت سے برخاست کردیاگیا .

شہری سے فراڈ کرنے والے وکیل گلزار حسین سانگلہ کا لائسنس معطل ،وکالت پر بھی پابندی

چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ سید منصورعلی شاہ کی زیرصدارت جسٹس شاہد حمید ڈار،،جسٹس محمد یاورعلی،جسٹس محمد انوارالحق سمیت انتظامی کمیٹی کے دیگر ججز کا اجلاس ہواجس میں مس کنڈیکٹ اور کرپشن کے الزامات پر او ایس ڈی بنائے گئے 39 جوڈیشل افسروں کے حوالے سے مکمل کی گئی انکوائریوں کا جائزہ لیاگیا،ذرائع کے کے مطابق چیف جسٹس اور انتظامی کمیٹی کے ججز کو بتایا گیا کہ ان 39 ججز میں سے 20 سے زائد محکمانہ انکوائری میں قصور وار پائے گئے ہیں ، ذرائع کے مطابق اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ قصور وار پائے جانے والے ضلعی عدالتوں کے 20سے زائد ججوں کو برطرفی سے قبل ذاتی شنوائی کا موقع دیا جائے۔اجلاس میں مس کنڈیکٹ اور کرپشن کا الزام ثابت ہونے پر سول جج کم جوڈیشل مجسٹریٹ شرافت علی ناصر کو پنجاب سول سرونٹ اینڈ ڈسپلنری رولز 1999 ءکے تحت ملازمت سے برطرف کرنے کی منظوری دی گی جبکہ ایڈیشنل سیشن جج ارشد حسین کے خلاف جاری ختم کرنے کی منظوری دی گئی ہے،ایڈیشنل سیشن ارشد حسین کے خلاف 2014 سے انکوائری زیرالتوا تھی۔

مزید : لاہور