مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے بجٹ سے ایک روز پہلے اقتصادی سروے رپورٹ پیش کردی

مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے بجٹ سے ایک روز پہلے اقتصادی سروے رپورٹ پیش کردی
مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے بجٹ سے ایک روز پہلے اقتصادی سروے رپورٹ پیش کردی

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر اعظم کے مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے بجٹ سے ایک روز پہلے اقتصادی سروے رپورٹ 2018-19 پیش کردی جس میں انہوں نے اعتراف کیا ہے کہ معاشی ترقی کا ہدف پورا نہیں ہوا۔

مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے وفاقی دارالحکومت میں ایک پریس کانفرنس کے دوران اقتصادی سروے رپورٹ برائے مالی سال 2018-19 پیش کی ۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ معاشی ترقی کا ہدف 6 اعشاریہ 2 فیصد مقرر کیا گیا تھا لیکن گزشتہ ایک برس کے دوران یہ شرح 3 اعشاریہ 3 فیصد رہی۔

مشیر خزانہ نے کہا کہ طویل عرصے سے ملکی وسائل پر توجہ نہیں دی گئی، ماضی کی حکومتوں نے ملک کوقرضوں کی دلدل میں پھنسادیا، موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالا تو معیشت زبوں حالی کا شکار تھی لیکن معاشی استحکام اورمشکل صورت حال سے نکلنے کے لیے مثبت اقدامات کیے جارہے ہیں۔

ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ آئندہ بجٹ میں لوگوں کی امیدوں پر پورا اتریں گے، معیشت کو استحکام کے لیے سخت پالیسیوں کی ضرورت ہے، قومی اقتصادی سروے میں اعداد وشمار100 فیصد حقائق پر مبنی ہیں۔ ماضی کی حکومتوں نے جوریفارمزکرنا تھیں نہیں کیں، ان کا مقصد بلیم گیم کرنا نہیں ہے۔

اقتصادی سروے رپورٹ کے مطابق زراعت کے شعبے کی شرح نمو کا ہدف 3 اعشاریہ 8 فیصد رکھا گیا تھا لیکن اس شعبے کی شرح نمو اعشاریہ 85 فیصد رہی ۔ ماہی گیری کے شعبے ترقی کا ہدف 1 اعشاریہ 8 فیصد تھا تاہم اس شعبے میں صرف اعشاریہ 79 فیصد ترقی ہوئی۔

مالی سال 2018-19 کے دوران کان کنی کے شعبے کی گروتھ کا ہدف 3 اعشاریہ 6 فیصد رکھا گیا تھا لیکن اس کی شرح نمو منفی 1 اعشاریہ 96 فیصد رہی۔ تعمیراتی شعبے کی ترقی کی شرح 10 فیصد کے مقابلے میں 7 اعشاریہ 57 فیصد، خدمات کے شعبے کی ترقی ساڑھے 6 کے بجائے 4 اعشاریہ 71 فیصد رہی۔ تھوک اور پرچون کے کاروبار کی ترقی کی شرح 7 اعشاریہ 8 فیصد رکھی گئی تھی لیکن اس شعبے کی نمو صرف 3 اعشاریہ 11 فیصد ہوئی۔

ٹرانسپورٹ اسٹوریج اور کمیونیکیشن کے شعبوں میں3 اعشاریہ 34فیصد کی شرح سے گروتھ ہوئی، ان شعبوں کی ترقی کا ہدف 4 اعشاریہ 9 فیصد مقرر تھا، فنانس اینڈ انشورنس کے شعبوں میں ترقی کی شرح کا ہدف ساڑھے 7 فیصد مقرر تھا لیکن ان شعبوں میں ترقی کی شرح5 اعشاریہ 14 فیصد رہی۔

ہاو¿سنگ سروسز کے شعبے میں ہدف کے مطابق چار فیصد کی شرح سے ترقی ہوئی، عمومی سرکاری خدمات کے شعبوں میں ترقی کی شرح 7 اعشاریہ 99 فیصد رہی، ان شعبوں میں ترقی کی شرح کا ہدف 7 اعشاریہ 2 فیصد مقرر تھا۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -بجٹ -