وزیر اعظم! حادثہ ایک دم نہیں ہوتا

وزیر اعظم! حادثہ ایک دم نہیں ہوتا
وزیر اعظم! حادثہ ایک دم نہیں ہوتا

  

اب سے ٹھیک چھ سال قبل 27جوان 2014 میں تحریک انصاف کے سربراہ اورموجودہ وزیراعظم عمران خان نے بہاولپور کے اپنے ایک جلسہ میں لاہور سے اسلام آباد تک اس وقت کی حکومت کے خلاف احتجاجی مارچ کا اعلان کیا اور پھر اسلام آباد میں پاکستان کی سیاسی تاریخ کا طویل ترین دھرنا شروع ہوا جو کم و بیش چارہ ماہ تک جاری رہا۔ تحریک انصاف کے اس دھرنے میں کنٹینر پر کھڑے ہو کر جو تقاریر ہوتی تھیں وہ پاکستانی عوام کے لیے کافی حوصلہ افزا تھیں عمران خان صاحب اور ان کے ساتھیوں نے پاکستانیوں کو بیشمار خواب دکھائے اور حکمرانوں کے خلاف کرپشن کے الزامات لگائے تھے اور عوام کو یہ امید ہو چلی تھی کہ تحریک انصاف کی حکومت اگر برسراقتدار آئی تو یہ یقینا پاکستان اور پاکستانی عوام کی بہتری کا موجب ہوگی اور آخرکار وہ دن آگیا 18اگست 2018 کو عمران خان نے پاکستان کے 22ویں وزیرا عظم کا حلف اٹھایا جس سے اندرون ملک اور بیرون ملک پاکستانی عوام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور جب پہلے سال حکومت کی کارکردگی کی رپورٹ آئی جو مایوس کن رہی اب انہیں اقتدار سنبھالے تقریبا 22 ماہ ہوگئے ہیں۔ اقتدار میں آتے ہی وزیر اعظم عمران خان اور ان کے ساتھیوں نے اپنے مخالفین کو آڑے ہاتھوں لیا اور ان پر کرپشن کے الزامات کا ایک نہ ختم ہونے والاسلسلہ شروع کر دیا جو اب تک جاری ہے۔لیکن اس کا جمع حاصل کچھ نہ ہوا اور مہنگائی کا طوفان دن بدن تیز ہوتا گیا خان صاحب کی حکومت کا پہلا سال تو عوام نے اس لئے صبر وتحمل سے برداشت کیا کہ وہ کرپٹ سیاستدانوں کو کیفرکردار تک پہنچا کر اگلے سال سے پاکستان اور پاکستانی قوم کی بہتری کے منصوبوں پر عمل پیرا ہوں گے۔

عوام کے قلوب و اذہان میں دھرنے دوران کنٹینر پر گرجدار آواز کے ساتھ ان کے وہ جانفرا وعدے گونج رہے تھے کہ 50لاکھ گھر بناکر بے گھر لوگوں میں تقسیم کئے جائیں گے، نوجوانوں کو روزگار دیں گے، ضروریات زندگی کو عوام کی دسترس میں لائیں گے، وزیر اعظم ہاؤس کو یونیورسٹی میں بدل دیں گے، انگریز دور کے جاہ حشمت کے نشان گورنر ہاؤس بدل دیں گے، تعلیم اور صحت کے شعبہ میں انقلابی اصلاحات و اقدامات کئے جائیں گے، کشکول توڑ کر رکھ دیں گے، عام آدمی کے لیے زندگی آسان اور آسودہ بنا دیں گے، ہر طرف خوش حالی ہو گی، کرپٹ سیاستدانوں کو قرار واقعی سزائیں دی جائیں گے اور ان سے عوام کی لوٹی ہوئی دولت واپس لیں گے اور بیرون ممالک سے پاکستان کا لوٹا ہوا پیسہ واپس لائیں گے وغیرہ وغیرہ، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان میں سے کسی ایک وعدے پر بھی عمل ہوا بقول شاعر ''وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہوگیا'' افسوس یہ ہے کہ درجن بھر کے قریبی اتحادی جماعتیں جن میں قابل ذکر پاکستان مسلم لیگ (ق)، ایم کیو ایم پاکستان، بی اے پی، جی ڈی اے اورعوامی مسلم لیگ ہیں، علاوہ ازیں ملکی تاریخ کی وزیروں اور مشیروں کی سب سے بڑی تعداد کے باوجود ابھی تک حکومتی کارکردگی کا گراف روز بروز تیزی سے نیچے کی طرف گامزن ہے حالانکہ دعوی یہ کیا گیا تھا کہ بہت ہی مختصر کابینہ ہوگی مگر ہوا اس کے برعکس اور کارکردگی صفر۔ عمران خان کی کابینہ جو بھان متی کا کنبہ ہے میں شامل وزرا میں شاہ محمود قریشی، اور طارق بشیر چیمہ جن کا تعلق جنوبی پنجاب سے ہے سیاست اور وزارت کا تجربہ رکھتے ہیں جبکہ کافی وزار چوں چوں کا مربہ ہیں اور اپنی اپنی راگنی الاپ رہے ہیں عوام کی فلاح کی طرف کوئی توجہ نہیں اور انتہا یہ ہے کہ اپنی ہی کابینہ کے وزرا ایک دوسرے کے خلاف بھی ہیں اور ان سے باز پرس کرنے والا کوئی نہیں تو ایسے میں ملک و قوم کی فلاح و بہبود کے منصوبے کیسے طے پائیں گے اور تو اور حکومت سے مہنگائی تک تو کنٹرول ہو نہیں سکی، تو باقی کیا رہ جاتا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان کو چاہیے کہ وہ اپنی کابینہ کے وزرا، مشیروں اور معاونین خصوصی کی کارکردگی پر خصوصی توجہ دیں اور جن کی کارکردگی معیار پر پوری نہ اترے انہیں فارغ کر دیں اور اپنی کابینہ اور مشیروں وغیرہ میں اپنے اپنے شعبہ کے ماہرین کو شامل کریں اور اس بات کا بھی خاص خیال رکھا جائے کہ ان کے انتخاب کے وقت یہ بھی مد نظر رکھا جائے کہ وہ قوم اور ملک کے ساتھ مخلص بھی ہوں۔ محترم وزیر اعظم بخوبی جانتے ہیں کہ پاکستانی عوام اب باشعور ہیں اور اچھے برے کام کی تمیز رکھتے ہیں اور وہ یہ بھی جاننا چاہتے ہیں کہ چینی سکینڈل میں ملوث جہانگیر ترین کس طرح اپنی فیملی کے ہمراہ ملک سے باہر گئے جبکہ وہ اس سکینڈل کے مرکزی کرداروں میں سے ایک ہیں۔ اپنی بیرون ملک روانگی سے پہلے انہوں نے طیارہ میں برملااس امر کا اظہار کیا ہے کہ عمران خان میرے ذاتی طیارے کو استعمال کرتے رہے ہیں، صبح وہ کراچی ہوتے تھے دوپہر کو لاہور اور شام کو اسلام آباد۔ انہوں نے دوسرے الفاظ میں یہ کہا ہے کہ عمران خان ان کی فراہم کردہ سہولیات اور دیگر خدمات کی بدولت وزارت عظمی کے عہدہ جلیلہ پر فائز ہوئے ہیں وزیر اعظم کو چاہیے کہ وہ اس حوالے سے عوام کو اعتماد میں لیں اور بصورت دیگر مختلف افواہیں عوامی حلقوں میں گردش کرتی رہیں گی۔

یہاں اس امر کا اظہار بھی بے جانہ ہوگا کہ کرونا وبا کے سلسلے میں بھی عوام حکومت کی کارکردگی پر مطمئن نہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ حکومت نے اس معاملے پر کوئی ٹھوس پالیسی مرتب نہیں کی اور آئے دن اس میں ردوبدل ہوتا رہتا ہے جو فیصلوں میں ناپختگی کی دلیل ہے. محترم وزیراعظم یہ عوام ہی ہوتے ہیں جو کسی بھی حکومت کو مستحکم اور غیر مستحکم کرتے ہیں اور یہ اس بات کی غماز ہے کہ آپ عوام سے کئے گئے وعدے ایفا کریں،یہ بجا کہ آپ کے خلوص اور دیانت پر کوئی شک نہیں مگر عوام کے پیش نظر حکومت کی صرف وہ کارکردگی رہتی ہے جو ملک و قوم کے مفاد سے منسلک ہو اور جو حکومت ایسا کرنے سے قاصر ہو تو پھر رفتہ رفتہ عوام میں ایک ایسی بے چینی پیدا ہوتی ہے جو بڑھتے بڑھتے احتجاج کی شکل میں نمودار ہوتی ہے جو اس شعر پر منطبق ہوتی ہے۔وقت کرتا ہے پرورش برسوں حادثہ ایک دم نہیں ہوتا مجھے محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب کی ایک بات یاد آگئی انہوں نے کہا کہ عمران خان کو عوام نے ووٹ دے کر وزیراعظم بنایا اور دوسروں کو نہیں. اب وزیراعظم اور ان ساتھیوں کو چاہیے وہ عوام کے بھلائی کے منصوبوں کی طرف توجہ دیں ناں کہ وہ ہر روز ٹی وی پر آکر اپوزیشن کے خلاف زہر اگلتے رہیں اپنے ساتھ ساتھ عوام کا بھی دماغ خراب کرتے رہیں اپوزیشن کے خلاف اداروں میں مقدمات چل رہے ہیں چلتے رہیں۔ آپ اپنی توجہ غریب عوام کی خدمت کی طرف کریں۔

مزید :

رائے -کالم -