نوٹوں کی ڈیمانڈ ،خانیوال :پولیس کا دولہے پر تشدد جسم پر گرم استری سے حملہ

نوٹوں کی ڈیمانڈ ،خانیوال :پولیس کا دولہے پر تشدد جسم پر گرم استری سے حملہ

  

خانیوال (نمائندہ پاکستان ) ڈی پی او خانیوال نے روٹھی بیوی کو منانے کے لیے سسرال آنے والے نوجوان پر انسانیت سوز تشدد کرنے والے تھانیدار اور متعلقہ ایس ایچ او کو ”چھتر “ سمیت آج پیر کو طلب کر لیا ۔ جبکہ مبینہ تشدد کا نشانہ بننے والا نوجوان بھی پیش ہو گا ۔ تفصیلات کے مطابق تھانہ مخدوم (بقیہ نمبر46صفحہ7پر )

پور پولیس نے ظلم اور بر بریت کی نئی تاریخ لکھ ڈالی روٹھی بیوی کو منانے کے لیے آنے والے دولہا تھانیدار یعقوب کے ہاتھ چڑھ گیا ۔ راضی نامہ تب ہوگا جب عیدی دو گئے تھانیدار کے مطالبے کو پورا کرنے میں ناکام رہنے والے دولہا کو عید کے تیسرے دن خانیوال پولیس نے ٹارچر سیل میں لے جا کر انسانیت سوز تشدد کا نشانہ بنایا نوجوان کو پشت پر 20 چھتر مارے گئے جسم پر گرم استری پھیری گئی برف کے بلاک پر کھڑا رکھا گیا اور جب تک بچاس ہزار عیدی ورثاءنے نہیں دی اس وقت تک نوجوان کو چھت کے ساتھ الٹا لٹکائے رکھا گیا پوسٹ ماٹم رپورٹ میں تشدد ثابت ہلا کو یعقوب تھانیدار کے سامنے ایس ایچ او شوکت بلوچ بھی بے بس مخدوم پور پولیس نے انسانی حقوق کی دھجیاں اڑا دیں پولیس اسٹیشن نجی ٹارجر سیل میں تبدیل جبکہ عملہ گلو بٹ بن گیا پولیس گردی کے خلاف انسانی حقوق کی تنظمیں سراپا احتجاج ۔ تھانہ مخدوم پور کے گاو¿ں 13/8-R ریلوے اسٹیشن کا رہائشی نوجوان خالد محمود پٹھان کی شادی کچھ دن قبل ناہید گل سکنہ عبدالحکیم سے ہوئی چاندر ات کو میاں بیوی کے درمیان معمولی جھگڑا ہوا اور دلہن روٹھ کر میکے آگی دل کے ہاتھوں مجبور دولہا اسے منانے سسرال پہنچ گیا لڑکی واپس جانے کے لیے شوہر کے ساتھ تیار ہو گئی اور اس دوران کسی شر پسند سسرالی نے تھانیدار یعقوب کو فون نے جھگڑے کی جھوٹی اطلاع دیکر بلا لیا ۔ تھانیدار جب موقع پر پہنچا تو نیا جوڑا اپنے گھر جانے کی تیاری کر رہا تھا تھانیدار نے چھوٹی اطلاع دینے والے کےخلاف کاروائی نہیں کی بلکہ دولہے کو کہا کہ صلح کی خوشی میں اسے 50 ہزار عیدی دے جس پر نوجوان خالدمحمود پٹھان نے کہا کہ وہ اپنے پیسے نہیں دے سکتا انکا ر پر تھانیدار اس کے بالوں سے پکڑ کر سرعام گھسیٹا ہوا تھانے لے گیا ۔ جہاں پر پولیس ٹارچر سیل میں اسے وحشانہ تشدد کا نشانہ بنا ڈالا ذرائع کے نوجوان کی شلوار اتار کر اسکی پشت پر 20 چھتر مارے جس پر خون او رپاخانہ آنا شروع ہو گیا اس کے باوجود تشدد کا سلسلہ جاری رہا دولہا کی چیخوں سے اور کانوں میں انگلیاں ڈال لی مگر اس کے باوجود تھانیدار کے ظلم کا بخار کم نہ ہوا موبائل فون کے ذریعے نوجوان کے گھروالوں کو اسکی چیخیں سنائی گئیں اور قم کا تقاضہ کیا گیا اس دوران نوجوان کو برف کے بلاک پر کھڑا کر دیا گیا جب تک ورثاءنے پیسے نہ دیئے تب تک اسے چھت والے پنکھے کے ساتھ باندھ کر الٹا لٹکائے رکھا پیسے لیکر نوجوان کو آزادی مل گئی اس ظلم کے خلاف کاروائی کے لیے ایس ایچ او شوکت بلوچ کو درخواست دی گئی مگر اس نے کہا اس منہ زور تھانیدار کےخلاف کوئی کاروائی نہیں کر سکتا کیونکہ تھانے میں صرف یعقوب تھانیدار کا قانون چلتا ہے پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بھی تشدد ثابت ہو گیا ۔ واقع کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی پی او خانیوال اسد سرفراز خان نے آج پیر کو فریقین طلب کر لیا ۔ڈی پی او کے نوٹس کے بعد پولیس نے بھی کھلبلی مچ گی صلح کے لیے متاثر ہ شخص کو لالچ اور دھمکی بیک وقت دی جاری رہی ہے ۔

پولیس تشدد 

مزید :

ملتان صفحہ آخر -