مودی کا ہمسائیوں سے بہتر تعلقات پالیسی“ کی آڑ میں دورہ مالدیپ 

مودی کا ہمسائیوں سے بہتر تعلقات پالیسی“ کی آڑ میں دورہ مالدیپ 

مالے،کولمبو(مانیٹرنگ ڈیسک،صباح نیوز)بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے ”ہمسائیوں سے بہتر تعلقات پالیسی“ کی آڑ میں دوسری مرتبہ اقتدار سنبھالتے ہی ہفتے کے روز پہلے سرکاری دور ے پر مالدیپ پہنچے جہاں صدر ابراہین صالح نے انہیں خوش آمدیدکہا،تو ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات بڑھانے کیلئے معاہدے بھی ہوئے،اس موقع پر بھارتی وزیراعظم نے مالدیپ کی پارلیمنٹ سے بھی خطاب کیا۔دونوں ممالک کے درمیان مالدیپ کی ترقی میں بھارتی مالی تعاون،مالدیپ کے ساحلی علاقوں پر دفاعی نقل و حرکت کی جاسوسی کی غرض سے ریڈار سسٹم لگانے اور افواج کے درمیان مشترکہ ٹریننگ سنٹر بنانے کے دفاعی معاہدوں پر دستخط ہوئے۔مالدیپ جانے سے قبل مودی نے کیرالہ ریاست میں قیام کیا اور ایک مندرمیں حاضری دی،اس موقع پر لوگوں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کے لیڈر عوامی مزاج پہنچانے میں غلطی کرگئے۔ لوگوں کو ملکی سالمیت زیادہ عزیز ہے اسلئے ہم نے کشمیر کو ہم سے چھیننے کے دشمنوں کو کرارا جواب دیکر لوگوں کے دل جیت لئے۔وزیر اعظم نے کہا کہ ہم کشمیر کو کسی بھی قیمت پر بھارت سے الگ نہیں ہونے دیں گے۔ مالدیپ کی پارلیمنٹ سے خطاب میں دہشت گردی کو دورحاضر کا سب سے بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے پاکستان کا نام لیے بغیر کہا کہ حکومت حمایت یافتہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے متحد ہونے کی ضرورت ہے اور اسے پیسہ اور شہ د ینے واالوں کو الگ تھلگ کیا جانا چاہیے۔ہندوستانی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے نہ تو اپنے بینک ہوتے ہیں اور نہ ہی ہتھیاروں کی فیکٹری پھر بھی انھیں پیسے اور ہتھیاروں کی کبھی کوئی قلت نہیں ہوتی۔انہوں نے کہا کہ پانی اب سر سے گزر چکا ہے اس لئے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے اب پوری دنیا کو متحد ہو کر اقدامات کرنے ہوں گے۔بھارتی وزیراعظم نریندر مودی مختصر دورے پر سری لنکا پہنچ گئے جہاں کولمبو ائیرپورٹ پر سری لنکن ہم منصب رانل وکرم سنگھے نے ان کا استقبال کیا۔بھارتی وزیراعظم نے  سری لنکن صدر میتھری پالا سری سینا سے بھی ملاقات کی۔

مودی

مزید : صفحہ اول