عوام دشمن پالیسیوں کی اجازت نہیں دے سکتے،عوامی پارٹی نے سول نافرمانی تحریک چلانے کی دھمکی دیدی

      عوام دشمن پالیسیوں کی اجازت نہیں دے سکتے،عوامی پارٹی نے سول نافرمانی ...

  

چارسدہ / پشاور(آن لائن،این این آئی) حکومت کو عوام دشمن پالیسیوں کی اجازت نہیں دیں گے، ہمارا حق تسلیم نہ کیا گیا تو سول نافرمانی کی تحریک شروع کر دیں گے۔عمران قبائلی عوام سے کئے گئے وعدے پورے کریں، مہنگائی کا طوفان اسی طرح جاری رہا تو انقلاب کا راستہ کوئی نہیں روک سکتا۔ ان خیالات کا اظہار اے این پی رہنماؤں اسفندیار ولی خاان اور ایمل ولی خان نے مختلف جلسوں اور جلوسوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تفصیلات کے مطابق عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ عمران خان قبائلی علاقوں کے عوام کے ساتھ کئے گئے وعدے پورے کریں تب ہی وہاں امن ہوسکتا ہے، اگر مہنگائی کا طوفان اسطرح جاری رہا تو انقلاب کا راستہ کوئی نہیں روک سکتا۔اتوار کو چارسدہ میں مہنگائی کے خلاف احتجاج کے دوران شرکا سے خطاب کرتے ہوئے اسفندیار ولی نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی مولانا فضل الرحمان کی سربراہی میں حکومت کے خلاف ہونے والی اپوزیشن کی اے پی سی کا فیصلہ ماننے کے پابند نہیں لیکن 14 جون کو ججز کے خلاف ریفرنس ایشو پر ہم وکلا اور اپوزیشن کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے۔دریں اثناء ملک میں کمر توڑ مہنگائی اور عوام دشمن پالیسیوں کیخلاف صوابی اور مہمند میں بڑے احتجاجی مظاہروں سے خطاب کرتے ہوئے اے این پی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا کہ حکومت کو اپنی مدت پوری کرنی چاہئے البتہ عوام دشمن پالیسیوں کی اجازت کسی صورت نہیں دیں گے،ہمارا حق تسلیم نہ کیا گیا توسول نافرمانی کی تحریک شروع کر دیں گے، پی ٹی آئی حکومت کی جانب سے قبائلی اضلاع میں انتخابات ملتوی کرانے کیلئے الیکشن کمیشن کو لکھا گیا خط اس بات کا ثبوت ہے کہ صوبائی حکومت نے الیکشن سے قبل اپنی شکست تسلیم کر لی ہے۔ ایمل ولی خان نے کہا کہ صوبائی حکومت نے حالات کی خرابی کی بنیاد پر قبائلی انتخابات ملتوی کرانے کیلئے الیکشن کمیشن کو خط لکھا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت نے شکست تسلیم کر لی ہے، انہوں نے کہا کہ اس سے قبل اے این پی نے بھی الیکشن کمیشن کو الیکشن بارے خط تحریر کیا جس کا انتہائی منفی جواب دیا گیا،اب اگر الیکشن کمیشن انتخابات ملتوی کرتا ہے تو یہ اس ادارے کی جانبداری کا ثبوت ہو گا، انہوں نے کہا کہ کٹھ پتلی وزیر اعظم قبائلی علاقوں میں امن کا کریڈٹ لیتے رہے ہیں لیکن خط کے بعد وزیر اعظم اور مقتدر قوتوں کی جانب سے قیام امن کے کریڈٹ پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے، انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن قبائلی انتخابات کے حوالے سے تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر فیصلہ کرے،ایمل ولی خان نے کہا کہ ہمیں اقتدار کا لالچ نہیں صرف عوامی مفاد کے پیش نظر سڑکوں پر نکلے ہیں اور پختونوں کا حق ہر صورت حاصل کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ہمارا کوئی ذاتی مفاد نہیں صرف عوامی مفاد میں میدان میں نکلے ہیں اور باچا خان کے عدم تشدد کے فلسفے پر کاربند ہیں، کسی نے ہمارے راستے میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی تو سول نافرمانی کی تحریک شروع کر دیا جائے گی، انہوں نے کہا کہ آنے والا بجٹ عوام دشمن ہوا تو اسلام آباد میں دھرنا دیا جائے گا جو حکومتی پالیسیوں پر نظر ثانی تک جاری رہے گا۔

اے این پی

مزید :

صفحہ آخر -