زرتاج گل ایک مرتبہ پھر رنگے ہاتھوں پکڑی گئیں

زرتاج گل ایک مرتبہ پھر رنگے ہاتھوں پکڑی گئیں
زرتاج گل ایک مرتبہ پھر رنگے ہاتھوں پکڑی گئیں

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) سیاستدان عمومی طورپر سنی سنائی باتوں اور مفروضوں کو لے کر بڑے بڑے دعوے کردیتے ہیں جن کا دراصل حقیقت کیساتھ کوئی تعلق نہیں ہوتا اور ایسا ہی کچھ وزیربرائے موسمیاتی تبدیلی زرتاج گل کیساتھ ہوا۔

زرتاج گل نے ٹوئٹرپر پگھلتی گاڑیوں اور ایک درخت کے نیچے بیٹھے آدمیوں کی تصاویرشیئرکرتے ہوئے لکھاکہ ”درخت لگائیں ورنہ یہ حال ہوگا گرمی اس کو کہتے ہیں سعودی عرب اور کویت میں 62 ڈگری سینٹی گریٹ گرمی،اس کا حل یہ ہے اور آگے آپ کی مرضی ، درخت لگائیں یا نہ لگائیں“۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا واقعی عرب ممالک میں اتنی گرمی پڑی ہے کہ گاڑیوں کی لائٹس اور بمپرز تک پگھل گئے تو اس کا جواب یہ ہے کہ بالکل بھی ایسا نہیں، یہ تصاویر دراصل آتشزدگی کے ایک واقعے کے بعد کی ہیں اورمزید یہ کہ کسی عرب ملک کی نہیں بلکہ ایریزونا کی ہیں جو سورج کی تپش نہیں بلکہ آگ کی حدت کی وجہ سے پگھلی ہیں۔ جون 2018ءمیں ایریزونا یونیورسٹی کے قریب مڈٹاﺅن کی ایک کنسٹرکشن سائٹ ’فیوچرسٹوڈنٹ ہاﺅسنگ کمپلیکس ‘پر آگ بھڑک اٹھی جواس قدر شدید تھی کہ اس کی تپش سے گاڑیوں کی لائٹس، بمپرز، مکانوں کی کھڑکیاں اور یہاں تک کہ ایک کرین بھی پگھل گئی ، قریبی علاقوں سے ریڈ کراس نے 41افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کیاتھا، ان کاروں کو ہونیوالے نقصان کی وجہ سے غیرملکی طلباءکو زیادہ مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔

یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہورلڈ میٹرو لوجیکل آر گنائزیشن کے مطابق زمین پر اب تک کا سب سے زیادہ درجہ حرارت 56.7 ڈگری 10 جولائی 1913 کو امریکی ریاست کیلیفورنیا کی ” ڈیتھ ویلی “ میں ریکارڈ کیا گیا تھا ۔

مزید : ڈیلی بائیٹس /ماحولیات