امریکی بلاگر سنتھیارچی کے الزامات سے طلاتم،

امریکی بلاگر سنتھیارچی کے الزامات سے طلاتم،

  

رحمن ملک نے ہرجانہ کا دعویٰ اور پیپلزپارٹی نے اندراج مقدمہ کی درخواست دی

کورونا وائرس کی وبا کا جن دارالحکومت اور جڑواں شہر راولپنڈی میں بھی بوتل سے باہر آ گیا ہے، پارلیمینٹ سے لے کر سرکاری دفاتر، نیم سرکاری اور نجی اداروں میں بھی اس وبا کے مہلک اثرات پھیل گئے ہیں۔ اب لگتا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی حکومت کورونا کی وبا کے پھیلاؤ کے محرکات کا کلی طور پر ادراک کر پائی نہ ہی اس نے دُنیا کے اس حوالے سے تجربہ سے فائدہ اٹھایا۔ پاکستان میں اگرچہ کورونا کی وبا باقی دُنیا کی نسبت قدرے تاخیر سے پہنچی اور حکومت کے پاس اس وبا سے نپٹنے کی حکمت عملی کی تشکیل اور اس پر عمل درآمد کے مواقع قدرے زیادہ تھے،لیکن بظاہر یہی تاثر ملتا ہے کہ حکومت کورونا کی مہلک وبا کا مقابلہ کرنے کے لئے اپنی حکمت عملی پر یکسو نہیں تھی۔ وزیراعظم عمران خان مسلسل تذبذب کا شکار نظر آئے،حکومت کی کورونا کے خلاف حکمت عملی سائنسی شواہد کی بنا پر نظر نہیں آئی،جب اپوزیشن نے حکومت کی اس گو مگو والی پالیسی پر تنقید کی تو حکومت نے اصلاح احوال کے بجائے اسے نہ صرف نظر انداز کر دیا،بلکہ اپوزیشن کے موقف کے ردعمل میں دلائل گھڑنا شروع کر دیئے، پوری دُنیا سمیت پاکستان انسانی تاریخ کے اس اہم ترین المیہ سے گزر رہا ہے،لیکن یہاں اہم انسانی زندگی کی بقا کے مسئلے کو داخلی سیاست میں الجھایا گیا ہے۔پاکستان پیپلزپارٹی کی سندھ اور پاکستان تحریک انصاف کی مرکز میں حکومت کے مابین کورونا کے ایشو پر مسلسل سیاسی مخاصمت پر مبنی ”کراس فائر“ جاری ہے۔وزیراعظم عمران خان کی حکومت نے اس ایشو پر سپریم کورٹ آف پاکستان میں بھی کنفیوژن پر مبنی موقف پیش کیا جس کی بنا پر حکومت کی ”عید شاپنگ دوبالا“ ہو گئی اور کورونا وائرس بھرپور طریقے سے ملک بھر میں پھیل گیا، تاہم اب جو اعداد و شمار سامنے آ رہے ہیں انہیں دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ ڈاکٹروں کی مختلف تنظیمیں اپنا موقف حکومت تک پہنچانے کے لئے پریس کانفرنس کا بھی سہارا لیتی رہیں، ان کا موقف درست تھا کہ جبکہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کورونا کی وبا کے پھیلنے کے حوالے سے جو منظر کشی کر رہے تھے، حالات اسی طرف جا رہے ہیں۔ وفاقی اور صوبائی وزراء اور اراکین اسمبلی بھی کورونا سے متاثر ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ فرزند ِ راولپنڈی وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور پاکستان مسلم لیگ(ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب بھی اس مرض کا شکار ہو کر قرنطینہ میں جا چکے ہیں۔ دارالحکومت کے اعلیٰ ترین اداروں میں بھی حفاظتی انتظامات اس معیار کے نہیں تھے کہ اس مہلک وبا کا راستہ روک لیتے۔ عالمی اداروں کی رپورٹ میں پاکستان کو کورونا کے حوالے سے خطرناک ترین ممالک کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے تاہم نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول مرکز میں پاک فوج ایک انتہائی فعال کردار ادا کر رہی ہے، اس کمانڈ سنٹر کی سربراہی بظاہر حکومت کے پاس ہے،لیکن کارکردگی کا کریڈٹ پاک فوج کو جاتاہے۔حکومت سنگین صورت حال میں بھی اپوزیشن کو ہدفِ تنقید بنانے میں زیادہ سنجیدہ نظر آتی ہے،جبکہ طویل عرصہ سے پاکستان بار بار آنے والی امریکی بلاگر سنتھیارچی کے انتہائی سنگین نوعیت کے انکشافات کی ٹائمنگ بھی نہایت معنی خیز ہے، جبکہ ان انکشافات نے دارالحکومت سمیت ملک بھر کی سیاست میں طلاتم برپا کیا ہوا ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی کی قیادت سنتھیارچی کی جانب سے پیدا کردہ باد گرد پر سخت سیخ پا ہے۔ سینیٹر رحمن ملک نے اپنے اوپرلگنے والے سنگین الزامات کے ردعمل میں خاتون پر پچاس کروڑ روپے کے ہرجانہ کا دعویٰ کر دیا ہے، جبکہ پیپلزپارٹی کی جانب سے مرحومہ بے نظیر بھٹو پر لگائے جانے والے الزامات پر اسلام آباد کی سیشن کورٹ میں امریکی خاتون کے خلاف پرچے کے اندراج کے لئے درخواست دائر کی گئی ہے، جس پر عدالت نے ایف آئی اے اور پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی سے بھی جواب طلب کر لیا ہے۔ اب دیکھنا ہے کہ سنتھیارچی نے پاکستان کی داخلی سیاست میں طوفان برپا کرنے کے لئے اس وقت کا انتخاب کیوں کیا۔یہ طوفان جس رخ بیٹھے گا اس سے شاید اس سوال کا جواب مل جائے۔

دوسری جانب ملک میں مہنگائی زوروں پر ہے۔ حکومت نے تیل کی قیمتوں میں کمی ضرور کی، لیکن غیر متوثر حکمرانی کی بدولت اس سے مہنگائی کا زور نہیں ٹوٹ پایا، جبکہ چینی سکینڈل کی تحقیقات کا فرانزک آڈٹ کی شکل میں دامن وسیع ہونے کا یہ فائدہ ہوا ہے کہ اس سکینڈل کے مرکزی کردار جہانگیر ترین ملک سے باہر چلے گئے ہیں۔ بجٹ 2020ء کی آمد آمد ہے، حکومت نے بجٹ کی آمد سے قبل پاکستان سٹیل ملز کی قسمت کا فیصلہ سنا دیا ہے لیکن لگتا ہے کہ اس حوالے سے عدلیہ کا کردار نہایت اہم ہو گا۔دلچسپ امر یہ ہے کہ دارالحکومت میں اس بار یہ تاثر عام ہے کہ بجٹ آئی ایم ایف کی ترجیحات اور توقعات کی روشنی میں تیار کیا جا رہا ہے۔ کورونا کے مثبت اثرات اور زراعت پر ٹڈی دل کے حملہ کے باوجود حکومت عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ ڈالنے کی تیاری میں ہے۔ پاکستان کی کمزور معاشی صورت حال کے تناظر میں بھارت کی جانب سے کسی ”مس ایڈوانچر“ کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔اگرچہ پاکستان کی عسکری قیادت دو ٹوک انداز میں بھارت پر واضح کر چکی ہے کہ پاکستان ایسی کسی صورت میں بھرپور طاقت کے ساتھ جوابی کارروائی کرے گا،لیکن بھارت چین کے ہاتھوں لداخ میں سبکی کے بعد پاکستان کے خلاف ایسی کسی غلطی کو دہرا سکتا ہے، لیکن مسلح افواج مکمل طور پر چوکس ہیں۔

مزید :

ایڈیشن 1 -