آنے والے مشکل دِن

آنے والے مشکل دِن

  

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جولائی اگست میں کورونا کیسز عروج پر ہوں گے اگر عوام نے بچاؤ کے لئے احتیاط نہ کی تو بہت مشکل وقت آنے والا ہے، ہم سب احتیاط کریں تو پاکستان تباہی سے بچ جائے گا، عوام وائرس کو سنجیدہ نہیں لے رہے،ایس او پیز پر عمل کریں تو مُلک اِس تباہی سے نہیں گذرے گا، جو امیر ترین ممالک میں آئی۔ لاک ڈاؤن سے وائرس ختم نہیں ہوتا پھیلاؤ میں کمی آ جاتی ہے۔دیہاڑی دار طبقہ زیادہ متاثر ہوا، لوگوں کے گھروں میں بھوک ہے، کورونا وائرس کے متعلق اجلاس میں وزیراعظم کو بریفنگ دی گئی، وزیراعظم نے عوام کو آگاہی دینے اور احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کی ہدایت کی اور اعلان کیا کہ جون میں ایک ہزار آکسیجن بیڈز فراہم کریں گے،جولائی میں تعداد مزید بڑھائی جائے گی۔

ہسپتالوں میں آکسیجن بیڈز بڑھانے کا وزیراعظم کا اعلان خوش آئند ہے،لیکن اِس کے ساتھ ساتھ ہسپتالوں میں سہولتوں کے فقدان کی اطلاعات بھی ہیں،اِدھر بھی توجہ ہونی چاہئے،پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں کورونا ٹیسٹ کی کٹس ختم ہو گئی ہیں، میو ہسپتال میں ابتدائی طور پر ایک سو کٹس ملیں جو ایک گھنٹے میں ختم ہو گئیں،کورونا کے مریضوں کی رپورٹس کئی کئی روز تک التوا کا شکار ہو کر رہ گئی ہیں۔ کورونا کے شبے میں مرنے والے 178 افراد کی رپورٹس تاحال سامنے نہیں آئیں۔ میو ہسپتال کے سی ای او اور کورونا انچارج کا کہنا ہے کہ ٹیسٹ دوسری لیبارٹریوں سے کرائے جاتے ہیں جن کی رپورٹس لیٹ آتی ہیں۔پنجاب کے سب سے بڑے ہسپتال میں اگر سہولتوں کا یہ حال ہے کہ وہاں کورونا ٹیسٹ کی لیبارٹری ہی نہیں تو تصور کیا جا سکتا ہے کہ چھوٹے شہروں کے ہسپتالوں کا کیا حال ہو گا،جبکہ پنجاب کی حکومت تواتر کے ساتھ اعلان کر رہی ہے کہ ہسپتالوں میں تمام تر سہولتیں دستیاب ہیں اور ٹیسٹ کی استعداد بڑھائی گئی ہے۔ میو ہسپتال میں اگر صرف ایک سو ٹیسٹ کٹس دستیاب ہوں گی تو یہ دعویٰ کیسے کیا جا سکے گا کہ ہسپتالوں میں ہر قسم کی سہولتیں دستیاب ہیں، اِس وقت کورونا کے اوسطاً پانچ ہزار نئے مریض روزانہ سامنے آ رہے ہیں اور ایک سو تک اموات ہو رہی ہیں،اِن حالات میں جب جولائی اگست میں کیسز بڑھیں گے تو دستیاب سہولتیں مزید سکڑ جائیں گی اور ہسپتالوں پر دباؤ بڑھ جائے گا۔

وزیراعظم مسلسل کہہ رہے ہیں اور ایک بار پھر انہوں نے یہ بات دہرائی ہے کہ لاک ڈاؤن سے وائرس ختم نہیں ہو سکتا،لیکن لوگ اسے سنجیدہ نہیں لے رہے،حکومت کی طرف سے بار بار اپیل کے باوجود اگر عوام کی طرف سے مثبت ردعمل نہیں آیا تو پھر صورتِ حال کی اصلاح کے لئے کیا اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ سپریم کورٹ میں از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران فاضل عدالت کے یہ ریمارکس سامنے آئے ہیں کہ کورونا پریس کانفرنسوں کے ذریعے ختم نہیں ہو سکتا،لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ شاید اس کا علاج یہی ڈھونڈ لیا گیا ہے،اِس لئے طول طویل پریس کانفرنسوں کا یہ سلسلہ کم کرنے کی ضرورت ہے، ہر روز پرانی باتوں کی تکرار اور جگالی سے بہتر ہے کہ جب تک کوئی نئی معلومات سامنے نہ ہوں، آموختہ دہرانے سے گریز کیا جائے اور عملی اقدامات پر توجہ مرکوز رکھی جائے، جن ممالک نے اِس مرض کو سنجیدگی سے لیا وہاں مثبت نتائج بھی سامنے آ رہے ہیں، جو ان حکومتوں کی کوششوں کا اعتراف بھی ہے۔نیوزی لینڈ کورونا فری ممالک میں شامل ہو گیا صرف چند ہی مُلک ایسے ہیں جہاں اب کورونا کا کوئی کیس نہیں،نیوزی لینڈ میں سترہ دِن سے کوئی نیا مریض سامنے نہیں آیا، آخری مریض بھی صحت یاب ہو گیا،مُلک میں اِس کامیابی کا جشن منایا گیا، وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن بھی رقص کے ذریعے اس میں شریک ہوئیں، کامیابی صرف کامیاب کوششوں کی تہہ تک پہنچ کر یہ معلوم کرنے سے ملتی ہے کہ یہ کیسے حاصل ہوئی۔نیوزی لینڈ میں وائرس کے خلاف سات ہفتے کا سخت لاک ڈاؤن کیا گیا، مجموعی طور پر1154 کیسز سامنے آئے اور22اموات ہوئیں، نیوزی لینڈ کے محکمہ صحت نے اِس کامیابی کو ”دِل سے کی گئی کوششوں“ کا نتیجہ قرار دیا ہے، ہمارے جیسے ممالک کے لئے ان کوششوں میں عبرت کے بہت سے سبق پوشیدہ ہیں۔

یورپ کے جن ممالک میں اِس وقت لاک ڈاؤن کھولے جا رہے ہیں تقریباً اِن سب نے طویل عرصے تک اس کی اذیتیں برداشت کی ہیں اور مصیبتیں صبرو تجمل کے ساتھ جھیلی ہیں، حکومت نے جو ایس او پیز بنائے اُن پر بلا امتیاز ہر کسی نے عمل کیا،کسی کو کوئی استثنا حاصل نہ تھا، لوگوں کا ردعمل بھی مثبت تھا اور ضابطوں پر عمل درآمد کے لئے زیادہ سختی بھی نہیں کرنی پڑی، جہاں تھوڑی بہت ضرورت پڑی وہاں بھی لوگوں کو لاک ڈاؤن کی افادیت کا احساس ہوا تو انہوں نے حیل و حجت کے بغیر اس پر عمل درآمد شروع کر دیا،ہمارے ہاں صورتِ حال مختلف رہی اس کا اندازہ ایک سروے سے ہوتا ہے، جو گیلپ نے کیا، لُبِّ لباب یہ ہے کہ آدھی آبادی کورونا کو فسانہ سمجھی اور آدھی عالمی سازش، لیکن یہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے جھٹلانا اب کسی طور پر ممکن نہیں،پہلے یہ کہا جا رہا تھا کہ مریضوں کی صرف تعداد بتائی، نام نہیں بتائے جا رہے اب تو نامور لوگ بھی اِس کا شکار ہو رہے ہیں، جن میں ڈاکٹر، سیاست دان، سرکاری عہدیدار، پولیس افسر اور اہلکار، علمائے دین، فنکار،غرض معاشرے کا کوئی طبقہ اب اِس وائرس کی تباہ کاریوں سے محفوظ نظر نہیں آتا،اِسی طرح شہریوں کی ہر قسم کی آبادیاں …… خوشحال اور غریب…… سب اِس کی زد میں ہیں، اِن آبادیوں میں رہنے والے اب روزانہ اپنی آنکھوں سے مریضوں اور اموات کا مشاہدہ کر رہے ہیں،اِس لئے اس معاملے کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے اور احتیاطی تدابیر کے سوا کوئی چارہ کار نہیں، حکومت بار بار اپیلیں کر رہی ہے جن پر کان دھرنے کی ضرورت ہے، اگلے دو ڈھائی مہینے مزید مشکل کے ہیں اور بے احتیاطی سے ناقابل ِ بیان حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، تاہم یہ بات پوری طرح ثابت ہو چکی ہے کہ محض اپیلوں سے کام چلنے والا نہیں،انتظامی اقدامات بھی کرنے ہوں گے اور قانون سازی کا بھی اہتمام کرنا ہو گا تاکہ جو ہدایات جاری کی جائیں ان کے پیچھے قانون کی طاقت ہو اور لوگ انہیں سنجیدگی سے لیں،محض یہ نہ سمجھیں کہ عمل درآمد کرانے والوں کی آنکھ میں دھول جھونک کر ضابطوں کو ناکام بنایا جا سکتا ہے۔

برطانیہ کی ایک ریسرچ یونیورسٹی کے سائنس دانوں کی رپورٹ میں بھی ہمارے لئے سبق پوشیدہ ہے اِس میں کہا گیا ہے کہ لاک ڈاؤن نہ ہوتا تو گیارہ یورپی ممالک میں 30 لاکھ لوگ مر جاتے، وسیع پیمانے پر لاک ڈاؤن کی وجہ سے وبا کے پھیلاؤ میں کمی واقع ہوئی اور30 لاکھ اموات ٹل گئیں۔ان ممالک میں مئی کے شروع تک ایک کروڑ بیس لاکھ سے ڈیڑھ کروڑ افراد تک متاثر ہو چکے تھے،اِس لئے لاک ڈاؤن جیسے اقدامات کے موثر ہونے کو جانچنا اہم ہے،اس سے یہ بھی معلوم ہو سکتا ہے کہ وبا کو قابو رکھنے کے لئے کس قسم کے اقدامات کی ضرورت ہے،پاکستان میں بھی کوئی ادارہ اگر ایسی کسی ریسرچ کا اہتمام کرتا تو معلوم ہو جاتا کہ لاک ڈاؤن کتنا موثر ہے اور کتنا نہیں، لیکن ہم نے اس کے بارے میں من پسند رویہ اپنایا،جو اس کے حق میں تھے وہ اس کی حمایت پر آج تک ڈٹے ہوئے ہیں جو مخالف ہیں وہ بدستور مخالف کرتے چلے آ رہے ہیں اور اب تک اس کی افادیت کے قائل نہیں ہوئے،اِس لئے آنے والے مشکل دِنوں میں اس سے نپٹنے کے لئے ہمیں کون سا راستہ اختیار کرنا ہے اس پر ابھی سے سوچ بچار کرنے کی ضرورت ہے اور دُنیا کے تجربات سے بھی سیکھنا چاہئے۔

مزید :

رائے -اداریہ -