ڈاکٹر فیس بک پر کھیلتی رہی، حاملہ خاتون نے ہسپتال کی سیڑھیوں پر ہی مردہ بچے کو جنم دیدیا

ڈاکٹر فیس بک پر کھیلتی رہی، حاملہ خاتون نے ہسپتال کی سیڑھیوں پر ہی مردہ بچے ...
ڈاکٹر فیس بک پر کھیلتی رہی، حاملہ خاتون نے ہسپتال کی سیڑھیوں پر ہی مردہ بچے کو جنم دیدیا

  

نوشہرہ(آئی این پی )نوشہرہ کے نجی میڈیکل ہسپتال کی لیڈی ڈاکٹر ز اور نرسسز کی غفلت، لاپرواہی اور عدم توجہ کے باعث نوشہرہ کی رہائشی حاملہ خاتون  نے لیبر روم کی بجائے ہسپتال کی سیڑھیوں میں مردہ بچے کو جنم دے دیا ۔

پیپلز پارٹی عید کے بعد مسلم لیگ (ن) کو ٹف ٹائم دے گی:بلاول بھٹو زرداری

تفصیلا ت کے مطابق نو شہرہ کے علاقہ رشکئی کارہائشی گل اسلام جو کہ متاثرہ خاتون کا شوہر ہے نے بتایا کہ میری اہلیہ حاملہ تھی اور بچے کے پیدائش میں تھوڑا وقت رہ گیا تھا ، میری بیوی کو شدید تکلیف محسوس ہورہی تھی جس پر  ہم طبی امداد کی فراہمی کے سلسلے میں اسے ہسپتال لے کر آئے ، لیکن ڈیوٹی پر موجود لیڈی ڈاکٹر کرن نے میری بیوی کو دیکھا اور پھر کہا کہ ابھی پیدائش میں کافی وقت ہے ،یہ کہہ کر میری بیوی کو لیبر روم کی بجائے وارڈ میں رکھا گیا اور ڈاکٹر خود موبائل پر فیس بک پر کھیلنے لگی ,جب میری بیوی کا درد مزید شدت اختیار کر گیا تو ہم دوبارہ ڈاکٹر کرن کے پاس گئے تو انہوں نے نرسسز کو کہا کہ میں نہیں جاسکتی , آپ خاتون کو میرے کمرے میں لے کر آئیں ،نرسسز  حاملہ خاتون کو سٹریچر کی بجائے سیڑھیوں پر  سےگھسیٹتے ہوئے لے جارہی تھیں کہ اس دوران میری بیوی نے سیڑھیوں میں مردہ بچے کو جنم دے دیا جس سے اس کی حالت غیر ہوگئی جبکہ ڈاکٹر کرن اور ڈیوٹی پر موجود نرسسز نے میری بیوی کی تشویشناک حالت دیکھ کر ہمیں پشاور کے ہسپتال ریفر کرنے کیلئے چٹ تھما دی اور کہا کہ ہمارے پاس سہولیات موجود نہیں ۔

گل اسلام نے کہا کہ جب ہم پشاور پہنچے تو میری بیوی کی حالت اتنی غیرہوگئی تھی  جبکہ زیادہ خون بہنے اور سیڑھیوں سے گھسیٹتے وقت اندورنی چوٹیں لگنے کی وجہ سے آپریشن کرنا پڑا جس میں میری بیوی ہمیشہ کیلئے بانجھ پن کی شکار ہوگئی ۔انہوں نے کہا کہ پشاور کے ہسپتال میں ڈاکٹروں نے کہا کہ اگر اس خاتون کو بروقت طبی سہولیات فراہم کی جاتیں تو یہ نوبت نہیں آتی ۔ متاثرہ خاتون کے شوہر نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخواپرویز خان خٹک ، صوبائی وزیر صحت شہرام ترکئی اور محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ذمہ داران کیخلاف کارروائی کرکے انہیں سخت سے سخت سزا دی جائے ۔

مزید : نوشہرہ