خطے میں چین کا اثر و رسوخ کم کرنے کیلئے مودی کا مالدیپ، سری لنکا کا دورہ، دفا ع، جاسوسی کے معاہدے 

خطے میں چین کا اثر و رسوخ کم کرنے کیلئے مودی کا مالدیپ، سری لنکا کا دورہ، دفا ...

  

مالے،کولمبو(مانیٹرنگ ڈیسک)بھارتی وزیراعظم نریندر مودی دوبارہ الیکشن جیتنے کے بعد ہمسایہ ملکوں مالدیپ اور سری لنکا کادورے کر کے گزشتہ روز بھارت واپس پہنچ گئے۔انہوں نے یہ دورے اپنی پالیسی ”ہمسائے سب سے پہلے‘‘کو فروغ دینے اور چین کا اثرو رسوخ کم کرنے کے تناظر میں کئے۔دوسری مرتبہ منصب وزارت عظمیٰ سنبھالنے کے بعد نریندر مودی بظاہر اپنی پالیسی ’ہمسائے پہلے‘ پر توجہ مرکوزکئے ہوئے ہیں۔ وہ اس پالیسی کو فروغ دینے کے حوالے سے دو روز قبل ہفتہ کے روز مالدیپ کیلئے روانہ ہوئے۔ مالدیپ کے نئے صدر ابراہیم محمد صالح نے مودی کا پرتپاک استقبال کیا،ابراہیم صالح نے مامون عبدالقیوم کو گزشتہ برس صدارتی انتخابات میں حیران کن انداز میں شکست دی تھی۔ مامون عبدالقیوم کے دورِ صدارت میں مالدیپ کا جھکاؤ واضح طور پر چین کی جانب تھا۔ابراہیم محمد صالح کی صدارت میں قائم ہونے والی نئی حکومت نے ”سب سے پہلے بھارت“کی پالیسی اپنانے کا اعلان کیا ہے۔ مودی نے صالح کی تقریب حلف برداری میں بھی خاص طور پر شرکت کی تھی۔مالدیپ کے دورے کے دوران مجلس کہلانے والی پارلیمان سے خطاب میں مودی نے انڈو پسیفک سمندری علاقے میں استحکام کو دونوں ملکوں کی ترقی و خوشحالی کے لیے لائف لائن قرار دیا۔اس سے قبل دونوں ممالک کے درمیان دفاعی سطح پر دو معاہدے ہوئے جبکہ بھارت کی جانب سے مالدیپ کی ترقی کیلئے مالی تعاون کے حوالے سے بھی معاہدے پر دستخط ہوئے۔ انڈو پسیفک سمندری علاقے میں دفاعی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کیلئے ساحلوں پرریڈار نصب کرنے کے حوالے سے دونوں ممالک میں معاہدہ پر دستخط کئے گئے جبکہ بھارت مالدیپ افواج کے درمیان مشترکہ ٹریننگ کیمپ قائم کرنے کا معاہدہ بھی طے پایا۔دریں اثنا بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اتوار کی صبح سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو پہنچے۔ انہوں نے شیڈول سے ہٹ کر سینٹ انتھونی چرچ کا بھی دورہ کیا اور ہلاک ہونیوالوں کی یاد میں پھول چڑھائے۔ چرچ پہنچنے پر انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ ”انہیں یقین ہے کہ دہشت گردانہ حملوں کے بعد سری لنکا پھر ترقی کی شاہراہ پر ہو گا، بزدلانہ دہشت گردانہ حملوں سے سری لنکا کے جذبے کو کمزور کرنا ممکن نہیں،بھارتی عوام سری لنکا کیساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں“۔بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اْن کی یہ پالیسی قابل تعریف ہے لیکن دوبارہ الیکشن جیت کر وزیراعظم کا منصب سنبھالنے کے بعد انہیں اْن ممالک کا انتخاب کرنا چاہیے تھا، جن سے اْن کی سرحدیں جڑی ہوئی ہیں۔ ان میں پاکستان، بنگلہ دیش، نیپال اور چین خاص طور پر اہم ہیں۔ سری لنکا اور مالدیپ کی سرحدیں بھارت سے جڑی ہوئی نہیں ہیں اور درمیان میں سمندر حائل ہے۔ مودی اورسری لنکا کے صد  میتھری سری سینا کے مابین دو طرفہ تعلقات پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ مودی قبل ازیں سن 2017 میں بھی سری لنکا کا دورہ کر چکے ہیں۔

مودی دورہ

مزید :

صفحہ اول -