ریفرنس، وفاق کے سینے میں نیا خنجر

ریفرنس، وفاق کے سینے میں نیا خنجر
ریفرنس، وفاق کے سینے میں نیا خنجر

  

ہمارے محترم شمشاد احمد خان صاحب سابق سیکرٹری خارجہ ایک اجلاس میں وزارت خارجہ اور سرکاری محکموں پرتنقید کا جواب کافی دیر تک مختلف پیرائے میں دیتے رہے۔ ہم پندرہ بیس شرکاء کسی طور پر بھی ان کی باتوں میں نہیں آ رہے تھے۔ بالآخر انہوں نے ایک مثال دی جس پر خاموشی طاری ہو گئی: ”دیکھئے! کسی بھی اعلیٰ منصب پر فائز شخص کی ذہنی سطح روڈ پر چلنے والی ویگن کے ڈرائیور سے زیادہ نہیں ہوتی۔ گاڑی کو آہستہ چلانے کے لیے مسافر جتنا مرضی چیخ و پکار مچائیں، ڈرائیور نے اپنی ہی مرضی کرنا ہوتی ہے۔“ اور بالآخر حادثہ ہو کر رہتا ہے۔ پھر کیا ہوتا ہے؟ اگر ڈرائیور بچ جائے تو چپکے سے غائب، ورنہ بقیہ لوگوں کے ساتھ وہ بھی قبرستان یا ہسپتال میں اور کیا۔ یحییٰ خان کو کسی ایک مسافر نے نہیں، پورے ملک نے چیخ چیخ کر کہا اور حبیب جالب نے ہم مسافروں کی کیا خوب نمائندگی کی:

گمان تجھ کو کہ رستہ کٹ رہا ہے

یقین مجھ کو کہ منزل کھو رہے ہو

اور پھر جس حادثے نے ہونا تھا، وہ ہو کر رہا۔ اس ملک کے عوام اپنے قرضدار وں سے یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ بھائی، دلی کے عجائب گھر میں پڑا وہ طمنچہ ہی ہمیں واپس کرا دو، واپس لے آؤ۔ پرویز مشرف کے بوئے ہوئے کانٹے اہل پاکستان نے اپنی پلکوں سے چن کر کچھ کم کیے تھے، اکبر بگٹی کی شہادت کی تلافی ابھی کما حقہ‘ نہیں ہوئی تھی کہ ویگن ڈرائیور نے اب پھر گاڑی کی رفتار تیز کر لی ہے۔ایک جنرل اعظم خان کے مثل ہماری بہادر فوج میں جنرل ناصر جنجوعہ بھی ہو گزرا ہے جس نے سانحہ اکبر بگٹی اور شازیہ مری والے حادثے سے پیدا شدہ نتائج کو بڑی محبت، بڑی لگاوٹ، بڑی محنت اور بڑے ایثار و قربانی سے زائل کرنے کی کوششیں کیں۔ اللہ نے ان کی کوششوں میں بڑی برکت ڈالی۔ ڈیڑھ عشرہ تک کرچی کرچی بلوچستان کے زخموں پر انہوں نے پھاہے رکھے۔ زخم قدرے مندمل ہونے کو تھے کہ ویگن ڈرائیور نے جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف ایک نامعقول سا ریفرنس دائر کرا کر ویگن کی رفتار پھر تیز کر لی ہے۔ اللہ ہی خیر کرے۔

مجھے جسٹس فائز عیسیٰ کی نہ تو وکالت کرنا ہے اور نہ مجھے ان کی کردار کشی میں کوئی دلچسپی ہے۔ بس اتنی خواہش ضرور ہے کہ اس نامعقول حرکت سے پیدا شدہ اور ممکنہ نتائج کو آپ قارئین کے علم میں ضرور لاؤں۔ اگر ویگن ڈرائیور کے ذہن میں یہ سودا سما چکا ہے کہ اس انداز گل افشانی قرطاس سے اس کی جیت ہو جائے گی یا کسی شخص یا ادارے کو وہ اپنا مطیع وفرماں بردار بنالے گا تو اس کے حق میں او ر ملک کے حق میں دعا ہی کی جا سکتی ہے۔ سب جانتے ہیں کہ ملک کے چار صوبوں میں سے پنجاب میں وفاق گریز فکر نہ ہونے کے برابر ہے۔ خیبر کے سابق فاٹا میں کسی حد تک یہ سوچ موجود ہے لیکن بحیثیتِ مجموعی یہ صوبہ بھی پاکستانیت کا شاہکار ہے۔ سندھ میں بھٹو صاحب کی پھانسی سے پیدا شدہ اثرات ان کی بیٹی نے بڑی حد تک زائل کر دیے تو ان کو شہید کر کے ایک دفعہ پھر وفاق شکن قوتوں کو تقویت دی گئی۔ خدا بھلا کرے، اس دوراہے پر آصف علی زرداری کے دو الفاظ دہکتے ہوئے الاؤ پر ابرِنیسا ں بن کر برسے، ’پاکستان کھپے‘۔ یہ دو الفاظ محض الفاظ نہیں تھے، یہ پاکستان کے حق میں اس و قت ابرگہر بار بن کر برسے۔ ذرا تصو ر کریں، ان دو بے جان سے الفاظ کے مابین اگر ’نہ‘ انفصال پیدا کر دیتا تو اس و قت ملک کے نقشے میں کہاں کہاں دراڑیں پڑتیں، آئندہ چل کرملک کے نقشے میں کیا کیاتغیرات رونما نہ ہوتے۔ یہاں آ کر میں زرداری دشمن قوتوں، بلکہ زیادہ بہتر ہے سیاست دان دشمن کارٹِل، کو ذرا سوچنے کا موقع دیتا ہوں۔ زرداری صاحب کی مبینہ کرپشن کی جمع تفریق ہو چکی ہے۔زرداری صاحب کی یہ کرپشن ہے یا نہیں، ابھی تک کسی عدالت نے یہ فیصلہ نہیں کیا۔ چلیے وہ ساری مبینہ کرپشن روپوں میں لکھ لیں۔ چند کروڑ؟ چند ارب؟ شاید یہ بھی نہیں، چلیے ایک کھرب روپے؟ اچھا چلیے، دس کھرب سے زیادہ تو ممکن ہی نہیں۔ مان لیا بربنائے بحث!

اب اس سیاستدان دشمن کارٹل یاز یر زمین مافیا سے گزارش ہے کہ ملک کے چوٹی کے پانچ دس ماہرینِ معاشیات، انتہائی تجربہ کار اور اپنی پسند کے ماہرین معاشیات جمع کریں۔ ان سے کہیں کہ اگر آصف زرداری صاحب پاکستان کھپے کی جگہ پاکستان نہ کھپے کہہ دیتے تو اس کے نتیجے میں کتنے روپوں میں نقصان ہوتا؟ ٹرینیں بند، راستے بند، پٹڑیوں کی اکھاڑ پچھاڑ، صوبائی نقل و حمل صفر، بین الاضلاعی نقل و حرکت ختم، تجارت منجمد، کالج اسکول جامعات سب کچھ بند۔ ماہرین معاشیات ذرا وہی نقصان سامنے لے آئیں۔ وہ نقصان کھربوں پدموں میں ہو گا اور سیاسی افراتفری اور نادیدہ ملکی کمزوری اس کے علاوہ۔سیاست کے طرۂ ہائے پُرپیچ کو سلجھانے کی صلاحیت پی ایچ ڈی یونیورسٹی پروفیسروں کے پاس نہیں ہے تو کسی اورادارے یا ملک چلانے والے موجودہ ویگن ڈرائیور سے بھلا کیا توقع کروں۔ قنوطیت سے میں ہمیشہ دور رہنے کا عادی ہوں لیکن جو محسو س کر رہا ہوں، کہہ دینا ضروری سمجھتا ہوں۔ لگتا ہے، یہ ویگن ڈرائیور کوئی حادثہ کر کے ہی دم لے گا۔ ڈرائیور خاصا طاقتور اور ہٹا کٹا ہے اور ہم کمزور اوربے بس مسافر سہمے بیٹھے ہیں۔ اللہ ہی خیر کرے۔

اب آئیے بلوچستان کی طرف! یہ ملک کا وہ واحد صوبہ ہے جس میں وفاق شکن افراتفری اور شورش اس درجے کی ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا ہے۔ ایک سے زیادہ وفاق شکن، ملک دشمن، او ر علیحدگی پسند تنظیمیں اس صوبے میں موجود ہیں۔ ایک طرف اس صوبے میں افغان حکومت کے مفادات ہیں جن کی خاطر وہ اس صوبے میں افراتفری پیدا کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتی۔ 1971ء میں پاکستان کے دو لخت ہونے پر شاہ ایران نے کہا تھا کہ اب پاکستان کے (نعوذ باللہ) مزید ٹکڑے ہوئے تو بلوچستان پر ایران کا قبضہ ہو گا۔ تو کیا ایران کی انقلابی حکومت اس ”معصوم سی“ خواہش سے دستبردار ہو گئی ہے؟ تو پھر کلبھوشن ایران میں کیا کر رہا تھا؟ کس کی اجازت سے کر رہا تھا؟ اگر کچھ تجارت ہی کر رہا تھا تو مجھے کہنے دیجیے کہ ایرانی انٹیلی جنس نہایت ناکارہ ہے، اس کے سرحدی محافظ ناکارہ ہیں جن کی نظروں سے بچ کر ہندوستانی نیوی کا یہ حاضر سروس افسر ہر دوسرے تیسرے مہینے بلوچستان کے دورے پر آتا تھا۔ اب ذرا شاہ ایران کے بیان کے ساتھ کلبھوشن کو ملا کر پڑھیے، ہو سکے تو ویگن ڈرائیور کو بھی پڑھائیں، شاید اس مخلوق کے دماغ میں کچھ آ جائے۔ ایک گوہرنایاب جنرل ناصر جنجوعہ تھا، ریٹائر ہو گیا۔ معلوم نہیں نمک کی اس کان میں وہ نمک بننے سے کیسے بچ گیا۔

قارئین کرام! جسٹس فائز عیسیٰ ریفرنس کے دائر ہوتے ہی عید سے پہلے کام والے دنوں میں صورت حال یہ تھی کہ صوبے بھر میں عدالتیں بند، وکیل ہڑتال پر، سائل دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں اور ملکی اخبارات انہیں مناسب جگہ نہیں دے رہے۔ کلبھوشن بھی تو اسی افراتفری کی سرمایہ کاری کرنے آیا کرتا تھا۔ تو فائز عیسیٰ کو نکال کر کیا ویگن ڈرائیور جیت جائے گا؟ اپنے حساب میں جیت جائے گا۔مقاصدکس کے پو رے ہوں گے؟ کلبھوشن بھی تو یہی سرمایہ کاری کرنے آتا تھا۔ اب تو ہندوستان کو کسی کلبھوشن اور مالی وسائل صرف کرنے کی ضرورت ہی نہیں۔ جی جناب! مودی کا جو یار ہے، غدار ہے غدار ہے لیکن وہ تو جیل میں ہے۔ قارئین کرام! خود فیصلہ کر لیں (نا)دانستگی میں مودی سے کون یاری نبھا رہا ہے۔ اس عدالتی بائیکاٹ سے پیدا شدہ اگلے نتائج ملاحظہ ہوں۔ پورا صوبہ بند اور منجمد! بلوچستان کے ان تمام قانونی حلقوں کوباقی صوبوں میں سے عدالتی بائیکاٹ کی صورت میں کوئی اخلاقی مدد نہیں مل رہی اور ملکی اخبارات انہیں مناسب جگہ نہیں دے رہے لیکن اس کا ردِعمل سوشل میڈیا پر ملاحظہ کر لیں، وہ بلوچ جو گزشتہ چند سالوں سے وفاق کا مقدمہ لڑ رہے تھے، وفاق کے لیے دن رات گالیاں سن سہہ رہے تھے، جسٹس فائز عیسیٰ ریفرنس کے بعد ان کا لب و لہجہ یکسر تبدیل ہو چکا ہے۔ ایک صاحب کو میں عرصے سے دیکھ رہا ہوں صبح شام وہ فوج کے حق میں لکھ رہے ہوتے تھے۔ مجھے بے حد خوشی ہوتی تھی اور ان کی انہی ”حرکتوں“ کے باعث ان سے دوستی بھی ہو گئی۔ فائز عیسیٰ ریفرنس کے بعد انہوں نے یہ کام کم کر دیا ہے۔ جی تو چاہتا ہے کہ ان سے پوچھوں، ان کی دل جوئی کروں، پھر خیال آتا ہے کہیں پھٹ نہ پڑیں۔ سوشل میڈیا پر بڑی احتیاط کی ضرورت رہتی ہے۔صوبے کے اندر پیدا شدہ سرسا می کیفیت میں وہ کب تک خود کو بچا پائیں گے؟

محترم الطاف حسن قریشی صاحب وہ فکری صحافی ہیں، جن کی تحریروں کے سایے میں پل کر میں جوان ہوا ہوں۔ میں ان کے لیے حرم پاک میں ہر دفعہ کے حج عمرہ میں دعا گو رہا ہوں۔ اللہ صحت سلامتی کے ساتھ ان کو طویل عمر دے۔ ان کی تحریروں سے اب بھی استفادہ کرتا ہوں۔ اگر وہ میری یہ تحریر پڑھیں تو میں بلوچستان میں جائے بغیر انہیں بتا دینا چاہتا ہوں اور ان کے توسط سے ویگن ڈرائیور، اس کے کلینر اور ہیلپروں کو بھی بتا دینا چاہتا ہوں کہ اس ریفرنس کے بعد بلوچستان کے ریگ زاروں، کوہساروں، مرغزاروں، جوئباروں اور کوچہ و قریہ جات میں محبت کا وہ زمزم اب اس قوت و طاقت کے ساتھ نہیں بہہ رہا جو گئے دنوں میں، مرحوم مشرقی پاکستان کے آخری ایام میں آپ کو اس دیس میں بہتا نظر آیا کرتا تھا۔ یہ ریفرنس نہیں ہے،وفاق کے سینے میں ایک صمصامِ آبدار ہے۔ میں سپریم جوڈیشل کونسل سے کوئی توقع نہیں رکھتا، کوئی التجا نہیں کرتا،جون پور کے قاضی سے کوئی کیا توقع کرے؟ ہاں ویگن ڈرائیور، کلینر اور ہیلپروں سے التجا کرتا ہوں کہ اب کسی حادثے کے نتیجے میں شاہ ایران کے ورثا خاموش نہیں بیٹھیں گے، بلوچستان ان کے لیے ایک ترنوالہ بنتا جا رہا ہے، براہ کرم یہ ریفرنس واپس لے لیں۔جو افراتفری اس صوبے میں ہندوستان نہیں پیدا کر سکاتھا،اس ریفرنس نے وہی کچھ کر دیا ہے۔

فرہنگ: اگر کوئی اس تحریر میں ویگن ڈرائیور سے مراد موجودہ وزیراعظم لے گا تو اس کے بھولپن پر میرے ہونٹ ذرا سے افقی زاویے پر پھیل جائیں گے۔

اعتذار: کوشش تو ہمیشہ رہتی ہے کہ جو لکھا جائے ذمہ داری اور صحت کے ساتھ لکھا جائے، پھر بھی بندہ بشر ہوں۔ہمدم دیرینہ (یعنی کم و بیش نصف صدی والے) پروفیسرڈاکٹر عتیق الظفر صاحب نے میری ایک تحریر کی طرف توجہ دلائی کہ صلیبی جنگ میں رچرڈشیردل نے صلاح الدین ایوبی کو گھوڑا نہیں بھیجا تھا بلکہ اس کے برعکس صلاح الدین ایوبی نے رچرڈ شیردل کو گھوڑا بھیجا تھا۔ یوں میری اصلاح تو ہوئی سو ہوئی، محبی نے فون کر کے ایک ”چوہنڈی“ بھی ماردی! ”شہزاد بھائی! اب آپ کو یقین کر لینا چاہیے کہ میں آپ کے کالم واقعی پڑھتا ہوں۔“

مزید : رائے /کالم