’’اس آدمی نے مجھے 9گھنٹے تک ریپ کا نشانہ بنایا اور پھر۔۔۔‘‘

’’اس آدمی نے مجھے 9گھنٹے تک ریپ کا نشانہ بنایا اور پھر۔۔۔‘‘
’’اس آدمی نے مجھے 9گھنٹے تک ریپ کا نشانہ بنایا اور پھر۔۔۔‘‘

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ایڈنبرا(مانیٹرنگ ڈیسک) انٹرنیٹ ایک دھوکے کی دنیا ہے جس پر ہونے والی دوستیاں ان گنت لوگوں کی زندگیاں برباد کر چکی ہیں۔ ایسی ہی ایک تازہ مثال سکاٹ لینڈ سے سامنے آئی ہے جہاں ایک خاتون کی انٹرنیٹ کے ذریعے ایک مرد سے دوستی ہوئی اور خاتون نے ملنے کے لیے اسے اپنے گھر بلالیا، اور پھر جو کچھ ہوا وہ سن کر خواتین آئندہ ایسی دوستی سے تائب ہو جائیں گی۔ میل آن لائن کے مطابق سکاٹ لینڈ کے شہر اوبین کی 50سالہ کرسٹینا ایونز ارجنٹ کی معروف ڈیٹنگ ویب سائٹ ’پلینٹی آف فش‘(Plenty of Fish)پر گلاسگو کے 55سالہ جارج کمنگز نامی شخص سے ملاقات ہوئی۔ دونوں میں کچھ دن تک پیغامات کا تبادلہ ہوتا رہا اور پھر کرسٹینا نے اسے کھانے پر گھر بلا لیا۔

رپورٹ کے مطابق جب جارج کرسٹینا کے فلیٹ پر آیا تو اس نے کرسٹینا کے مشروب میں کوئی نشہ آور دوا ملا دی جسے پیتے ہی وہ مدہوش ہو گئی۔ کرسٹینا کا کہنا تھا کہ ’’مشروب پینے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ اس میں کوئی چیز ملائی ہوئی تھی تو میں اٹھی اور ڈگمگاتے ہوئے بالائی منزل پر چلی گئی۔ جارج وہاں میرے پیچھے آیا۔ اس کے ہاتھ میں ایک پلاسٹک بیگ کی ایک پڑیا تھی جس میں سفید رنگ کا پاؤڈر تھا۔ اس نے زبردستی وہ پاؤڈر میرے منہ میں ڈال دیا، جس سے میں نیم بے ہوش ہو گئی۔ مجھے ایسے لگ رہا تھا کہ وہ مجھے قتل کرنے والا ہے۔ میں شدید خوفزدہ تھی۔ پھر وہ میرے سامنے برہنہ ہو گیا اور مجھے زیادہ کا نشانہ بناڈالا۔ وہ 9گھنٹے تک میرے گھر میں رہا اور میرے ساتھ یہ غیرانسانی سلوک کرتا رہا۔‘‘

کرسٹینا نے ملزم کے جانے اور ہوش میں آنے کے بعد پولیس کو واقعے کی رپورٹ کر دی جس نے جارج کو گرفتار کرکے گلاسگو کی ہائیکورٹ میں پیش کر دیا۔ اس مقدمے کی سماعت کے دوران ایک اور 42سالہ خاتون بھی اپنی درخواست لے کر عدالت پہنچ گئی۔ اسے بھی جارج نے 23سال قبل اسی طرح جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔عدالت میں جارج پر ان دونوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے الزامات ثابت ہو چکے ہیں اور اسے آئندہ ماہ سزا سنائی جائے گی۔

مزید : جرم و انصاف