عمرہ اور انکم ٹیکس

عمرہ اور انکم ٹیکس
عمرہ اور انکم ٹیکس

  

ایک معاصر کی اطلاع کے مطابق پاکستان میں عمرہ زائرین کی تعداد ٹیکس دہندگان سے زیادہ ہے۔ سعودی عرب کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 30 مئی تک 15لاکھ 90 ہزار 731 پاکستانی عمرہ ادا کرنے گئے، جبکہ وطن عزیز میں ٹیکس دہندگان کی تعداد 12 سے 14 لاکھ کے درمیان ہے۔ اس میں شبہ نہیں ہے کہ پاکستان میں ٹیکس دہندگان کی تعداد بہت کم ہے۔ 22 کروڑ آبادی کے ملک میں 14 لاکھ ٹیکس دہندگان ہیں۔ وزیراعظم عمران خان بھی یہی کہتے ہیں کہ پاکستان میں صرف ایک فیصد لوگ ٹیکس ادا کرتے ہیں۔

آزادی کے بعد 1935ء کے ایکٹ کو پاکستان کا آئین بنا یا گیا تھا۔ اس میں صرف یہ تبدیلی کی گئی تھی کہ جہاں ”ملکہ برطانیہ کی رعایا“ کے الفاظ تھے انہیں ”پاکستان کے عوام“ سے تبدیل کر دیا گیا۔ اس ایکٹ میں عوام کے لئے آزادی کا کوئی پیغام نہیں تھا۔ انگریزوں کے دور حکومت میں کاروباری لوگ پوری کوشش کرتے تھے کہ ان کا تذکرہ سرکاری کتابوں میں نہ ہو۔ سرکاری واجبات ادا نہ کرنا بھی اکثر برطانوی استعمار کے خلاف جدوجہد کا حصہ سمجھا جاتا تھا۔ 1935ء کے ایکٹ کو آئین پاکستان بنانے والے اس امر کو سمجھنے سے قاصر تھے کہ آزادی کے ثمرات عام آدمی تک پہنچانا بہت اہم ہے۔ اس دور کے بیورو کریٹ ایک ایسا نظام چلانا چاہتے تھے، جس میں امن و امان کا کوئی مسئلہ پیدا نہ ہو، مگر یہاں اس حقیقت کو نظرانداز کر دیا گیا کہ انگریزوں کی انتظامی مشینری آزادی کو روکنے میں ناکام رہی تھی۔ وہ مقصد جسے حاصل کرنے میں انگریز ناکام ہو گئے تھے،اسے اب دیسی انگریز حاصل کرنا چاہتے تھے۔ پاکستان کے نظام میں یہاں سے ہی مسئلہ پیدا ہوا۔ حکومت عوام کو یہ باور کرانے میں ناکام ہو گئی کہ جو ٹیکس اکٹھے ہوتے ہیں وہ خود عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ ہوتے ہیں اور اگر نہیں ہوتے تو ہونے چاہئیں۔اس کے علاوہ مختلف ادوار میں جو بھاری قرضے لئے گئے عوام کو ان سے بھی آگاہ نہیں کیا گیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ عوام میں ٹیکس کی ادائیگی کا کلچر ہی پیدا نہیں ہوا۔اعلیٰ ذہانت والے بیورو کریٹوں نے ٹیکس اکٹھا کرنے کے لئے بالواسطہ نظام کو فروغ دیا۔ اس کا ایک فلسفہ یہ بھی تھا کہ جہاں براہِ راست ٹیکس میں عوام یہ سوال کر سکتے تھے کہ ان کا ٹیکس کہاں خرچ ہوا وہاں بالواسطہ ٹیکس دینے والے کو احساس نہیں ہوتا کہ وہ ٹیکس دے رہے ہیں۔پاکستان میں بالواسطہ تقریباً ہر چیز پر ٹیکس ہے،مگر اکثر لوگ ٹیکسوں کو قیمت کا حصہ سمجھتے ہیں اور ان کے ذہن میں کبھی یہ سوال پیدا نہیں ہوتا کہ وہ یہ سوال اٹھائیں کہ ٹیکس کہاں خرچ ہوا؟

امریکہ جیسے ملک میں ٹیکس کا نظام مضبوط بنیادوں پر استوار ہے۔ وہاں ٹیکس ریٹرن نہ جمع کرانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ امریکہ میں اپالومشن کی مثال دی جاتی ہے۔ چاند پر بھیجا جانے والا یہ مشن ٹیکنالوجی کے مسائل کا شکار ہو گیا۔ خلا بازوں کی زندگی خطرے میں نظر آتی تھی۔ اپالومشن کا سربراہ اور ناسا مرکز کے سائنس دان صورتِ حال پر قابو پانے کی کوشش کر رہے تھے۔ صورتِ حال اتنی گمبھیر ہو گئی کہ صدر امریکہ بھی لائن پر آ گئے اور ساری صورتِ حال کا مشاہدہ کرنے لگے۔ اپالومشن اور سائنس دان تکنیکی معاملات میں اُلجھے ہوئے تھے کہ اچانک اپالومشن کے سربراہ نے دریافت کیا کہ آج زمین پر کون سی تاریخ ہے۔ اسے جب تاریخ بتائی گئی تو اس کے منہ سے بے ساختہ نکلا ”ہائے مارے گئے“۔ اس پر ناسا ہیڈ کوارٹر اور وہائٹ ہاؤس میں سب پریشان ہو گئے۔ خدشہ پیدا ہوا کہ کوئی بڑا حادثہ ہونے جا رہا ہے۔ ناسا کے چیف نے خلا باز سے دریافت کیا کہ کیا خیریت ہے۔ اس پر خلاباز نے بتایا کہ آج ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کی آخری تاریخ ہے،جبکہ وہ چاند پر ہے۔ اس پر ناسا کے چیف نے صدر امریکہ سے درخواست کی کہ وہ اپنے خصوصی اختیارات کے ذریعے خلا باز کی انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کی تاریخ میں اضافہ کر دیں۔ صدر امریکہ نے خلاباز کو یقین دلایا کہ وہ اس کے لئے تاریخ میں اضافہ کرتے ہیں۔ وہ اپنے مشن پر توجہ دے۔ اپالومشن خیریت سے زمین پر اترنے میں کامیاب ہو گیا، مگر خلاباز کو اپنی ریٹرن جمع کرانے کے سلسلے میں اچھا خاصا خجل خوار ہونا پڑا۔

پاکستان میں ٹیکس ریٹرن کی تاریخ میں بار بار اضافہ ہوتا ہے مگر بہت سے لوگ جو بالواسطہ اچھا خاصا ٹیکس دیتے ہیں وہ بھی ریٹرن جمع نہیں کراتے، کیونکہ عوام میں یہ تاثر عام ہے کہ ایک مرتبہ آپ کا نام ٹیکس دینے والوں میں شامل ہو گیا تو پھر آپ خواہ دیوالیہ ہو جائیں آپ سے ٹیکس کا تقاضا ہوتا رہے گا۔ ایف بی آر کے نئے چیئرمین شبر زیدی انکم ٹیکس کے نظام میں بڑی تبدیلیاں لانا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ بجٹ کے بعد فیلڈ افسران کو حاصل اختیارات ختم کر دیں گے۔ فیلڈ افسران کو سیکشن A-122 کے تحت جو اختیارات حاصل ہیں اگر وہ ختم ہو گئے تو اس کے بعد شبر زیدی صاحب کے بقول غیرضروری آڈٹ اور ٹیکس دہندگان کو غیر ضروری نوٹس بھجوانے کا سلسلہ بند ہو جائے گا۔

اس وقت پاکستان کو بڑے اقتصادی چیلنجوں کا سامنا ہے۔ معیشت کو بہتر بنانے کے لئے آئی ایم ایف کی کڑوی گولی بھی نگلی جا رہی ہے۔ حکومت کے اخراجات میں کمی اور آمدنی میں اضافے سے ہی معاملات بہتری کی طرف جا سکتے ہیں۔ معاشی ماہرین کی نئی ٹیم کیا کرتی ہے اس کا فیصلہ تو جلد ہو جائے گا۔ کہا جاتا ہے پاکستان خیرات دینے والوں میں اول نمبر پر ہے۔ عمرہ اور حج کرنے والوں میں دوسرے نمبر پر ہے،جبکہ کرپشن اور بدعنوانی کے حوالے سے ڈیڑھ سو سے زائد نمبر پر نظر آتا ہے۔ اتنی زیادہ خیرات اور عمرہ و حج کرنے والے لوگ کرپشن اور بدعنوانی کا شکار کیسے ہو سکتے ہیں؟ اس سوال کے متعدد جواب ہیں۔ کہا جا سکتا ہے کہ ہمارے ہاں انسانوں کے سافٹ ویئر ٹھیک کرنے پر زیادہ توجہ نہیں دی جاتی۔پورا زور اس کے ہارڈ ویئر پر لگا دیا جاتا ہے۔ اس لئے آپ کی ایسے لوگوں سے ملاقات ہوتی ہے جو عمرہ اور حج باقاعدگی سے کرتے ہیں،مگر کاروبار کے معاملے میں کسی اخلاقی، مذہبی یا قانونی پابندی کو قبول کرنے کے لئے آمادہ نہیں ہوتے۔ ان کا خیال ہے کہ عبادات کے ذریعے وہ اپنے ہر طرح کے گناہوں کا کفارہ ادا کر دیتے ہیں، لیکن حج اور عمرہ کرنے والے ہر شخص کے متعلق یہ فرض کرنا بھی درست نہیں ہے کہ اسے ٹیکس دہندہ ہونا چاہئے۔ ان میں آپ کو ایسے لوگ بھی ملتے ہیں،جو ساری زندگی مشقت کرتے ہیں۔ روپیہ روپیہ بچا کر حج یا عمرہ کے لئے رقم اکٹھی کرتے ہیں۔ اگر آپ کو کبھی ان دنوں ایئرپورٹ پر جانے کا اتفاق ہو جب عمرہ یا حج کا سیزن ہوتا ہے تو آپ کوایمان افروز واقعات کا مشاہدہ ہوتاہے۔ارض پاک کی زیارت کی خواہش ہر مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے۔ محکمہ انکم ٹیکس کے حکام کو ان لوگوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، جو ہر سال کئی کئی مرتبہ عمرہ کے لئے جاتے ہیں، مگر ٹیکس ادا نہیں کرتے۔ انہیں ان لوگوں کو ٹیکس کے جال میں نہیں لانا چاہئے،جو زندگی بھر کی جمع پونجی سے ارض پاک کا سفر کر تے ہیں اور گویا اپنی زندگی کا مقصد حاصل کرلیتے ہیں۔

مزید : رائے /کالم