ریاستی اداروں کی مضبوطی میں سب سے بڑی رکاوٹ کرپشن ،اختلافات کے باعث مسلمانوں کو عالمی اور قومی سطح پر سنگین مسائل کا سامنا ہے، متحد ہونا ہو گا :علمائے کرام

ریاستی اداروں کی مضبوطی میں سب سے بڑی رکاوٹ کرپشن ،اختلافات کے باعث مسلمانوں ...
ریاستی اداروں کی مضبوطی میں سب سے بڑی رکاوٹ کرپشن ،اختلافات کے باعث مسلمانوں کو عالمی اور قومی سطح پر سنگین مسائل کا سامنا ہے، متحد ہونا ہو گا :علمائے کرام

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)اختلافات کو ختم کرکے اداروں کو مضبوط بنایا جاسکتا ہے ،جس کے عدم استحکام کے باعث مسلمانوں کو قومی اورعالمی سطح پرسنگین مسائل کا سامنا ہے، دنیا بھر کے مسلمانوں کو نظریاتی اورمعاشی سطح پر عروج دینے کے لیے ہمیں اپنے وسائل کفر کی طاقتوں کے سپرد کرنے کی بجائے خود بہترین منصوبہ بندی کرنا ہوگی ،تاکہ حالات کا مقابلہ کرکے بحرانوں سے نکلاجا سکے۔

ان خیالات کا اظہار نجی چینل ’’جیو ٹی وی ‘‘ کی رمضان ٹرانسمیشن ”اسلام اورہماری زندگی “میں اداروں کومضبوط بنانے کے طریقے کے موضوع پر معروف علماءکرام ڈاکٹرمحمد امین  ، ڈاکٹر علی اکبر الازہری ، سید وقار الحسنین نقوی ، اور حافظ محمد نعمان حامد  نے کیا۔ اس موقع پر میزبان پروگرام محمد ضیاءالحق نقشبندی نے شرعی اپیل پڑھتے ہوئے کہا کہ قومی اوربین الاقوامی سطح پر  غیراسلامی قوتوں نے سازشوں کے ذریعے ہمارے اداروں کو کمزور کردیا ہے،جس کی وجہ سے ہم ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں ، اداروں کی مضبوطی کے لیے معیشت کو بھی مضبوط کرنا ہوگا۔ علماءکرام نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے  کہا کہ دشمن ہمارے گھروں تک گھس آیا ہے اورہمارے اداروں اورہماری معیشت پر حملہ آور ہے ، دہشت گردی کے واقعات سے سنگین مسائل پیدا ہوئے اور پوری امت کو شدید مسائل کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی اداروں کی مضبوطی سے ہی ملکی ترقی اورخوشحالی ممکن ہے، پاکستانی معاشرہ میں ریاستی اداروں کی مضبوطی میں سب سے بڑی رکاوٹ کرپشن ہے جو ایک ناسور کی شکل اختیار کرچکی ہے،حقیقت میں کرپشن میں ہمارے اداروں کو نہ صرف کمزور بلکہ ان کو کھوکھلا کرکے رکھ دیا ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ سخت قانون سازی کے ذریعے اداروں کو کرپشن سے پاک کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر او  آئی سی کا جو حال  اور کردار ہے وہ نہ ہونے کے برابر ہے، اسلامی ملکوں کو متحد ہوکر او  آئی سی کو مضبوط کرنا چاہیے ، تاکہ دنیا بھر میں اسلامی ملکوں اوردنیا بھر کے مسلمانوں کا تحفظ کیا جاسکے اورعالمی سطح پر حقوق کے حصول کے لیے موثر آواز اٹھائی جاسکے۔اس موقع پر علماءکرام نے ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط بھی کیے جس میں کہا گیا ہے کہ عالم اسلام کا استحکام مسلم دنیا کے اداروں کی مضبوطی سے ممکن ہے۔ 

مزید : Ramadan News