بزم اقبالؒ کے لئے فنڈز کی فراہمی

بزم اقبالؒ کے لئے فنڈز کی فراہمی
بزم اقبالؒ کے لئے فنڈز کی فراہمی

  

نگران وزیراعلیٰ پنجاب پروفیسر حسن عسکری کا کہنا ہے کہ صاف شفاف انتخابات ترجیح ہوگی۔ کوئی سیاسی ایجنڈا تھا نہ ہوگا۔ غیر جانبداری سے انتخاب کراؤں گا، مخالفین دوسروں کے بارے میں رائے دیتے رہتے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) بھی رائے دے رہی ہے، اگر انہوں نے میری تقرری کو چیلنج کرنا ہے تو کردیں۔ مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

پروفیسر حسن عسکری نے مزید کہا کہ میں اپنے منصب کا غلط استعمال نہیں کروں گا، مجھے الیکشن کمیشن نے نگران وزیر اعلی مقرر کیا ہے اور آئینی طور پر اس عہدے پر مقرر کیا گیا ہے۔ مختصر اور پروفیشنل افراد پر مشتمل کابینہ ہوگی۔

میرا کبھی کسی سیاسی جماعت سے تعلق نہیں رہا۔ پنجاب بڑا صوبہ ہے یقیناًبھاری ذمہ داری عائد ہوئی ہے۔ انتخابات صاف اور شفاف کرواں کا۔ کوئی جماعت پریشان نہیں ہو۔

میں اپنی آئینی ذمہ داری پوری کروں گا، ان پر جن لوگوں نے اعتماد کیا ہے وہ ان کے شکر گزار ہیں اور پوری کوشش کریں گے کہ اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے انجام دیں۔

جہاں تک مختلف سیاسی جماعتوں کا ان کی تقریری پر تحفظات کا سوال ہے تو ان کا کسی سیاسی جماعت سے تعلق یا تنازعہ نہیں ہے۔ وہ بے لاگ تبصرے کرتے ہیں، ان کے تبصرے حکومت وقت کی ناقص کارکردگی پر ہوتے ہیں، نہ کہ سیاسی جماعت پر۔ پنجاب میں (ن) لیگی حکومت کی کرپشن اور بے ضابطگیوں پر وہ ہمیشہ بولے ہیں، اسی طرح پیپلز پارٹی کی سندھ میں ناکام حکومت کے بارے میں بھی تبصرے کئے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ کے پی کے میں پی ٹی آئی حکومت کے نامکمل اور مہنگے منصوبوں اور دیگر امور پر بھی انہوں نے آئینہ دکھایا ہے، لہٰذا اس بنا پر ان کی تقرری پر اعتراض نہیں کیا جا سکتا کہ پی ٹی آئی نے ان کا نام تجویز کیا تھا۔

حقیقت یہ ہے کہ حسن عسکری محب وطن اور پڑھے لکھے شخص ہیں۔سیاسی سمجھ بوجھ رکھتے ہیں۔ وہ بہت احسن طریقے سے معاملات کو چلا ئیں گے۔

قوم کو ان سے بہت توقعات ہیں، ان کا سب سے بڑا کام تو صاف شفاف انتخابات کرانا ہے، اس کے علاوہ روز مرہ کے امور بھی سر انجام دینے ہیں، پاکستان اور اکابرین پاکستان سے بڑی محبت رکھتے ہیں۔ اقبالؒ اور قائدؒ کے پرستار ہیں، ان سے توقع ہے کہ وہ اقبال ؒ کے افکار کے فروغ کے لئے سرکاری امور کے ساتھ ساتھ ذاتی دلچسپی بھی لیں گے۔

علامہ اقبال نے سب سے پہلے برصغیر کے مسلمانوں کے لیے علیحدہ وطن کا تصور پیش کیا، اس عظیم تصور کی تجسیم پاکستان کی صورت ہوئی علامہ اقبال نے اصرار کرکے قائداعظم کو واپس بلایا، اگر یہ سب نہ ہوتا تو شاید پاکستان دنیا کے نقشہ پر نمودار نہ ہوتا۔

علامہ اقبال نے مسلمانوں کے لئے محض ملک کا تصور ہی پیش نہیں کیا، بلکہ ایک ایسی مملکت کا نقشہ پیش کیا، جو حقیقی معنوں میں ایک ایسی اسلامی فلاحی ریاست ہو، اسی کا نام فکر اقبال ہے اسی فکر اقبال کو فروغ دینے کے لئے حکومت پنجاب کے محکمہ اطلاعات کے تحت ادارہ بزمِ اقبال کا قیام عمل میں لایا گیا ہے ۔

ادارہ نے علامہ کی زندگی، شاعری اور فلسفیانہ سوچ کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرنے والی کتابیں شائع کیں، اس کے علاوہ ادارہ کے تحت ایک ماہنامہ میگزین بھی شائع کیا جاتا ہے، جس میں علامہ اقبال پر تحقیقی مضامین شائع ہوتے ہیں، حکومت کی طرف سے توجہ نہ ملنے کی وجہ سے بزم اقبال اتنا فعال نہیں ہو سکا۔

راقم الحروف جو پہلے ادارہ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں شامل تھا حال ہی میں ڈائریکٹر کے عہدے پر تعینات کیا گیا۔ صورت حال یہ ہے کہ اس وقت ادارہ بزم اقبال گرانٹ سے محروم مفلوک الحالی کی تصویر پیش کر رہا ہے۔

عمار ت اور دیگر امور کے لئے ادارہ کو فنڈز کی اشد ضرورت ہے، اس کے علاوہ ادارہ بزم اقبال کے زیر اہتمام ایک لائبریری قائم کرنے کا منصوبہ ہے، جس میں اقبالؒ کی تصانیف اوردنیا بھر میں اقبالؒ پر لکھے جانے والے مقالات کا ذخیرہ محفوظ کیا جائے گا۔

عبداﷲسنبل کمشنر لاہور ڈویژن نے کمال مہربانی سے دس لاکھ کی گرانٹ فراہم کی، مگر ادارہ کے منصوبہ جات اور دیگر امور کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ بہت کم ہے۔

نگراں وزیر اعلیٰ پنجاب پروفیسر حسن عسکری سے امید ہے کہ وہ اقبالؒ سے اپنی محبت کا ثبوت دیتے ہوئے بزم اقبال کے لئے ضروری فنڈز فراہم کریں گے ، جس سے ایک شاندار لائبریری کا قیام عمل میں لایا جا سکے گا۔ فکرِ اقبال کا فروغ اس لئے بھی ضروری ہے کہ آج مغربی تہذیب کے منفی اثرات ہماری نئی نسل کو اپنے اقدار و روایات سے غیر محسوس انداز سے دور کررہے ہیں، اس سے محفوظ رکھنے کا یہی ایک موثر طریقہ ہے۔

مزید : رائے /کالم