افغانستان ،طالبان کی فورسز ،قبائلوں سے جھڑپیں ،6پولیس اہلکاروں سمیت 31افراد ہلاک ،11زخمی

  افغانستان ،طالبان کی فورسز ،قبائلوں سے جھڑپیں ،6پولیس اہلکاروں سمیت ...

کابل ، فرح(آئی این پی/شِنہوا، این این آئی)افغانستان کے مغربی صوبےفرح اورتخار میں افغان فورسزاور طالبان کے درمیا ن لڑائی اور مغربی صوبہ غور میں جھگڑے میں 31افراد ہلاک اور 11زخمی ہوگئے تفصیلات کے مطابق پولیس ترجمان محب اللہ محب کے مطابق سرکاری فورسزنے زیارت آبگرم گاﺅں میں رات گئے انتہاپسندوں کے خلاف کریک ڈاﺅن کیا،جس کے نتیجے میں چھ طالبان ہلاک اور پانچ زخمی ہوگئے،ترجمان کا کہنا ہے کہ انتہاپسندوں کے خلاف آپریشن ان کے خاتمے تک جاری رہے گا۔دریں اثناءافغانستان کے صوبے تخار کے ضلع خواجہ بہاﺅالدین میں سرکاری فورسز اور انتہاپسندوں کے درمیان لڑائی میں چھ پولیس اہلکاراور پانچ طالبان ہلاک اور3انتہاپسند زخمی ہوگئے،صوبائی گورنر کے ترجمان محمد جواد ہجاری نے بتایا ہے کہ یہ لڑائی اس وقت شروع ہوئی جب طالبان نے خواجہ بہاﺅالدین ضلع کے علاقہ میں ایک سیکیورٹی چیک پوسٹ پر ہلہ بول دیا،طالبان کی فائرنگ سے چیک پوسٹ پر موجود چھ پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے،پولیس اور طالبان کے درمیان یہ جھڑپیں دو گھنٹے تک جاری رہیں لڑائی میں پانچ انتہاپسند ہلاک اور تین زخمی ہوگئے،طالبان نے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔مزید برآں افغان طالبان نے ملک کے مغربی صوبہ غور میں جھگڑے کے بعد چودہ افراد کو ہلاک کر دیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق مقامی حکام نے بتایاکہ دولت یار ضلع میں یہ کارروائی ہفتہ آٹھ جون کو کی گئی۔ مسلح تصادم اس وقت شروع ہوا، جب ایک مقامی قبائلی رہنما نے طالبان کے مطالبے پر اس گروہ کی رکنیت سے انکار کر دیا۔ اس واقعے میں تین افراد زخمی بھی ہوئے ۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے قبل ازیں کہا تھا کہ طالبان عید الفطر کے تین دن حملے ترک کر دیں گے۔ یہ مدت جمعرات کو ختم ہو گئی تھی۔

افغانستان

مزید : علاقائی