شام کے لیے جرمن مشن میں توسیع کی امریکی درخواست

شام کے لیے جرمن مشن میں توسیع کی امریکی درخواست

واشنگٹن(این این آئی)امریکا نے جرمنی سے درخواست کی ہے کہ وہ شام میں نگرانی اور تربیت پر مبنی اپنے فوجی مشن میں توسیع کرے تاہم داخلی سطح پر کیا حکمران اتحاد پارلیمان سے اس کی منظوری کرا سکے گا؟ جرمن اخبارکے مطابق ایک امریکی جنرل نے جرمنی سے باقاعدہ طور پر درخواست کی کہ وہ شام میں اپنے مشن میں توسیع کرے تاکہ وہ دہشت گرد گروہ اسلامک اسٹیٹ کے مکمل خاتمے کو یقینی بنایا جا سکے۔ امریکا کی مرکزی کمان کے سربراہ جنرل کینتھ مکینزی نے یہ درخواست ایک خفیہ خط میں کی، جو مئی میں جرمنی کے چیف آپ ڈیفنس جنرل ایبرہارڈ سورن کے نام ارسال کیا گیا۔اپنے خط میں جنرل مکینزی نے جرمن مشن کی خدمات اور سراہا اور پھر یہ درخواست کی کہ نگرانی کے لیے پروازوں اور لڑاکا طیاروں کو فضا ہی میں ایندھن فراہم کرنے اور فوجی تربیت کے عوامل پر مبنی مشن میں توسیع کی جائے۔ اپنے خط میں انہوں نے مزید لکھا کہ کولیشن اور جوانوں کے لیے یہ ضروری ہے کہ فضا سے نگرانی کے بعد ان تک لازمی معلومات پہنچتی رہیں تاکہ جنگ میں ان کا پلڑا بھاری رہے۔جرمنی کی مخلوط حکومت نے پچھلے سال اس پر اتفاق کیا تھا کہ شام میں نگرانی کے لیے پروازوں اور لڑاکا طیاروں کو فضا ہی میں ایندھن فراہم کرنے کا مشن اکتوبر سن 2019 تک ختم کر دیا جائے گا۔ یہ مشن سن 2015 سے جاری ہے۔ جرمن چانسلر میرکل کے حکمران اتحاد میں شامل سوشل ڈیموکریٹس کی جماعت (ایس ڈی پی)کی جانب سے حال ہی میں یہ دہرایا گیا تھا کہ وہ اس مشن میں توسیع کے کسی منصوبے کی حمایت نہیں کرے گی۔دوسری جانب ایس پی ڈی سے تعلق رکھنے والے جرمن وزیر خارجہ ہائیکو ماس نے پچھلے دنوں ایسا کہا کہ اس مشن میں وسعت کا امکان موجود ہے۔ ماس جمعے سات جون کو اردن میں تھے۔

، جہاں انہوں نے اس ایئر بیس کا دورہ بھی کہاکہ جہاں ان مشنز کے لیے استعمال ہونے والے جرمنی کے ٹورناڈو طیارے تعینات ہیں۔ جرمن وزیر خارجہ نے امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو سے ملاقات کے بعد کہا تھا کہ درست وقت پر ہر معاملہ جرمن پارلیمان میں پیش کیا جائے گا۔

مزید : عالمی منظر