کرونا کی شدت میں اضافہ، سیاسی محاذ آرائی بھی بڑھ گئی،

کرونا کی شدت میں اضافہ، سیاسی محاذ آرائی بھی بڑھ گئی،

  

صوبائی سطح پر اپوزیشن متحرک، مرکز سے مطالبہ

لاہور سے چودھری خادم حسین

کورونا کی وباء میں تیزی کے ساتھ، ملک میں جاری محاذ آرائی بھی بڑھتی چلی جا رہی ہے اور اسے کہیں بریک لگنے کے امکان معدوم نظر آ رہے ہیں، بجٹ کے حوالے سے قومی اسمبلی سمیت سینیٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے اجلاس بھی طلب کئے گئے ہیں۔ ان ایوانوں میں بھی عوامی مسائل کم اور الزام تراشی کا عمل زیادہ ہی نظر آئے گا۔ آٹا، چینی اور پٹرول کی قلت کے حوالے سے بھی سنجیدہ گفتگو کا امکان کم ہے اور طعن و تشنیع زیادہ ہو گی، ایوانوں کے اندر یہ ہوگا تو ایوان کے باہر نیب سرگرم عمل ہے اور چیئرمین نیب کے مطابق اب کرپشن کے مکمل خاتمے کا وقت آ پہنچا ہے۔ لاہور میں تو بڑا جوڑ نیب اور قائد حزب اختلاف محمد شہبازشریف کے درمیان ہے۔ ان کو گرفتار کیا جانا مقصود تھا، تاہم ایسا ظاہر کئے بغیر ان کو طلبی کا نوٹس بھیجا گیا اور جب انہوں نے پیش نہ ہونے کا فیصلہ کیا اور ضمانت قبل از گرفتاری کے لئے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا تو نیب کی ٹیم پولیس کی بھاری نفری کے ساتھ ان کو گرفتار کرنے ماڈل ٹاؤن پہنچ گئی تاہم وہ پکڑے نہ جا سکے اور یہ ٹیم ناکام واپس گئی۔ اگلے روز شہبازشریف جماعتی رہنماؤں اور کارکنوں کے ساتھ عدالت عالیہ میں پیش ہو گئے جہاں سے ان کو ضمانت مل گئی عدالت کو بتایا گیا تھا کہ وارنٹ گرفتاری 25مئی کو جاری کئے گئے تھے۔ یوں اگر وہ 2جون کو نیب آفس جاتے تو گرفتار کر لئے جاتے۔ عدالت عالیہ نے ان کی ضمانت قبل از گرفتاری منظوری کر لی اور ہدایت کی کہ ان کو گرفتار نہ کیا جائے۔ نیب کی طرف سے ان کو دوبارہ طلب کر لیا گیا اور نوٹس جاری کرکے 9جون (منگل) کے لئے بلایا، اطلاع ہے کہ محمد شہبازشریف نے وکلاء سے مشاورت کے بعد منگل (9جون) کو پیش ہونے کا فیصلہ کیا۔ وہ ان سطور کے پریس جانے کے بعد نیب آفس گئے ہوں گے، لہٰذا آج کی اشاعت تک پیشی کا نتیجہ بھی سامنے آ جائے گا کہ وہ ضمانت پر تو ہیں، تاہم ان کے لئے ریفرنس بھی زیادہ تیار کئے گئے ہوئے ہیں۔

دوسری طرف حزب اختلاف نے بھی پھر سے سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ کے پی کے میں جمعیت علماء اسلام کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمن متحرک ہو گئے انہوں نے صوبائی سطح پر کل جماعتی کانفرنس بلائی۔اٹھارھویں ترمیم کی حمایت اور کرونا کی سطح پر بات کی۔ اتوار کے روز یہاں بلاول ہاؤس لاہور میں پیپلزپارٹی نے صوبائی سطح پر کل جماعتی کانفرنس کا اہتمام کیا، اس میں مسلم لیگ(ق) اور جماعت اسلامی کے نمائندے بھی شریک ہوئے اور متفقہ اعلامیہ بھی جاری ہوا، اس کی اہم بات یہ ہے کہ اس کانفرنس نے مرکزی قیادت سے اپیل کی کہ وہ قومی امور پر متفقہ لائحہ عمل طے کرنے کے لئے مرکزی سطح پر کل جماعتی کانفرنس بلائے۔ اس صوبائی کل جماعتی کانفرنس میں وفاقی اور پنجاب حکومت پر سخت تنقید کی گئی کہ کرونا کے مسئلہ پر غیر سنجیدہ رویہ اختیار کرنے کی وجہ سے حالات خراب ہوئے۔ حتیٰ کہ عملہ طب بھی احتجاج کر رہا ہے، اس کانفرنس نے پنجاب حکومت کی کارکردگی پر مایوسی کا اظہار کرنے کے باوجود وفاق سے مطالبہ کیا کہ پنجاب کو واجب الادا تین سو ارب کی ادائیگی کی جائے۔

وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید معمول کے مطابق لاہور آئے اور میڈیا سے بھی روائتی بات کی اس میں محکمہ کی بجائے سیاست پر بات کرتے ہوئے پھر سے شہبازشریف کی گرفتاری کی پیش گوئی کی اور ساتھ ہی بہت واضح طور پر کہا کہ شہبازشریف مفاہمت والے ہیں، لیکن عمران خان ایسا بالکل نہین چاہتے۔ اس لئے ان (شہباز) کا مشن پورا ہونا ممکن نہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ چینی اور آٹا مافیا والے سب اندر جائیں گے اور ٹارزن بھی آ چکا، اب کوئی نہیں بچے گا۔محکمہ کے حوالے سے انہوں نے ریزرویشن دفاتر کھولنے اور مزید ٹرینیں چلانے کا اعلان کیا، جبکہ محکمہ ریلوے کے مطابق کرونا کی وجہ سے ٹرینوں کے بند ہونے سے 5سے 6ارب روپے کی آمدن کم ہوئی ہے۔

کرونا کی صورت حال یہ کہ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کی پریس کانفرنس میں شکایات کا دفتر کھول دیا گیا کہ حکومت کے ناقص انتظامات حفاظتی سامان پورا نہ ہونے سے 34طبی افراد جاں بحق اور 2500متاثر ہو چکے۔ وائی ڈی اے کے صوبائی صدر سلمان حبیب نے کہا حکومت نے جو طبی عملہ کرونا کے لئے بھرتی کیا اسے تنخواہ بھی نہیں دی جا رہی۔

عوام کے مسائل حل نہیں ہو پا رہے۔ کرونا کے مریض بڑھ گئے، انجیکشن ختم ہو گئے، وزیراعلیٰ ہر روز ہدایت جاری کرتے ہیں اور کسی نہ کسی منصوبے کا افتتاح کر رہے ہیں، مہنگائی کم نہیں ہوتی اور اب تو پٹرول بھی نہیں مل رہا۔

مزید :

ایڈیشن 1 -