عرب ممالک کو ایران سے دشمنی پالنے کی ضرورت نہیں: سابق قطری وزیر اعظم 

عرب ممالک کو ایران سے دشمنی پالنے کی ضرورت نہیں: سابق قطری وزیر اعظم 

  

دوحہ(این این آئی)قطر کے سابق وزیراعظم اور وزیرخارجہ حمد بن جاسم آل ثانی نے سعودی عرب پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہاہے کہ گذشتہ ماہ مکہ معظمہ میں ہونے والی خلیج تعاون کونسل اور عرب سربراہ کانفرنسوں کے دوران قطری وزیراعظم نے اصولی موقف اختیارکیا تاہم بعد ازاں قطر نے مکہ کانفرنسوں کے اعلامیوں پرتنقید کرتے ہوئے انہیں مسترد کردیا تھا۔برطانوی اخبارکو دئیے گئے انٹرویو میں حمد بن جاسم نے کہا کہ خلیج تعاون کونسل کے تمام رْکن ممالک کوبرابری کی بنیاد پرایک دوسرے کیساتھ معاملات استوار کرنا چاہئیں۔انہوں نے سعودی عرب پر تنقید کرتے ہوئے مزید کہا کہ ریاض دوحہ کی میزبانی میں 2022ء میں ہونے والے فٹبال کپ کی تیاریوں کو سبوتاڑ کرنے میں سرگرم ہے مگر وہ اس حوالے سے سعودی عرب کیخلاف اپنے دعوے کیلیے کوئی ثبوت پیش نہیں کرسکے۔ایک سوال کے جواب میں سابق قطری وزیراعظم نے سعودی عرب پرشام کی خانہ جنگی کے حوالے غفلت برتنے کا الزام عاید کیا اور کہا کہ شام میں اسد رجیم کے خلاف سعودی عرب کی حمایت سیقائم ہونے والے اتحاد نے شام میں خانہ جنگی کی روم تھام اور پناہ گزینوں کے مسائل کے حل کے لیے کوئی کام نہیں کیا۔ایک دوسرے سوال کے جواب میں حمد بن جاسم نے کہا کہ خلیج تعاون کونسل کیچھ رکن ملکوں بحرین، کویت، اومان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان طبیعی نوعیت کے متوازن تعلقات کا قیام ضروری ہے، مگر سعودی عرب کی وجہ سے یہ اتحاد اپنے اصل مقاصد حاصل نہیں کرسکا۔ایران کے ساتھ تعلقات کے قیام کے حوالے سے بات کرتے ہوئے حمد بن جاسم نے کہا کہ عرب ممالک کو ایران کے ساتھ دشمنی پالنے کی ضرورت نہیں۔

 عرب ممالک کو خارجی دنیا تک پہنچنے کے لیے ایران کی بری، بحری اور فضائی حدود سے گذرنا پڑتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کے کہنے پر دوسرے عرب ملکوں کو خود کشی نہیں کرنی چاہیے۔ ایران کے ساتھ متوازن تعلقات عرب ممالک کی ضرورت ہیں۔ جس طرح یورپی یونین کے رکن ممالک ایک دوسرے کیساتھ مکمل یکجہتی کے ساتھ تعاون کررہے ہیں۔ اسی طرح عرب ممالک اور ایران کو اختلافات ختم کرنے آگے بڑھنا چاہیے۔

مزید :

عالمی منظر -