30جون کے بعد بے نامی اثاثوں کیخلاف کارروائی، پاکستانیوں کے بیرون ملک 12ارب ڈالر ز کا پتا چلا لیا: شہزاد اکبر 

30جون کے بعد بے نامی اثاثوں کیخلاف کارروائی، پاکستانیوں کے بیرون ملک 12ارب ...

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیر اعظم کے معاون خصوصی شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ عوام 30 جون سے قبل ایمنسٹی سکیم سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے اثاثے ظاہر کردیں، اس کے بعد کارروائی کا آغاز کریں گے۔اس موقع پر وزیر اعظم کے معاون خصوصی شہزاد اکبر نے ایمنسٹی اسکیم کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 'اثاثہ جات ظاہر کرنے کی اسکیم کاروباری برادری کا دیرینہ مطالبہ تھا، ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اٹھانے کی مدت 30 جون تک ہے۔ان کا کہنا تھا کہ '26 ممالک سے ڈیڑھ لاکھ اکاؤنٹس کی معلومات حاصل کی ہیں، اور اس کے علاوہ 10 سے 12 ہزار جائیدادوں کی معلومات حکومت کو موصول ہوئی ہیں۔انہوں نے کہاکہ 30 جون کے بعد کارروائی کا آغاز ہوگا جس کے تحت بے نامی اثاثوں کو وفاقی تحقیقاتی ادارہ ضبط کرسکے گا اور اس کے مالک کو 7 سال قید ہوسکتی ہے۔معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ 30 جون تک عوام بے نامی اثاثوں کو ظاہر کرسکیں گے اور یہ آخری موقع ہے کیونکہ شاید مستقبل میں ایسی اسکیم حکومت دوبارہ نہیں لاسکے گی۔ان کا کہنا تھا کہ اس اسکیم سے 1985 کے بعد سے سرکاری دفاتر میں تعینات رہنے والے افراد فائدہ نہیں اٹھاسکتے۔شہزاد اکبر نے کہا کہ پاکستان کی گرے اکنامی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لیے حکومت ہرممکن اقدامات اٹھارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ بینامی ایکٹ قانون کا نفاذ بہت ضروری ہے، جتنے بے نامی اثاثے ہوں گے انہیں ضبط کیا جائے گا، پاکستان نے برطانیہ کے ساتھ مفاہمتی یاداشت پر دستخط کیے ہیں، جس سے دونوں ملک شہریوں کی بینکنگ معلومات کا تبادلہ کرسکیں گے۔معاون خصوصی نے مزید کہا کہ شہباز شریف کے دور حکومت میں سلمان شہباز کے اثاثے 85 فیصد بڑھے، شہبازشریف کے ایک صاحبزادے کو ایک ارب 30 کروڑ روپے براہ راست موصول ہوئے مگر شہباز شریف کسی سوال کا جواب نہیں دے رہے، شاید شہبازشریف اثاثوں سے متعلق لندن سے جواب لے کر آئے ہوں۔فیصل واوڈا کے خلاف تحقیقات سے متعلق شہزاد اکبر نے کہا کہ فیصل واوڈا اور خسرو بختیار کے خلاف شکایات نیب میں تصدیق کے مرحلے پر ہیں تاہم  فیصل واوڈا کے جو اثاثے بتائے جا رہے ہیں میرے خیال میں وہ ظاہر شدہ ہیں۔

شہزا د اکبر 

مزید :

صفحہ اول -