’ہمارے 3 چھوٹے بچے اس طیارے حادثے میں مارے گئے، خود کشی کا سوچ رہے تھے لیکن پھر ان 3 باتوں نے نئی زندگی دے دی‘

’ہمارے 3 چھوٹے بچے اس طیارے حادثے میں مارے گئے، خود کشی کا سوچ رہے تھے لیکن ...
’ہمارے 3 چھوٹے بچے اس طیارے حادثے میں مارے گئے، خود کشی کا سوچ رہے تھے لیکن پھر ان 3 باتوں نے نئی زندگی دے دی‘

  

کنبرا(مانیٹرنگ ڈیسک) 2014ءمیں ملائیشین ایئرلائنز کی پرواز ایم ایچ 17گر کر تباہ ہو گئی تھی جس میں ایک آسٹریلوی خاندان کے تین چھوٹے بچے بھی ہلاک ہو گئے تھے۔ اب اس میاں بیوی نے اعتراف کیا ہے کہ بچوں کی موت کے بعد وہ دونوں اکثر خودکشی کرنے کا سوچتے تھے لیکن پھر تین باتیں ایسی تھیں جنہوں نے ہمیں خودکشی کرنے سے باز رکھا اور نئی زندگی دی۔ میل آن لائن کے مطابق انتھونی میسلین اور میریٹ نوریس نامی ان میاں بیوی کے جو بچے پرواز میں جان سے گئے تھے ان کی عمریں 8، 10اور 12سال تھیں۔ بچوں کے ساتھ ان کا 68سالہ نانا نک نوریس پرواز میں سوار تھا۔وہ بھی باقی تمام 298مسافروں کے ساتھ موت کے گھاٹ اتر گیا۔

میسلین اور میریٹ نے اپنے حالیہ انٹرویو میں بتایا ہے کہ تینوں بچوں کی موت کے بعد 2016ءمیں ہمارے ہاں بیٹی پیدا ہوئی۔ یہ پہلی وجہ تھی کہ ہم نے خودکشی کے بارے میں سوچنا ترک کر دیا۔ پھر ہم نے ایک آرٹ سپیس قائم کی اور فارمنگ شروع کر دی۔ میریٹ کو پینٹنگز کا شوق تھا چنانچہ وہ اس آرٹ سپیس میں جا کر اپنا وقت گزارتی اور اپنا شوق پورا کرتی جبکہ میسلین نے خود کو فارمنگ میں مصروف کر لیا۔ اس کے ساتھ ان کی نومولود بیٹی وائلیٹ نے ان کو کچھ خوشی دی اور ان کے ذہن سے خودکشی کا خیال جاتا رہا۔ اب ان دونوں کا انٹرویو میں کہنا تھا کہ ”اب ہم بالکل نارمل زندگی گزار رہے ہیں۔ اس حادثے میں آسٹریلیا کے شہریوں نے ہمارے ساتھ جس ہمدردی کا مظاہرہ کیا وہ بے مثال تھا اور اس نے بھی ہمیں اس صدمے سے نکلنے میں بہت مدد دی۔“

مزید : بین الاقوامی