پراسیکیوشن 4 اعشاریہ 4 بلین کی بات کررہی ہے،زرداری گروپ کوصرف ڈیڑھ کروڑ روپے منتقل ہوئے،فاروق ایچ نائیک

پراسیکیوشن 4 اعشاریہ 4 بلین کی بات کررہی ہے،زرداری گروپ کوصرف ڈیڑھ کروڑ روپے ...
پراسیکیوشن 4 اعشاریہ 4 بلین کی بات کررہی ہے،زرداری گروپ کوصرف ڈیڑھ کروڑ روپے منتقل ہوئے،فاروق ایچ نائیک

  


اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)میگامنی لانڈرنگ کیس میں آصف زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پراسیکیوشن 4سماعتوں سے4 اعشاریہ 4 بلین کی بات کر رہی ہے،زرداری گروپ کو اس میں سے صرف ڈیڑھ کروڑ روپیہ منتقل ہوا،پراسیکیوشن کے دستاویزات سے تصدیق شدہ ہے کہ اے ون اومنی گروپ کا اکاؤنٹ ہے،میرا اس اکاؤنٹ سے کوئی تعلق ہے نہ ہی اکاوَنٹ کھولنے میں کوئی کردار۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آبادہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل ڈویژنل بنچ نے میگامنی لانڈرنگ کیس میں آصف زرداری اور فریال تالپور کی عبوری ضمانت پر توسیع سے متعلق درخواست پر سماعت کی،ملزمان آصف زرداری اورفریال تالپور اپنے وکلا کے ہمراہ کمرہ عدالت میں موجود ہیں ۔

آصف زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پراسیکیوشن 4سماعتوں سے4 اعشاریہ 4 بلین کی بات کر رہی ہے، زرداری گروپ کو اس میں سے صرف ڈیڑھ کروڑ روپیہ منتقل ہوا،پراسیکیوشن کے دستاویزات سے تصدیق شدہ ہے کہ اے ون اومنی گروپ کا اکاؤنٹ ہے،میرا اس اکاؤنٹ سے کوئی تعلق ہے نہ ہی اکاوَنٹ کھولنے میں کوئی کردار۔

فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ چالان میں یہ الزام ہے کہ زرداری گروپ کو 3کروڑ روپے منتقل ہوئے، یہ رقم بینک سے بینک کو منتقل ہوئی اور اس میں کوئی بات چھپائی نہیں گئی، آصف زرداری کو ایف آئی آر میں ملزم قرار دیا گیا نہ ہی انکا کردار بتایا گیا،آصف زرداری کااکاؤنٹ سے کوئی تعلق ہے نہ ہی اکاوَنٹ کھولنے میں کوئی کردار۔

فاروق ایچ نائیک نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے نیب کو 2ماہ میں تحقیقات مکمل کر کے ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا، 2ماہ تک ریفرنس دائر نہیں ہوا اور نہ ہی سپریم کورٹ نے وقت میں توسیع کی، توسیع نہ ہونے کے بعد نیب کی تفتیش کا اختیار ختم ہو جاتا ہے،سابق صدر نے وکیل نے کہاکہ نیب کی تمام کارروائی بدنیتی پر مبنی ہے، نیب نے اس کیس میں آصف زرداری کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں،اس کیس میں وارنٹ جاری کرنا چیئرمین نیب کا اختیار نہیں ہے۔

آصف زرداری دوران سماعت اپنی نشست سے اٹھ کر روسٹرم پر آ گئے،سابق صدراپنے وکیل فاروق ایچ نائیک سے مکالمہ کر کے دوبارہ اپنی نشست پر چلے گئے۔

فاروق ایچ نائیک نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جب ریفرنس منتقل ہو گیا تو تفتیشی رپورٹ بھی اس کے ساتھ منتقل ہوئی،چیئرمین نیب کے پاس اب کوئی اختیار نہیں کہ وہ وارنٹ جاری کریں،ریفرنس جب احتساب عدالت کو منتقل ہو گیا تو چیئرمین نیب کے پاس اختیار نہیں،آئین میں چیئرمین نیب کی جانب سے ضمنی ریفرنس دائر کرنے کی بھی کوئی گنجائش نہیں۔

مزید : اہم خبریں /قومی /علاقائی /اسلام آباد