ترقی کی شرح گر گئی،معاشی اہداف حاصل نہ ہوسکے

ترقی کی شرح گر گئی،معاشی اہداف حاصل نہ ہوسکے

  

تحریک انصاف کی حکومت کا پہلا قومی اقتصادی سروے آج جاری ہو گا جو قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کرنے سے ایک دن پہلے منظر عام پر آتا ہے،تاہم اس کے جو حصے سامنے آئے ہیں،اُن سے معیشت کی کوئی اچھی تصویر نہیں ابھرتی، تقریباً سارے ہی بڑے بڑے معاشی اہداف حاصل نہیں ہو سکے، صرف لائیو سٹاک کا شعبہ ایسا ہے جہاں ترقی یا بہتری دیکھی جا سکتی ہے، اس کی پیداوار ہدف کے مقابلے میں زیادہ رہی، جو3.8فیصد تھا، پیداوار4فیصد رہی۔ سروے کے مطابق مجموعی معاشی ترقی کا ہدف6.2 فیصد تھا،جو صرف3.3فیصد تک پہنچ سکی،مہنگائی کی شرح 9.1 فیصد تک پہنچ گئی جس کا ہدف6فیصد رکھا گیا تھا،صنعتی ترقی کا ہدف7.6فیصد رکھا گیا تھا،لیکن صنعتی ترقی کی شرح1.4فیصد حاصل ہو سکی،زرعی ترقی 3.3فیصد کے مقابلے میں 0.8فیصد حاصل ہوئی، اہم فصلوں کی پیداوار3فیصد ہدف کے برعکس منفی6.5 فیصد رہی، متفرق فصلوں کی پیداوار ساڑھے تین فیصد ہدف کے برعکس1.9فیصد رہی، کپاس کی پیداوار8.9فیصد کے مقررہ ہدف کے مقابلے میں منفی12.9فیصد رہی۔

سابقہ برس انرجی کی پیداوار میں اضافہ ہوا، کیونکہ پچھلے برسوں میں جو منصوبے شروع ہوئے تھے اُن کی تکمیل کے بعد صنعتی سیکٹر کو زیادہ بجلی میسر تھی اور سابقہ برسوں کی طرح اس شعبے کو لوڈشیڈنگ کا سامنا نہیں تھا، گیس کی سپلائی بھی بلا تعطل جاری رہی،کیونکہ بیرونِ ملک سے ضرورت کے مطابق گیس درآمد ہو رہی ہے ایسے میں یہ بات لمحہ ئ فکریہ ہے کہ صنعتی پیداوار میں کمی کیوں ہوئی، بظاہر تو اس کی وجہ یہی لگتی ہے کہ سرمایہ کاروں نے نئی سرمایہ کاری سے ہاتھ کھینچ لیا ہے،صنعتوں کی توسیع کا کام نہیں ہو رہا اور نئی صنعتیں بھی نہیں لگ رہیں اس کی وجہ بینکوں کی شرح سود میں اضافہ بھی ہے، جو سابقہ حکومت کے دور میں کم ہوتے ہوتے پونے چھ فیصد تک نیچے گر گئی تھی اور اب بڑھ کر ساڑھے بارہ فیصد تک ہو گئی ہے، کوئی بھی صنعتکار چاہے وہ حب الوطنی کے جذبات سے کتنا ہی مالا مال کیوں نہ ہو،اپنے سو فیصد ذاتی سرمائے سے صنعتیں نہیں لگاتا، بہت ہی محدود تعداد میں ایسے لوگ ہو سکتے ہیں،جو کلی طور پر اپنا سرمایہ خرچ کر کے صنعتیں لگائیں اور بینکوں پر انحصار نہ کریں ورنہ عمومی طرزِ عمل یہ ہے کہ صنعتیں لگانے والے اپنے صنعتی پراجیکٹوں کے لئے بینکوں سے قرض لیتے ہیں، اور کوئی بھی صنعتی ادارہ قائم کرنے سے پہلے حساب لگاتے ہیں کہ اُن کا ادارہ کس طرح زیادہ سے زیادہ منافع کما سکے گا۔

موجودہ شرح سود کے مطابق اُنہیں پہلے اس رقم کی واپسی کا بندوبست کرنا ہو گا،جو وہ بینکوں سے بطور قرض حاصل کر کے اپنے پراجیکٹ پر لگائیں گے، پھر دوسرے اخراجات منہا کر کے اتنا خالص منافع بھی ضرور حاصل کرنا چاہیں گے،جس سے وہ کیپٹل فارمیشن بھی کر سکیں اور اپنے صنعتی ادارے کو توسیع بھی دے سکیں۔یہ ایک مسلسل عمل ہے اگر صنعتکار کو معقول منافعے کی امید نہیں ہوتی تو وہ سرمایہ کاری سے ہاتھ کھینچ لیتا ہے، نئی سرمایہ کاری کے لئے سیاسی استحکام بھی شرطِ اول ہے اگر ایسا نہیں ہو گا تو سرمایہ کاری بھی نہیں ہو گی، امن و امان بھی ایک بنیادی شرط ہے، کہا جاتا ہے کہ جس طرح گولی کی آواز سے پرندے اُڑ جاتے ہیں اسی طرح مخدوش امن و امان کی فضا سے سرمایہ بھی فرار حاصل کر لیتا ہے۔پاکستان سے ڈالر کی پرواز بیرون ملک تیز رفتاری سے ہو رہی ہے اور جس کی وجہ ہی سے ڈالر کی قیمت روپے کے مقابلے میں اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ اس خطے میں پاکستانی روپیہ کمزور ترین کرنسی بن کر رہ گیا ہے۔نیپال،افغانستان اور بھوٹان کی کرنسیاں بھی مارکیٹ میں پاکستانی روپے کے مقابلے میں زیادہ حیثیت رکھتی ہیں،نئی صنعتیں لگانے کے لئے جو درآمدی مشینری درکار ہے وہ بھی اب مہنگے داموں دستیاب ہے، جس کا دوسرے الفاظ میں مطلب یہ ہے کہ ایسے صنعتی ادارے کے قیام کے لئے جس میں درآمدی مشینری نصب کرنا مقصود ہو، اب پہلے سے زیادہ ڈالر درکار ہوں گے اور یہ مہنگے داموں میں دستیاب ہوں گے،اِس لئے صنعتی سرمایہ کاری بھی مہنگی ہو گئی ہے۔ایسی ہی دیگر وجوہ کی بنا پر صنعتی پیداوار میں کمی ہوئی ہے۔

زرعی شعبے کی حالت بھی اچھی نہیں، خراب موسمی حالات کی وجہ سے گندم کی فصل کی پیداوار اِس مرتبہ پہلے کے مقابلے میں کم رہی، اِسی طرح دوسری اہم فصلوں کی پیداوار کے اعداد و شمار بھی تخمینے کے مقابلے میں کمی ظاہر کر رہے ہیں۔ گزشتہ کئی برسوں میں دیہات سے شہروں کی جانب منتقلی کا رجحان بہت زیادہ ہو گیا ہے۔ خاص طور پر لاہور کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اِس شہر کی آبادی میں اربنائزیشن فیکٹر کی وجہ سے اتنا اضافہ ہوا ہے کہ ایشیا کے شاید ہی کسی دوسرے شہر میں ایسا ہوا ہو، دیہات سے صرف غریب مزدور ہی شہروں کا رُخ نہیں کر رہے،بلکہ پڑھے لکھے لوگ بھی جو تعلیم کے لئے بڑے شہروں میں آئے تھے وہیں بس گئے،اِس لئے کہ جن لوگوں نے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں تعلیم حاصل کی، اُنہیں دیہات میں تو ملازمت کے مواقع میسر نہیں،اِس لئے لامحالہ انہوں نے بڑے شروں میں قیام کو ترجیح دی،جو لوگ پہلے مجبوری کے تحت اعلیٰ تعلیم کے لئے شہروں میں آئے تھے کہ چھوٹے شہروں یا دیہات میں اعلیٰ تعلیم کے مواقع میسر نہیں، اب انہیں بسلسلہ ملازمت ان شہروں میں قیام کرنا پڑ رہا ہے اور وہ اپنے خاندانوں کو بھی بڑے شہروں میں مستقل رکھنے پر مجبور ہیں۔ ایسے میں اگر زرعی پیداوار بھی کم ہوگی تو اس شعبے کا مزدور بھی شہروں کا رخ ہی کرے گا۔ یوں اگر بڑے شہروں پر زیادہ فنڈز خرچ ہوتے ہیں تو شہروں اور شہریوں کی ضرورت کے تحت ایسا ہوتا ہے، سیاسی مصلحتوں کے پیش نظر ایسے اخراجات پر تنقید نہیں کی جاسکتی، چھوٹے شہروں کی ترقی کا نعرہ تو لگایا جاتا ہے اس جانب توجہ کم ہی دی جاتی ہے۔

زرعی مزدوروں کو اُن کے دیہات کی نسبت شہروں میں بہتر مزدوری دستیاب ہے، اِس لئے وہ بھی انہی شہروں میں بس گئے ہیں اس کے لئے ضرورت تھی کہ چھوٹے شہروں کو ترقی دے کر اس قابل بنایا جاتا کہ وہاں مقامی طور پر روزگار دستیاب ہوتا، لیکن ایسا نہیں ہوسکا، نیا پاکستان ہاؤسنگ پراجیکٹ ایک ایسا منصوبہ ہے جسے اس مقصد کے لئے استعمال کیا جا سکتا تھا بشرطیکہ منصوبہ بندی اس طرح کی جاتی کہ نئے گھر، نئے مقامات پر بنائے جاتے اور ہر یونٹ کو خود کفیل بنایا جاتا، ان گھروں کے قریب ہی صنعتی یونٹ بھی بنتے اور چھوٹی صنعتیں بھی لگتیں، اِن رہائشی یونٹوں کو بجلی اور گیس کی سپلائی کے لئے بھی نئے منصوبے شروع کئے جاتے،لیکن شاید جلد بازی میں منصوبے کا اعلان تو کر دیا گیا ہے، لیکن معلوم نہیں یہ منصوبہ کس طرح پایہئ تکمیل کو پہنچے گا، کیونکہ مہنگائی کی وجہ سے تعمیراتی سامان کی قیمتیں بھی مسلسل بڑھ رہی ہیں اور چھ مہینے یا ایک سال بعد موجودہ قیمتیں بھی مزید بڑھ جائیں گی ایسے میں ان قیمتوں پر نظرثانی ناگزیر ہو جائے گی جن پر اس وقت یہ رہائشی یونٹ فروخت کے لئے پیش کیے جا رہے ہیں،اس وقت حکومت کی معاشی ٹیم کے سربراہ معاونِ خصوصی برائے خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ کا کہنا ہے کہ ان کا بجٹ غریب دشمن نہیں، معیشت دوست ہو گا، دیکھیں وہ اپنا یہ دعویٰ کس طرح درست ثابت کرتے ہی، کیونکہ قومی اقتصادی سروے کے اعداد و شمار تو کوئی اچھی تصویر پیش نہیں کرتے۔

مزید :

رائے -اداریہ -