عوام کے لئے سبسڈی اور عوام؟

عوام کے لئے سبسڈی اور عوام؟

  

وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے سالانہ میزانیوں کے دن قریب تر آ گئے اور ایسی خبریں آ رہی ہیں کہ یہ حکومتیں کورونا کے باعث معاشی حالت کے خراب ہونے کے باعث اپنے غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی کریں گی اور غریب عوام کو سہولتوں کے لئے رعایت دیں گی۔وزیراعظم عمران خان نے واضح طور پر غیر ترقیاتی اخراجات کم کرنے کے لئے کہا ہے،جبکہ مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ حکومت بجٹ میں عوام کو سہولتیں دے گی، اب یہ اطلاع بھی ہے کہ وفاقی حکومت عام آدمی کے لئے اشیاء ضرورت سستی بہم پہنچانے کے لئے سبسڈی پر غور کر رہی ہے،جو دودھ،آٹا، چینی، چاول، آئل اور گھی پر دی جائے گی،جبکہ اس بار یہ بھی تجویز ہے کہ ان اشیاء پر سبسڈی ماضی کی طرح یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن کے توسط سے استعمال کی جائے گی، جبکہ مل مالکان کو بھی آٹا، چینی جیسی اشیاء خوردنی پر کوئی ریلیف یا سبسڈی دے دی جائے کہ وہ ان اشیاء کے نرخ کم کریں۔ وفاقی حکومت کے اس جذبہ سے انکار ممکن ہی نہیں کہ رمضان المبارک اور عیدالفطر کے حوالے سے بھی اربوں روپے کی سبسڈی دی گئی، لیکن اس سے عوام کو جو فائدہ پہنچانا مقصود تھا وہ نہ ملا کہ یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن نے سبسڈی ملنے سے قبل دام بڑھا دیئے اور سبسڈی کے حوالے سے بھی وہی کم بھی کر دیئے۔ علاوہ ازیں اس سے عام مارکیٹ بھی متاثر نہیں ہوئی اور ابھی تک روایتی طور پر بھی مہنگائی میں کمی نہیں آئی، بعض اشیاء کے دام کم ہوئے،ان میں موسمی سبزی شامل ہے تاہم مجموعی طور پر چینی،گوشت، انڈے، پھل اور دوسری اشیاء ضرروت اب بھی مہنگی بک رہی ہیں،حکومت کا اقدام اپنی جگہ درست اور اس کے نزدیک مفید ہو گا،لیکن عام آدمی تک اس کا فائدہ نہ پہنچا اور پھر کہیں اور منافع پہنچ گیا تو قومی خزانے کی یہ رعایت ریاست پر بوجھ ثابت ہوئی،اِس لئے بہتر ہو گا کہ بجٹ میں ایسی رعایتیں دی جائیں جو عام مارکیٹ پر اثر انداز ہوں اور سبسڈی دیتے وقت ماضی کی سبسڈی کے حساب کو دیکھا جائے، تاکہ حق بحقدار رسید ہو۔

مزید :

رائے -اداریہ -