فاٹا اصلاحات: دیر آید درست آید

فاٹا اصلاحات: دیر آید درست آید
فاٹا اصلاحات: دیر آید درست آید

  

وفاقی حکومت کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ جات derally Administered Tribal Areas) (Fe فاٹا (FATA) کہلاتے تھے۔یہ ’’ علاقہ غیر‘ ‘ کے نام سے بھی مشہور تھا۔یہاں کا قانون (FCR)ایف سی آر (Frontier Crimes Regulation) تھا، جو انگریزوں کے دورسے نافذ تھا۔ فاٹا 27,222مربع کلو میٹر پر محیط سات ایجنسیوں باجوڑ، منہمد، خیبر، کرم،اورکزئی، شمالی اور جنوبی وزیرستان اور 4813 مربع کلومیٹر پر پھیلے چھ فرنٹیئر ریجنز(Frontier Regions) ایف آر پشاور، کوہاٹ، بنوں، لکی، ٹانک اور ڈی آئی خان پر مشتمل تھا۔

ایجنسیوں کی آبادی 50لاکھ اور ایف آر کی ڈھائی لاکھ سے کچھ کم تھی۔ایجنسی کا انتظام پولیٹیکل ایجنٹ او ر ایف آر کااسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ سنبھالتا تھا۔

اُن کے پاس ایف سی آر کے تحت وسیع اختیارات ہوتے تھے۔ وہ کسی شخص کو گرفتار کرنے، اُسے قیدمیں رکھنے ، اس کا گھر مسمار کرنے اور اُسے علاقہ بدر کرنے کا حکم دے سکتے تھے۔متاثرہ فرد نہ تو اپنے دفاع میں دلیل دے سکتا، نہ وکیل کرسکتا اور نہ اپنی گرفتاری یا سزا کے خلاف کسی عدالت میں اپیل کر سکتا تھا۔

اس قانون میں شخصی سزا کے ساتھ اجتماعی سزا کی بھی گنجائش تھی یعنی اگرایک شخص جرم کرتا تو اُس کے پورے خاندان، قبیلے یا گاؤں کو سزا دی جاسکتی تھی۔ یہ ضرور ہے کہ اس نظام میں قبائل کوباہمی مسائل اور تنازعات اپنے رسم و رواج کے مطابق اور جرگے کے ذریعے نمٹانے میں کافی حد تک آزادی حاصل تھی۔

پاکستان کے قیام کے بعد انگریزوں کے زمانے کے قوانین متروک ہوئے یا نئی ضرورتوں کے مطابق ڈھال دیئے گئے، مگر فاٹا میں ایف سی آر ہی نافذ رہا۔ پاکستان کی حرمت پرمَر مِٹنے والے فاٹا کے غیور عوام ستر سال تک قومی دھارے میں شامل نہ ہوسکے۔

یہاں سے قومی اسمبلی میں بارہ اور سینٹ میں آٹھ ارکان منتخب ہوتے رہے، لیکن خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلی میں ان کی نمائندگی نہیں ہوتی تھی۔ ستم ظریفی یہ تھی کہ یہ نمائندے پورے ملک کے لئے قانون سازی میں تو حصہ لے سکتے تھے، لیکن فاٹا کے لئے نہیں ۔ یہاں سے متعلق قوانین پارلیمان میں نہیں بنتےْ ۔ یہ اختیار صرف صدرپاکستان اور گورنر خیبر پختونخواکے پاس تھا۔

شروع شروع میں تو فاٹا کے عوام خود بھی نہیں چاہتے تھے کہ اُن کے علاقوں میں ملکی قوانین نافذ ہوں۔ وہ سوچتے تھے کہ اس طرح حکومت کے لئے اُن کی زندگی میں مداخلت کرنا آسان ہو جائے گا اور وہ ’’آزاد قبائل‘ ‘ نہیں رہیں گے۔اس لئے وہ اپنے علاقے میں سڑکیں بننے کی بھی مخالفت کرتے تھے۔ رفتہ رفتہ اُن کو احساس ہونے لگا کہ ان کا نقصان ہو رہا ہے۔

اُن کے ہاں نہ تعلیم کی سہولت ہے، نہ صحت کی اور نہ زندگی کی دوسری سہولتیں موجود ہیں۔ پھر افغان جہاد کازمانہ آیا، جس کے بعد یہ علاقہ شدید دہشت گردی کا شکار ہُوا۔اس کی یہاں کے عوام نے بھاری قیمت ادا کی۔ حالات قابو سے باہر ہونے لگے تو حکومت نے مداخلت کی اور دہشت گردوں کا قلع قمع کیا۔

اب قبائلی عوام نے محسوس کیا کہ قومی دھارے سے باہر رہنے میں نقصان اور شامل ہونے میں فائدہ ہے۔ وفاقی سطح پر اس بات کی ہمیشہ ضرورت محسوس کی جاتی تھی کہ فاٹا کو قومی دھارے میں شامل کیا جائے۔ اس مقصد کے لئے 1976ء میں سابق وزیر داخلہ نصیر اللہ بابر کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جس کو یہ ذمہ داری سونپی گئی کہ فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کا لائحہ عمل طے کرے تاکہ وہاں کے عوام 1977ء کے عوامی انتخابات میں حصہ لے سکیں۔ کمیٹی نے اس معا ملے کو 1977ء کے الیکشن کے بعد اُٹھانے کی سفارش کی، لیکن اُسی سال ملک میں مارشل لاء لگنے سے اس سلسلے میں کوئی پیش رفت نہ ہوسکی۔ 1996ء میں فاٹا والوں کو بالغ رائے دہی کا حق دیا گیا۔ 2005ء میں جسٹس میاں محمد اجمل کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی، جس کی سفارشات کی روشنی میں 2011ء میں ایف سی آر میں کئی اہم ترامیم کی گئیں ۔اسی سال یہاں سیاسی پارٹیوں کو کام کرنے کی اجازت بھی دی گئی، تاہم انصاف کے حصول کے سلسلے میں یہ علاقہ پھر بھی کسی عدالت، ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کے دائرہ اختیارسے باہر رہا۔

جہاں تک ایف سی آرکا تعلق ہے، اس کا کوئی حامی نہیں تھا،سب اس کاخاتمہ چاہتے تھے۔ البتہ فاٹا کے خیبر پختونخوا میں ضم ہونے پر کچھ لوگوں کے تحفظات ہیں۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس ضمن میں فاٹا کے عوام سے پوچھنا ضروری تھا، اس لئے کہ ان کی قسمت کا فیصلہ ہونا تھا جو ایک آئینی تقاضا بھی ہے۔

ہو سکتا ہے کہ وہ الگ صوبے کے حق میں ہوں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ جس بنیاد پر پاکستان کے صوبے بنے ہیں، اُس کے تحت قبائل اور خیبر پختونخوا کے رہنے والوں میں کوئی فرق نہیں، دونوں کی تاریخ، زبان، ثقافت اور روایات ایک ہیں ۔

یاد رہے کہ سرتاج عزیز کمیٹی نے مختلف ایجنسیوں میں لوگوں سے مل کر اور جرگے منعقد کرکے یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ وہاں کے عوام صوبے کے ساتھ انضمام چاہتے ہیں۔ کئی لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ انضمام کے سلسلے میں جلدی کیا تھی؟ یہ فیصلہ بعد میں بھی کیا جا سکتا تھا۔

دراصل یہ معاملہ ستر سال سے حل طلب تھااور انضمام کے سوا کوئی بہتر حل پیش نہیں کیا گیا تو پھر اس سلسلے میں مزید تاخیر مناسب نہیں تھی،پھر بھاری اکثریت سے عوام، پارلیمان اور صوبائی اسمبلی اس کے حق میں تھے تو معاملے کو التوا میں ڈالنے کی کوئی وجہ نہیں بنتی۔ خیبر پختونخوا میں ضم ہونے کے بعد فاٹا کے مسائل راتوں رات ختم نہیں ہوں گے۔

انضمام کے بعد ملکی قوانین پورے فاٹا پرنافذ ہوں گے۔۔۔ تاہم 31000 مربع کلو میٹر دشوار گزار علاقے پر جہاں لوگوں کو ملکی قوانین کی پابندی کی عادت نہیں، پولیس کو قانون کی عملداری نافذ کرنے کے لئے محنت کرنی پڑے گی۔

فاٹا میں جو اَمن قائم ہواہے اس کو برقرار رکھنا ہے اور دہشت گردی کی وجہ سے جن گھروں، دکانوں، سکولوں اور ہسپتالوں کو نقصان پہنچا ہے، اس کا ازالہ جتنا جلد ہوسکے اتنا ہی بہتر ہو گا۔

معاشی طور پر فاٹا کو صوبے کے ساتھ ملانے میں بھی مشکلات پیش آئیں گی۔یہاں 80 فیصد سے زیادہ لو گ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں، معاشی تفاوت ہے، غریب اور امیر کے درمیان وسیع خلیج حائل ہے۔

اس لحاظ سے یہ اَچھا فیصلہ ہوا ہے کہ مرکز سے دس سال تک فاٹا کو ایک سو ارب روپے سالانہ ملتے رہیں گے، تاکہ یہاں کی تعمیر و ترقی میں مدد ہو اور یہ صوبے کے دوسرے علاقوں کے برابر آجائے۔یہاں کے عوام محنت کش ہیں اورتوقع کی جاسکتی ہے کہ دس سال میں یہ علاقہ ملک کے دوسرے علاقوں کے شانہ بشانہ آجائے گا۔ قبائل کے ہاں تنازعات کے فیصلے جلد ہو جاتے تھے۔

انصاف کا حصول آسان بھی تھا اور سستا بھی۔سوات سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے مجھے بتایا کہ والئ سوات کے زمانے میں اُس نے دیکھا کہ جب لوگ مقتول کو دفنا کرواپس آرہے تھے تو قاتل کو سزا دی جا چکی تھی۔یہ تو پاٹا کی بات ہے۔

فاٹا میں بھی اَمن تھا۔ 1985ء کا واقعہ ہے۔ ہم کوہاٹ سے پشاور آرہے تھے۔ شام کا وقت تھاتو ایک مقامی شخص سے پوچھا کہ راستہ محفوظ ہے، اُس نے کہاکہ سپینہ تھانہ سے پہلے اور بڈھ بیر کے بعد خیال رکھیں ، باقی راستہ محفوظ ہے۔

یعنی جو قبائلی علاقہ تھا، درہ آدم خیل کا،وہ محفوظ اور جوپولیس کے زیر انتظام علاقہ تھا وہ غیر محفوظ۔ حالیہ برسوں کی دہشت گردی کو چھوڑ کر دیکھا جائے تو فاٹاایک پُراَمن جگہ تھی۔ یہاں جرائم کم ہوا کرتے تھے،یہاں انصاف کے حصول میں دیرنہیں لگتی تھی ا ورانصاف سستا بھی تھا۔

ہمارے ہاں کے عدالتی نظام میں وقت بھی لگتا ہے، پیسہ بھی خرچ ہوتا ہے اور انصاف ملنے میں پیچیدگیاں بھی پیش آتی ہیں،اس مسئلے کا وقتی حل۔۔۔ Interim Governance Ordinance ۔۔۔جاری کرکے کیا گیا ہے، لیکن یہ ایسا ہی ہے جیسے ایف سی آر دوبارہ نافذ ہُوا ہو۔ یہ آرڈیننس بھی لمبے عرصے تک نافذ نہیں رہنا چاہیے، تا کہ فاٹا کے عوام جلد قومی دھارے میں شامل ہوں، اُن پر ملکی قانون کا اطلاق ہو اور پھر اُن کو دلیل، وکیل اور اپیل کا حق ملے، اُن کے بنیادی حقوق محفوظ ہوں اور وہ کسی کالے قانون کے ہا تھوں ظلم کی چکی میں نہ پِسیں،مگر انصاف کی فراہمی کے لئے جس ڈھانچے کی ضرورت ہے، وہ اس علاقے میں موجود نہیں ہے۔یہاں عدالتیں اور پولیس چوکیاں قائم کرنا ہوں گی، اس کے لئے بہت سرمایہ درکار ہوگا ۔

جمہوریت کا سفر بھی فاٹا میں تیز تر کرنا ہوگا۔یہ سفر پاکستان میں بھی کئی کٹھن مراحل سے گزرا ہے، جبکہ قبائلی ہمیشہ اپنی الگ دنیا میں رہے۔اگرچہ یہاں سے سینٹ اور قومی اسمبلی کے نمائندے منتخب ہوتے رہے اور وہ اسلام آباد پہنچ کر حکومت وقت کے ساتھ ملتے رہے، مگر اَپنے عوام کو اُن سے کوئی خاص توقعات نہیں ہوتی تھیں اور نہ وہ کچھ کر سکتے تھے۔

اَب وہ نمائندے خیبر پختونخوا اسمبلی میں آئیں گے،اپنے علاقے کے لئے قانون سازی میں شریک ہوں گے اورصوبائی حکومت کو بنانے اور چلانے میں حصہ لیں گے۔ نئی ترمیم کے تحت ان علاقوں میں عام انتخابات ایک سال کے اندر ہونے ہیں۔

جتنی جلد یہ انتخابات منعقد ہوں اتنا ہی اَچھا ہوگا۔اب بھی جس دن صوبائی اسمبلی کا پہلا اجلاس ہوگا اور سپیکر اور وزیر اعلیٰ کا انتخاب ہوگا، اس دن فاٹا کے نمائندے ایوان میں نہیں ہوں گے ۔وہ اتنے اہم فیصلے میں ووٹ دینے سے محروم رہیں گے۔

اس کا حل تو ہے اور وہ یہ کہ عبوری حکومت عام انتخابات کے فوراً بعد دو تین دن میں فاٹا میں بھی انتخابات کرائے اور وہ صوبائی اسمبلی کے پہلے اجلاس میں شامل ہوں، لیکن یہ کام اتنا بھی آسان نہیں ہے۔فاٹا اصلاحات سے سب کو فائدہ ہوگا۔

فاٹا کے عوام کوبھی اور ملک کو بھی، لیکن ہمیں یہ حقیقت نظر انداز نہیں کرنی چاہیے کہ فاٹا سے صوبے تک کا سفر آسان نہیں ہے، اس سفر میں کئی کٹھن مراحل آئیں گے، جن کے بارے میں مناسب منصوبہ بندی ہونی چاہیے۔

مزید :

رائے -کالم -