سگریٹ، مشروبات پر ہیلتھ ٹیکس کی منظوری، 6ہزار 800ارب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ کل پیش کیا جائے گا غریب طبقے پر کم سے کم بوجھ ڈالا جائے سول اداروں کے اخراجات بھی کم کئے جائیں: وزیر اعظم

سگریٹ، مشروبات پر ہیلتھ ٹیکس کی منظوری، 6ہزار 800ارب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ ...

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)وفاقی بجٹ 2019-20 کل پیش کیا جائے گا۔ وزیراعظم عمران خان نے بجٹ کو حتمی شکل دینے کے لئے کابینہ کا خصوصی اجلاس منگل کو طلب کر لیا۔ ملازمین کی تنخواہوں میں حتمی اضافے اور چینی پر سیلز ٹیکس بڑھانے پر طویل غور کئے جانے کا امکان ہے۔ ٹیکس رقوم میں 1400 ارب روپے کا اضافہ کیا جا رہا ہے۔بجٹ 11 جون کو قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ کابینہ 6 ہزار 800 ارب روپے سے زائد کے وفاقی بجٹ کی منظوری دے گی۔ قرضوں پر سود کی ادائیگی کیلئے 2500 ارب روپے سے زائد کی رقم مختص کرنے کی تجویز ہے، وفاق کے ترقیاتی پروگرام کیلئے 925 ارب روپے مختص ہوں گے۔ایف بی آر کی ٹیکس وصولیوں کا ہدف 5 ہزار 5 سو 50 ارب روپے رکھنے کی تجویز زیر غور ہے۔ 14سو ارب روپے کے قریب ٹیکس وصولیوں میں اضافہ کیا جائے گا۔چینی پر سیلز ٹیکس 8 سے بڑھا کر 17 فیصد کرنے کی تجویز دی جا رہی ہے، پولٹری مصنوعات، الیکٹرونک مصنوعات سمیت درجنوں اشیا پر ٹیکس اور ڈیوٹیوں میں اضافے، لگڑری اشیا کی درآمد پر 2 فیصد اضافی ڈیوٹی کو بڑھا کر 3 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔وفاقی بجٹ میں پانچ برآمدی شعبوں کیلئے زیرو ریٹنگ ختم کرنے کی بھی تجویز ہے، کھادوں کی قیمتوں میں کمی کی منظوری بھی متوقع ہے، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن میں 10 سے 15 فیصد اضافے کی تجاویز زیرغور آئیں گی۔تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کی حتمی منظوری کابینہ منگل کو دے گی جبکہ تنخواہ دار طبقے کی ٹیکس چھوٹ میں بھی ردو بدل کیا جائے گا۔۔کابینہ کی منظوری کے بعد بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔دوسری طرف وزیر اعظم نے معاشی ٹیم کو غریب طبقے پر کم سے کم بوجھ ڈالنے کی ہدایت کردی۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ عوام دوست اور معاشی استحکام کے پیش نظر بنایا جائے، وزیراعظم نے معاشی ٹیم کو ملاقات میں باقاعدہ ہدایت کردی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم عمران خان سے مشیر خزانہ حفیظ شیخ اور گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر نے ملاقات کی۔ملاقات میں وزیراعظم نے بجٹ تیاری اور ممکنہ حجم سے متعلق معاشی معاہرین سے مشاورت کی۔ بتایا گیا ہے کہ مشیر خزانہ، گورنر اسٹیٹ بینک اور چیئرمین ایف بی آر نے بھی تجاویز وزیراعظم پیش کر دی ہیں۔ معاشی ٹیم نے وزیراعظم کو بجٹ میں ٹیکس کے نفاذ اور اہداف سے متعلق آگاہ کیا۔ معاشی ٹیم نے وزیراعظم عمران خان کو آئندہ بجٹ سے متعلق تجاویز پر بریفنگ دی۔ملاقات میں چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی اور اقتصادی ماہرین کی بھی شریک تھے۔ وزیر اعظم عمران خان نے سول اداروں کے اخراجات کم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر فوج اپنے اخراجات کم کرسکتی ہے تو سول ادارے کیوں نہیں کرسکتے ذرائع کے مطابق اجلا میں وزیر اعظم نے بجٹ میں سول اخراجات میں بھاری کٹوتی کی ہدایت کردی۔ذرائع کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ تمام سول ادارے اپنے اخراجات کم کریں اگر فوج اپنے اخراجات کم کرسکتی ہے تو سول ادارے کیوں نہیں؟ذرائع نے بتایا کہ وزیر اعظم نے ہدایت دی ہے کہ حکومت کفایت شعاری پر سختی سے عمل کرے اور بجٹ میں غریبوں پر کم سے کم بوجھ ڈالا جائے۔دوسری جانب حکومت نے آئندہ نان فائلرزکے گرد گھیرا تنگ کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ غیررجسٹرڈ انڈسٹریل اورکمرشل صارفین پرسیلزاورانکم ٹیکس میں اضافہ کرنے کی تجویز پیش کردی۔ ایسے صارفین پرسیلزٹیکس کی شرح 5 فیصد سے بڑھا کر 20 فیصد کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ جن صارفین کابل 20 ہزار روپے ماہانہ سے زائد ہوگا، یہ ٹیکس ان پرلگے گا۔اسی طرح بجٹ میں اشرافیہ کیلئے این ٹی این کی شرط لازمی کرنے کی تجویزدی گئی ہے۔ ایسے صارفین کو این ٹی این دکھانا ہوگا جن گھریلو صارفین نے سالانہ10لاکھ روپے بجلی کا بل ادا کیا ہوگا۔ اسی طرح ٹیکس فائلرزکوہی زرعی آمدن پر چھوٹ ملے گی۔ نان فائلرزکے بزنس کلاس ایئرٹکٹ پرودہولڈنگ ٹیکس کی شرح دوگنی اورنان فائلرز انڈسٹریل اورکمرشل صارفین پرانکم ٹیکس کی شرح 25 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔مزید برآں حکومت نے بجٹ میں سگریٹ اور کاربونیٹڈ ڈرنکس مہنگی کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ حکومت نے سگریٹ کی ہرڈبی پر 10روپے اورکاربونیٹڈ ڈرنکس کی 250 ملی لیٹر کی بوتل پر ایک روپے ہیلتھ ٹیکس لگانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ سگریٹ اور دیگر مصنوعات کی غیر قانونی پیداوار اور تجارت روکنے کیلئے اقدامات اٹھانے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے، جبکہ سگریٹ اور دیگر مصنوعات کی غیر قانونی پیداوار اور تجارت روکنے کیلئے مانیٹرنگ کی جائے گی۔پاکستان میں ایک کروڑ 70 لاکھ افراد تمباکونوشی کرتے ہیں۔ سالانہ 143 ارب 21 کروڑ روپے کی تمباکو نوشی کی جاتی ہے۔جبکہ ملک میں تمباکو نوشی سے ایک لاکھ 60 ہزار افراد ہلاک ہوجاتے ہیں۔ حکومت پاکستان نے نئے مالی سال میں 5 ہزار 550 ارب روپے کی ٹیکس وصولی کا فارمولا طے کر لیا۔ذرائع کے مطابق نئے مالی سال 20-2019 کے بجٹ کی ترجیحات کا تعین کر لیا گیا۔ نئے مالی سال میں ایک ہزار 400 ارب روپے کی ٹیکس وصول کالا دھن رکھنے والوں سے کی جائے گی۔امراء پر ٹیکس بڑھانے اور اورموجودہ ٹیکس گزاروں کو ریلیف فراہم کرنے کی بھی حکمت عملی بھی طے کر لی گئی ہے، بجٹ میں پسماندہ اور غریب طبقات کی فلاح بہبود پر بھرپور توجہ دینے کا ویژن بھی شامل کیا گیا ہے اور اس ضمن میں احساس پروگرام کے لیے مختص رقم 100 ارب روپے سے بڑھا کر180 ارب روپے کی گئی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ 85 فیصد بجلی کے چھوٹے صارفین اور 40 فیصد چھوٹے گیس صارفین کے لیے بجلی اور گیس کی قیمتوں اضافہ نہیں کیا جائے گا۔آئندہ مالی سال میں 200 سے 250 ارب روپے کی سبسڈی بھی دی جائے گی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو مناسب سطح پر رکھنے کے لیے ٹیکس اور لیوی میں ایڈجسٹمنٹ کی جائے گی۔ اسی طرح بیرونی ادائیگیوں کے توازن کو درست کرنے کے لیے درآمدات کی حوصلہ شکنی بھی کی جائے گی اور غیر ضروری درآمدات کی حوصلہ شکنی کے لیے ان پر اضافی ڈیوٹی اور ریگولیٹری ڈیوٹیوں میں اضافہ کیا جائے گا۔نجی شعبے میں درآمدات کی حوصلہ شکنی کے لیے ان کے زرمبادلہ میں کیش مارجن کی شرح بڑھانے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔دوسری جانب سگریٹ پر صحت ٹیکس کے نفاذ کی حتمی منظوری دے دی گئی ہے۔۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان سے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے ملاقات کی جس میں صوبے میں امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ زرائع کے مطابق وکلا ء احتجاج کے دوران کی حکمت عملی پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر اعظم نے کہاکہ قانون کی حکمرانی اور امن و امان کی صورتحال پر سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ذرائع کے مطابق ملاقات میں صوبائی حکومت کی کارکردگی پر بھی بات چیت کی گئی،پنجاب حکومت کے آئندہ بجٹ سے متعلق امور بھی زیر غور آئے۔۔

نیا بجٹ

لاہور (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) پنجاب میں نئے ٹیکس لگانے کی تیاریاں، آئندہ مالی سال کے بجٹ میں 25 سے 30ارب روپے کے قریب ٹیکس لگانے کی تجاویز تیار کر لی گئیں، وزیر اعظم عمران خان نے پنجاب بجٹ کی تجاویز سے متعلق جائزہ اجلاس سوموار کو طلب کر لیا۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار، وزیر خزانہ سمیت 4 رکنی ٹیم اسلام آباد طلب کر لی گئی، نئی ترقیاتی سکیموں سے متعلق وزیراعظم سے منظوری کے بعد بجٹ میں شامل کیا جائے گا۔پنجاب حکومت کی جانب سے آئندہ سال 5عشاریہ 2فیصد گروتھ ریٹ بڑھانے کی بھی تجویز تیار کی گئی ہے، پنجاب میں مالی سال 20-2019 کے بجٹ میں 25 سے 30ارب روپے کے ٹیکس لگانے کی تجاویز تیار کی گئی ہیں۔ محکمہ خزانہ پنجاب ذرائع کے مطابق موٹرویز، ریسٹورنٹ پر پراپرٹی ٹیکس لگائے جانے کی تجویز ہے۔ زرعی آمدنی کی شرح بڑھانے اور پروفیشنل ٹیکس کا دائرہ کار بھی بڑھانے کی تجویز زیر غور ہے۔وکلاء پروفیشنل ٹیکس لگانے کی تجویز مؤخر کر دی گئی، پنجاب میں فیول کے استعمال پر ایک فیصد نیا کاربن ٹیکس لگانے کی تجویز ہے، کمرشل بلڈنگز پر پراپرٹی ٹیکس لگانے کی تجاویز بھی دی گئی ہیں۔ بیوٹی پارلر اور ہیئر ڈریسرز پر بھی ٹیکس لگانے کی بھی تجویز تیارکی گئی ہے۔

مزید :

صفحہ اول -