پاکستان میں سرجیکل سٹرائیک کی اجازت

پاکستان میں سرجیکل سٹرائیک کی اجازت
پاکستان میں سرجیکل سٹرائیک کی اجازت

  

جب ”دی ہندو“ اپنی 8 جون 2020ء کی اشاعت میں لکھ رہا ہو:

”کورونا وائرس کا یہ وقت ہمسایوں کے ساتھ جارحانہ اور مخاصمانہ رویئے پالنے کا وقت نہیں۔ یہ لمحہ وہ ہے کہ انڈیا کو جنوبی ایشیاء میں علاقائی اور نیم علاقائی سطح پر گہرا تعاون استوار کرنے میں پہل کرنی چاہیے۔ مقامِ افسوس کہ اس کے برعکس انڈیا حال ہی میں نیپال اور دوسرے ہمسایوں کے ساتھ کشیدگیاں پیدا کر رہا ہے اور وہ بھی ایسے وقت میں جب اس خطے میں بدترین انسانی بحرانوں نے سر اٹھایا ہوا ہے“۔…… (اخبار کا اشارہ کورونا اور ٹڈی دل کی طرف ہے)……

جب یہی اخبار (دی ہندو) اپنی 27مئی 2020ء کی اشاعت میں لکھ رہا ہو:

”نیپال کے وزیر خارجہ پردیپ کمار گیاوالی نے کہا ہے کہ انڈیا کو کالاپانی ریجن سے اپنی فوج واپس بلا کر سٹیٹس کو بحال کرنا چاہیے۔ اس سرحدی تنازعے کا حل جلد از جلد نکالنا چاہیے۔ اس کا بہترین حل یہی ہوگا کہ انڈیا اس علاقے کو واپس نیپال کے حوالے کرے جس پر اس کی سیکیورٹی فورسز نے حال ہی میں قبضہ کر لیا ہے اور اسے اپنا علاقہ ظاہر کر رہی ہیں۔ انڈیا نے جو نیا نقشہ اس علاقے کا نومبر 2019ء میں جاری کیا ہے وہ پہلے معاہدوں کی صریح خلاف ورزی اور تنسیخ ہے“……

جب 6جون 2020ء کو انڈیا کا اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی NDTV پر آکر یہ بیان دے رہا ہو:

”صاف صاف بتایا جائے کہ کیا چینی فوج نے لداخ میں بھارتی سرزمین پر قبضہ کر لیا ہے؟“……

جب راہول گاندھی 7جون کو اپنی ٹویٹ میں وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کی اس خوش فہمی کا کہ دونوں ملکوں کے درمیان اونچے لیول کے عسکری مذاکرات ہو رہے ہیں، مرزا غالب کا یہ مصرع کوٹ کرکے مذاق اڑائے کہ: دل کے بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے……

جب چینی ٹروپس جھیل پاگونگ کا علاقہ خالی کرنے سے انکار کر دیں ……

تو کیا ایسی صورتِ حال میں بھارتی وزیراعظم کو زیب دیتا ہے کہ بڑھکیں مارنا شروع کر دے اور ٹویٹ کرے کہ میں نے پاکستان میں سرجیکل سٹرائک کی اجازت دے دی ہے۔پاکستانی وزارتِ خارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی نے اگلے روز (سوموار) اس ٹویٹ پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا کہ انڈیا کو فروری 2019ء کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس یہی جواب ایک بار پھر دہرانے کی نہ صرف اہلیت ہے بلکہ پاکستانیوں اور بالخصوص کشمیریوں کے ساتھ Commitment بھی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ: ”پاکستان، انڈیا کی ان بڑھکوں اور گیدڑ بھبکیوں سے مرعوب ہونے والا نہیں کہ یہ بازو اس کے آزمائے ہوئے ہیں“۔

مودی کا یہ بیان اگرچہ بھارتی وزیرداخلہ کی طرف سے آیا ہے لیکن اس کامفہوم سب پاکستانیوں کو معلوم ہے۔ اگر یہ بیان وزیر دفاع کی طرف سے کوٹ (Quote) کیا جاتا تو اس کا مطلب یہ تھا کہ مودی نے انڈیا کی ریگولر آرمی کو سرجیکل سٹرائک کی اجازت مرحمت فرما دی ہے۔ نیم مسلح دستے (بارڈر سیکیورٹی فورسز) چونکہ وزیرداخلہ کے زیرِ احکام ہوتے ہیں، اس لئے اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ (وزیرداخلہ) جب چاہیں گے، BSF کو ایل او سی عبور کرکے ’سرجیکل سٹرائک‘ کا آرڈر دے دیں گے۔

کیا انڈین وزیرداخلہ کو معلوم نہیں کہ ان کا اگر کوئی کواڈ کاپٹر صرف تین فرلانگ پاکستانی سرحد کو عبور کرتا ہے تو اس کو مار گرایا جاتا ہے؟…… اگلے روز ISPR نے کہا تھا کہ اس قسم کے 8ڈرون قبل ازیں پاکستانی فورسز کی طرف سے گرائے جا چکے ہیں۔ اگر یہ ڈرون کسی سرجیکل سٹرائک کے روٹ کی ریکی کے لئے ارسال ”فرمائے“ گئے تھے تو ان کا حشر تو بھارت نے دیکھ لیا ہے۔ انہی راہوں پر اگر کل کلاں کسی انڈین سیکیورٹی فورس نے بھی کسی سرجیکل وار کی کوشش کی تو اس کا انجام وہی ہوگا جو 8عدد ڈرونوں کا ہوا ہے۔ عائشہ فاروقی نے اپنے بیان میں یہ وضاحت بھی کی کہ انڈیا بے گناہ کشمیریوں پر ظلم و ستم توڑنے سے باز نہیں آ رہا۔ اگلے روز اس نے شوپیاں میں 4کشمیری مجاہدین کو شہید کر دیا۔ یہ شہادتیں تلاشیوں کے دوران ہوئیں۔ وزارتِ خارجہ کی ترجمان نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ گھر گھر تلاشیوں کے دوران ان شرّے والی بندوقوں کا استعمال بھی عام کیا گیا جس سے کشمیری بچے، بچیاں اور مرد و زن کے چہرے شدید زخمی ہوئے اور ان کی بینائی بھی جاتی رہی۔ یہ گھناؤنا کھیل ایک عرصے سے کھیلا جا رہا ہے اور ایسا ظلم ہے جو گویا پوری نہتی انسانیت پر کیا جا رہا ہے۔

آج پوری دنیا کو کورونا جیسی ظالم اور مہلک وبا کا سامنا ہے۔ خود انڈیا میں ہزاروں لوگ اس کا شکار ہو چکے ہیں۔ جیسا کہ کہا جا رہا ہے کہ یہ وبا ایک خدائی آفت ہے جو ہماری بداعمالیوں کی سزا کے طور پر دی گئی ہے تو کیا کسی بھارتی لیڈر کے دل میں خدا کا خوف نہیں آتا کہ کم از کم ان ایام مین تو ان حرکتوں سے باز آئے۔ کیا خبر کل خدا کشمیریوں کی فریاد کا جواب دے ہی ڈالے اور بھارتی جفاکاروں کو ایسا سبق پڑھائے کہ ان کی آنے والی نسلیں اسے یاد رکھیں۔ نہتے اور مظلوم کشمیریوں کی فریادیں اور آہ و زاریاں آخر کبھی تو سنی جائیں گی اور کبھی تو آخر ان کے نالوں کا جواب آئے گا!

کبھی کبھی میں اپنے آپ کو مقبوضہ کشمیر کا ایک کشمیری مسلمان سمجھ کر خود سے سوال کرتا ہوں کہ اگر میں پلواما، شوپیاں، اننت ناگ، سوپور یا سری نگر وغیرہ کا باسی ہوتا تو میرے جذبات کیا ہوتے اور میرا ردعمل کیا ہوتا؟…… اگر میری آنکھوں کے سامنے میرے عزیز و اقارب کو شہید کر دیا جاتا، اگر میرے بچوں کی آنکھوں میں شرّے والی گن کے شرّے مار کر ان کو نابینا کر دیا جاتا، اگر میرے گھر کی تلاشی لی جاتی اور میں اپنی خواتین کی حفاظت میں کوئی مزاحمت کرتا اور اگر بھارتی فوج میری اس مزاحمت کو دبانے کے لئے آخری حدوں تک چلی جاتی تو میں کیا کرتا؟…… کیا میں دہشت گرد نہ بن جاتا؟ کیا دہشت گردوں کا آلہ ء کار اور مددگار بننے سے باز آ جاتا؟ کیا بھارتیوں سے انتقام لینے کے منصوبے نہ بناتا؟……

گزشتہ 73برس سے مقبوضہ جموں اور کشمیر کے مسلمانوں پر جوروستم کے جو پہاڑ توڑے جاتے رہے ہیں ان کے اجتماعی ردعمل کو جب اپنے ذاتی اور انفرادی انتقام کی دوربین سے دیکھتا ہوں تو مقبوضہ جموں اور کشمیر کی مسلم آبادیوں کو سلامِ عقیدت پیش کرنے کو ایک نہائت خفیف سا ردعمل گردانتا ہوں۔

بھارت کا ہندو، مودی کے ہندوتوا کے فلسفے میں اندھا ہو چکا ہے۔ کاش اس کا یہ اندھا پن کسی مسلمان کشمیری کی پیلٹ (Pellet)گن کی فائرنگ کا نتیجہ ہوتا! تب میں اس اندھے ہندو سے پوچھتا کہ اپنے چہرے کو اس آئینے میں دیکھو:

تو بھی مری طرح ہو غمِ دل سے آشنا

آئینہ پاس ہو تو ترے روبرو کروں

مجھے معلوم نہیں۔ ہندوستان کے ہندوؤں کا کوئی ضمیر بھی ہے یا سب ”بے ضمیرے“ لوگ ہیں۔ اُدھر امریکہ میں ایک سیاہ فام مارا جاتا ہے تو سارے امریکہ میں آگ لگ جاتی ہے۔ آج امریکہ کی کل آبادی تقریباً 35کروڑ نفوس پر مشتمل ہے جن میں سیاہ فام افریقن امریکن کا تناسب 13%ہے۔ لیکن اس 13فیصد کالی آبادی نے نہ صرف 52امریکی ریاستوں کو احتجاج کی لپیٹ میں لے رکھا ہے بلکہ دنیا بھر میں جہاں کالے اور رنگدار لوگ پائے جاتے ہیں وہاں جارج فلائڈ (Floyed) کی حمائت میں مظاہروں کا سلسلہ ہے کہ تھمنے کا نام نہیں لیتا۔

کہا جاتا ہے کہ یہ نسلی امتیاز ہے جبکہ بھارت کی آبادی آج 135کروڑ ہے۔ اس میں مسلم آبادی کا تناسب کیا ہے اور یہ آبادی مقبوضہ جموں اور کشمیر میں اپنے ہم مذہبوں کی حمائت میں کیوں خموش ہے اس کا جواب شائد ”دھیرے دھیرے“ مل رہا ہے۔ وسطی اور شمالی ہندوستان میں 5اگست 2019ء کو مودی نے انڈین دستور میں جو ترمیم و تنسیخ کی ہے، اس کے خلاف خونریز مظاہروں کا آغاز ہوا تو ہے۔ لیکن اس میں ابھی اس طرح کی شدت دیکھنے میں نہیں آ رہی جس طرح کی امریکہ میں ایک کالے کی موت کے بعد نظر آ رہی ہے۔ اس مساوات یا عدم مساوات کے اسباب نسلی ہوں یا مذہبی اس سے غرض نہیں لیکن یہ ایک انسانی المیہ تو ہے…… خدا کا شکر ہے کہ دنیا کے دوسرے مسلم ممالک نے بھی بالخصوص عرب ریاستوں نے اب انڈیا کی اس دریدہ دہنی کے ردعمل کے طور پر کشمیریوں کے ساتھ یک جہتی کا اعلان کیا ہے…… اگر یہ ردعمل آج سے چند برس پہلے ہو جاتا تو شائد انڈیا، پاکستان پر سرجیکل سٹرائیک کرنے کی بڑھک مارنے کے ارتکاب سے باز آ گیا ہوتا!

مزید :

رائے -کالم -