موسم کی طرح سیاسی ماحول بھی گرم

موسم کی طرح سیاسی ماحول بھی گرم
موسم کی طرح سیاسی ماحول بھی گرم

  

شہباز شریف واپس آ گئے ہیں، مریم نواز تو کہتی ہیں عمران خان کی نیندیں اُڑ گئی ہیں، مگر میرا خیال ہے شہباز شریف کے آنے سے نیندیں بحال ہو گئی ہوں گی، کیونکہ شہباز شریف آخری آدمی ہوں گے جو سڑکوں پر تحریک چلانے کا آپشن استعمال کریں گے۔انہوں نے ہیتھرو ایئر پورٹ پر ہی کہہ دیا ہے کہ ویسے تو جو فیصلہ بھی اے پی سی کرے گی، اُس پر عمل کریں گے، تاہم پارلیمینٹ کے اندر ہمارا احتجاج جاری رہے گا۔ دوسری طرف نواز شریف نے اگرچہ مریم نواز کو اے پی سی اور وکلاء تحریک میں بھرپور حصہ لینے کا کہہ دیا ہے،لیکن ایسا نہیں ہو سکتا کہ وہ شہباز شریف کی موجودگی میں انہیں بائی پاس کر جائیں۔ وہ پارٹی کے صدر اور اپوزیشن لیڈر ہیں،اُن کی حیثیت شاہد خاقان عباسی جیسی نہیں، جنہیں بازو سے پکڑ کر انہوں نے بلاول بھٹو زرداری سے علیحدہ ملاقات نہیں کرنے دی تھی یا حمزہ شہباز کو بلاول بھٹو سے متعارف کرایا تھا۔شہباز شریف ایک خود مختار لیڈر ہیں اور نواز شریف کی پالیسیوں سے بھی اختلافات کرتے رہے ہیں۔

ملک بھر بشمول اسلام آباد اور پنجاب میں جس قسم کی شدید گرمی پڑ رہی ہے اور یہ سلسلہ اگست تک جاری رہے گا،اُس میں کسی تحریک کا ڈول ڈالنا مشکل ہو گا۔سوشل میڈیا پر ابھی سے یہ سوالات اُٹھائے جا رہے ہیں کہ کیا بلاول بھٹو زرداری، مریم نواز بھی کارکنوں کی طرح دھوپ اور گرمی کا سامنا کریں گے،یا ائر کنڈیشنڈ گاڑی میں بیٹھ کر ہاتھ ہلائیں گے،کیا اڑتالیس ڈگری سنٹی گریڈ پر تپتی سڑکوں کو عوام کے جم غفیر سے ٹھنڈا کیا جا سکے گا یا پھر کارکنوں کے لئے بھی ائر کنڈیشنڈ بسوں اور کوچوں کا بندوبست کیا جائے گا؟ مجھے تو لگتا ہے کہ اپوزیشن کی بے صبری اس کی ساری منصوبہ بندی کو لے ڈوبے گی۔ایسے میں سوائے شہباز شریف کے کوئی اِس بات کو نہیں سمجھ پائے گا کہ تحریک چلانے کا بھی ایک موسم ہوتا ہے۔ پھر ایک بہت بڑا ایشو بھی چاہئے، جس پر عوام گھروں سے نکلنے پر مجبور ہو جائیں۔ اب اگر آصف علی زرداری کی طرح ایشو صرف یہی ہے کہ موجودہ حکومت کو مزید مہلت نہیں دی جا سکتی تو اس سے عوام بھلا کہاں قائل ہونے والے ہیں، خاص طور پر آصف علی زرداری کی باتوں سے، جنہیں خود اس شدید گرمی کے موسم میں گرفتاری کا ڈر لگا ہوا ہے۔

شہباز شریف کے آنے سے مسلم لیگ(ن) کو ایک بڑا ریلیف ملا ہے، کیونکہ اُن کے لندن جانے اور واپس نہ آنے کی خبروں نے مسلم لیگ (ن) کے کیس کو اخلاقی طور پر بہت کمزور کر دیا تھا۔ اسحاق ڈار، حسن،حسین، شہباز شریف کے داماد عمران اور بیٹے کی لندن میں موجودگی پہلے ہی حکومتی حلقوں کے لئے تنقید کا تر نوالہ بنی ہوئی ہے۔شہباز شریف کے جانے سے یہ تاثر گہرا ہونے لگا تھا کہ شریف خاندان ملک سے بھاگ گیا ہے، سو شہباز شریف واپس آ گئے، اس سے اخلاقی طور پر مسلم لیگ(ن) کو ایک برتری حاصل ہو گی۔ اب ایک بار پھر وہی عدالتوں میں پیشیوں کا چکر بھی چلے گا اور ساتھ ساتھ حکومت کے خلاف محاذ آرائی بھی ہو گی……لیکن ایک بات طے ہے کہ شہباز شریف ”ووٹ کو عزت دو“ کے بیانیہ کو اداروں کے خلاف استعمال نہیں کریں گے، جبکہ نواز شریف نے مریم نواز کو ہدایت کی ہے کہ ”ووٹ کو عزت دو“ کے بیانیہ کو مزید شدت کے ساتھ آگے بڑھائے۔اس اختلاف کو مسلم لیگی جلسوں میں یہ دونوں لیڈر کیسے نبھائیں گے،اس کا اندازہ تو آنے والے دِنوں میں ہو گا۔میری رائے میں شہباز شریف خود کو اس سے علیحدہ رکھنا چاہیں گے۔ شاید وہ بلاول بھٹو زرداری اور مریم نواز سے بھی خود کو دور رکھنا چاہیں اور اُن کے ساتھ حمزہ شہباز کو کھڑا کریں۔ یہ بات اِس بنا پر کہہ رہا ہوں کہ شہباز شریف آج بھی چودھری نثار علی خان کو اپنا ساتھی سمجھتے ہیں اور چودھری نثار علی خان کے بارے میں سب کو علم ہے کہ وہ سیاست دانوں کی نئی نسل کے ماتحت رہ کر کام کرنے کو تیار نہیں۔

آثار بتاتے ہیں کہ اپوزیشن اپنے طور پر کسی تحریک کا فوری اعلان کرنے کی بجائے قاضی فائز عیسیٰ کے معاملے میں وکلاء تحریک میں حصہ ڈالنے کی کوشش کرے گی۔جب یہ تحریک کچھ جان پکڑ جائے گی تو پھر اس میں باقاعدہ طور پر سیاسی مطالبات شامل کر کے اسے حکومت مخالف تحریک میں تبدیل کر دیا جائے گا۔ ملک کی بار کونسلوں نے 14جون کو ہڑتال اور مظاہروں کا اعلان کر رکھا ہے۔اس دن سپریم کورٹ کے باہر بھی احتجاج اور دھرنے کا پروگرام ہے۔پاکستان بار کونسل کے صدر تو اس حد تک جذباتی بیانات دے رہے ہیں کہ چیف جسٹس کے ہاتھ سے ریفرنس کی کاپی چھین لیں گے۔ پتہ نہیں وہ سپریم کورٹ کے احاطے میں داخل ہو بھی سکتے ہیں یا نہیں، تاہم ایک جذباتی فضا پیدا کرنے کی حد تک دن خاصے پُرجوش نظر آتے ہیں۔ اس ضمن میں یہ کہا جا رہا ہے کہ جس طرح وکلاء تحریک نے پرویز مشرف کو گھٹنے ٹیکنے مجبور کر دیا تھا، اُسی طرح یہ تحریک بھی حکومت کو ناکوں چنے چبوا دے گی۔ دو مختلف صورتوں کو ایک رنگ دینے کی اس کوشش کا کیا نتیجہ نکلتا ہے، وقت بتائے گا، لیکن وکلاء رہنماؤں کو ایک بات نہیں بھولنی چاہئے کہ پرویز مشرف نے افتخار چودھری کو برطرف کیا تو آئین شکنی کی، جبکہ قاضی فائز عیسیٰ کو آئینی کارروائی کا سامنا ہے،جو آئین میں موجود طریقہئ کار اور آئینی ادارے میں ہو رہی ہے۔ ایک ایسی فضا میں جب عوام ہر ایک کا بے لاگ احتساب چاہتے ہیں، ایسی کوئی کوشش عوامی پذیرائی کیسے حاصل کر سکتی ہے، جس میں ایک شخص کو بغیر کارروائی کے کلین چٹ دے دی جائے۔ ایک عام تاثر یہ ہے کہ وکلاء کی اس تحریک کو عوامی حمایت حاصل نہیں ہو گی، وکلاء کے اندر بھی اس حوالے سے اختلافات موجود ہیں۔اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ریفرنس کی سماعت آئینی باڈی کر رہی ہے، جس کا کام ہی ججوں کے کنٹریکٹ اور معاملات کو دیکھنا ہے۔ اب اگر اُسے ہی کام کرنے سے روک دیا جاتا ہے، تو پھر ججوں کے احتساب کے لئے ملک میں کون سا ادارہ بچتا ہے۔ یہ تو ججوں کو مادرِ پدر آزادی دینے کے مترادف ہو گا اور اس کے اثرات ہر شعبے پر پڑیں گے۔ یہی سیاست دان خود کہہ رہے ہیں کہ ججوں کو مقدس گائے بنا دیا گیا ہے، پھر تو باقاعدہ اسے تسلیم کر لیا جائے گا۔

دو تین وجوہات ایسی ہیں جو حکومت کے لئے غیبی امداد بن سکتی ہیں اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اُن کی خاطر خود حکومت نے کچھ بھی نہیں کیا،مثلاً پہلی وجہ تو موسم کی سختی ہے۔جب پرندے بھی اپنے گھونسلوں سے نکلنے کے روادار نہیں، ایسے میں اپوزیشن عوام کو سڑکوں پر لانا چاہتی ہے۔دوسری وجہ یہ ہے کہ ملک میں دہشت گردی کے واقعات بڑھ گئے ہیں اور فوج کے افسر و جوان شہید ہو رہے ہیں، جس سے اس تاثر کو تقویت مل رہی ہے کہ سیاست دانوں کو ملکی حالات کی پروا نہیں، وہ صرف احتساب سے بچنے کے لئے ملک میں انتشار پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ سلیکٹڈ وزیراعظم کہہ کر فوج پر بالواسطہ تنقید کو بھی اب عوام اچھی طرح سمجھتے ہیں، محسن داوڑ اور علی وزیر کے حق میں بیانات بھی درحقیقت فوج مخالف بیانیہ کا ہی حصہ ہیں،تیسری اور سب سے اہم غیبی امداد جو وزیراعظم عمرن خان کو مل سکتی ہے، وہ عوام کے اندر پیدا ہونے والا یہ تاثر ہے کہ حکومت کرپشن کے خلاف کسی دباؤ کا شکار ہونے کو تیار نہیں۔وزیراعظم عمران خان نے جو یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ کسی کرپٹ کو این آر او نہیں دیں گے،اُس پر عمل کر رہے ہیں۔ یہ وکلاء تحریک جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ حکومت کی چولیں ہلا دے گی، یہ اُس کی مضبوطی کا باعث بھی بن سکتی ہے، صرف عدالتیں بند کر دینے یا ضلع کچہریوں میں احتجاج کرنے سے حکومت کا کچھ نہیں پگڑتا، جب تک عوام اُس کے خلاف تحریک نہ چلائیں۔کم از کم اس ایشو پر عوام سڑکوں پر نہیں آئیں گے، موسم کی طرح سیاسی ماحول بھی بہت گرم ہے۔گرم موسم کا سب سے میٹھا پھل تو آم ہوتا ہے، گرم سیاست کی بھٹی سے کیا نکلتا ہے، اس کے لئے تھوڑا انتظار کرنا پڑے گا۔

مزید : رائے /کالم