کورونا کے ساتھ ٹڈی دل نے تباہی مچا رکھی ہے، گندم کے حوالے سے بھی کنفیوژن

کورونا کے ساتھ ٹڈی دل نے تباہی مچا رکھی ہے، گندم کے حوالے سے بھی کنفیوژن

  

ملتان کی سیا سی ڈائری

شوکت اشفاق

پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ایک مرتبہ پھر اس الزام کو دہرایا ہے کہ ملک میں کرونا وائرس زبردستی پھیلایا گیاہے جس کی ذمہ دار وفاقی حکومت ہے اگرپہلے دن سے سخت لاک ڈاؤن کیاجاتا تو آج نیوزی لینڈ اور ویت نام جیسے اچھے حالات ہوتے، سندھ حکومت کی کوششوں کو سبوتاژ اور این ایف سی ایوارڈ کی تشکیل نو کو غیر آئینی قراردے دیا ادھر وزیراعظم عمران خان نے بھی ایک مرتبہ پھردہرایا ہے کہ اشرافیہ ملک میں لاک ڈاؤن چاہتی ہے جو معیشت اورغریب عوام کی تباہی ہے جبکہ مراعات یافتہ طبقہ زیادہ وسائل رکھتاہے لہذاوبا کاحل سمارٹ لاک ڈاؤن ہے ادھر ملک میں متاثرین کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے جبکہ مجموعی اموات ایک ہزار نو سوپنتالیس ہوچکی ہیں صرف چوبیس گھنٹوں میں پانچ ہزار سے زیادہ نئے کیسز کی تصدیق ہوئی ہے اور یہ وہ ہیں جن کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے ٹیسٹ کی استعداد کایہ عالم ہے کہ سرکاری لیبارٹریز میں چوبیس گھنٹوں میں ٹیسٹ کی گنجائش یا استعداد اگردو سوہے تو کیسز کے نمونے پانچ سو زیادہ آرہے ہیں جو تمام کے تمام ٹیسٹ کرنا ممکن نہیں، اور یہی وجہ ہو ہے کہ ابھی مریضوں کی تعدا د کااندازہ لگانا بھی مشکل ہے کیونکہ یہ تمام اعدادو شمار بغیر کسی ڈیٹا بیس کے جاری کئے جارہے ہیں کیونکہ اس حوالے سے عالمی ادارہ صحت کی وارننگ بہت اہمیت کی حامل ہے کہ جنوبی ایشیا ء کے گنجان آباد علاقوں میں کرونا تیزی سے پھیل سکتا ہے عالمی اداررے نے یہ بات ان اعدادو شمار کی روشنی میں کہی ہے جو انہیں میسر ہیں اس طرح یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ لاہور اورکراچی ملک کے گنجان آباد شہر ہیں جہاں اس وقت بھی اس عالمی وباکے متاثرین کی تعداد خوفناک حد تک زیادہ ہوچکی ہے متاثرین کی زیادہ تعدادخوف کے مارے سرکاری ہسپتالوں کارخ نہیں کررہی جبکہ پرائیویٹ ہسپتالوں میں ایک لاکھ روپیہ یومیہ ونٹی لیٹر والے کمرے کاکرایہ عام تو کیااکثر خاص لوگ بھی ادا کرنے سے قاصر ہیں اس وقت تمام بوجھ سرکاری ہسپتالوں پرہے لیکن یہاں کام کرنے والے ڈاکٹروں کو ایس اوپی کے مطابق سہولتیں اورحفاظتی سامان مہیا نہیں کیاجارہایہی وجہ ہے کہ اب روزانہ کسی نہ کسی مسیحا کی قیمتی جان چلی جاتی ہے مگر اس کااثر نہ تو وفاقی حکومت پر ہورہا ہے نہ صوبائی حکومتیں عمل کرنے کو تیار ہیں ملک کے ستر فیصد آبادی والے صوبے پنجاب کا وزیر اعلی جیٹ اور ہیلی کاپٹر میں بیٹھ کر ٹڈی دل کو غریب کاشتکاروں کی فصلوں کو کھاتا ہوا دیکھ رہاہے توسندھ والے سیاسی پوائنٹ سکور نگ میں مصروف ہیں۔ حالانکہ یہ وقت تھاکہ 18سیاسی جماعتیں (اپوزیشن توہے ہی نہیں) کسی ایک فیصلے پر جمع ہوکر اسی عالمی وباکے خلاف نبر و آزما ہوتیں اورعوام کے بچاؤ کیلئے اگرایک پیج پر نہ بھی ہوتے تو کم ازکم بیانات مثبت دئیے جاتے تاکہ عوام کی قوت مدافعت مزید کمزور نہ ہوتی جو اس وباء سے بچنے کیلئے انتہائی ضروری ہے لیکن عموماًدیکھنے میں آرہاہے کہ خیرکی خبر کی بجائے مزید پریشانی والے بیانات جاری کرکے عوام کو”سیاسی لوگوں“سے متنفر کیاجارہاہے معلوم نہیں کہ وزیراعظم کس اشرافیہ کی بات کررہے ہیں اورنہ جانے پی پی کے چیئرمین اس وبا کے پھیلنے میں وفاقی حکومت کوکیوں قصور وار ٹھہرا رہے ہیں مان لیتے ہیں کہ یہ ایک عالمی وبائی مرض ہے مگر کیا ٹڈی دل پہلی مرتبہ یہاں آیاہے جو کنٹرول سے باہر ہورہاہے وفاقی، پنجاب اورسندھ کی حکومتوں کی طرف سے قلابے آسمان کے ساتھ ملانے کے باوجود اس پر کنٹرول کرنے میں ناکامی ہورہی ہے اور ایک اندازے کے مطابق ملک کا تین لاکھ مربع کلو میٹر رقبہ اس سے متاثر ہواہاہے سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی حکومتی اداروں کی رپورٹ نہ صرف چشم کشا ہے بلکہ آنے والے وقت کیلئے خطرے کی گھنٹی بھی ہے کہ ایک طرف تو وفاقی وزیر فوڈ سیکورٹی سید فخر امام نے گندم درآمد کرنے کا بے موقع بیان دے کر پریشان کردیا ہے اس سے ایک طرف تو گندم کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ ہوا جبکہ دوسری طرف آٹا راتوں رات مہنگا ہو گیا جس سے گندم سے تیار ہونے والی تمام بمشول روٹی مہنگی ہوگئی حالانکہ پنجاب اور سندھ حکومت نے خریداری کے اپنے ٹارگٹ تقریباًمکمل کرلئے تھے البتہ پاسکو نے لیٹ خریداری شروع کرنے کی وجہ سے کچھ کم رہا لیکن یہ واضح ہے کہ پاسکو حفظ ماتقدم کے طورپر ان صوبوں کیلئے خریداری کرتاہے جن کے پاس اس کی کمی ہوتی ہے یاپھر وافر ہوتو ایکسپورٹ کردی جاتی ہے اب اس کا نقصان عام آدمی برداشت کرے گا۔لیکن وفاقی اورصوبائی حکومتوں کو سمجھ نہیں آئے گی البتہ انہیں اس حوالے سے بھی عورتوں کی طرح طعنے دینے کا موقع ضرور ملے گا۔ لیکن حکومتی اعداد و شمار پرغور کیاجائے تو اس سال کی گندم کاذخیرہ توموجودہی ہے تو پھر یہ مہنگائی کس طرح ہورہی ہے اورحکومت اس پرتوجہ کیوں نہیں دے رہی ہے اورگندم درآمد کرنے والے مافیا کے خلاف کارروائی نہیں کرتی۔کارروائی توابھی تک چینی پرسبسڈی لیتے اورپھر بھی مہنگی کرنے والے ان لوگوں کے خلاف بھی نہیں ہوتی جن کے نام اب تک سامنے آچکے ہیں کچھ بھاگ لئے ہیں اور کچھ نکلنے والے ہیں ا ب دیواروں کوپکڑااورحساب لیاجائے گاکیونکہ کسی کاایک حصہ پنجاب اوردوسرا ایف بی آراور کچھ ایف آئی اے کو تقسیم کردیاگیااب نہ یہ تینوں اہم ستون اکٹھے ہوں گے نہ اس کیس کی تحقیقات مکمل ہوں گے نہ تحقیقات مکمل ہوں گی تو کیں عدالت کیسے جائے گا کیونکہ اس کے پاؤں تو ہیں ہی نہیں لہذا یہ بھی ماضی کے اندھیروں میں دفن ہو جائے گا ٹھیک اسی طرح کہ جیسے صرف ایک پیغام پربجلی پیداکرنے والے پرائیویٹ اداروں کے خلاف تحقیقات کو بیانات سے بھی حذف کردیاگیاہے۔

ملتان سے تعلق رکھنے والی دوشخصیات خالق حقیقی سے جاملیں اندرون شہر سے مسلم لیگ (ن)کے سابق رکن قومی اسمبلی شیخ طاہر رشید مختصر علالت کے باعث مانچسٹر کے ہسپتال میں انتقال کرگئے وہ سابق رکن قومی اسمبلی شیخ رشید احمد مرحوم کے صاحبزادے اور شیخ طارق رشید سابق مئیر ملتان اور ایم این اے کے بھائی تھے مرحوم دبنگ اور متحرک شخصیت تھے اورجنرل ضیاء الحق کے دور میں مجلس شوریٰ کے رکن بھی رہے جبکہ معروف سرائیکی محقق، دانشور اور ماہر تعلیم پروفیسر شوکت مغل 73سال کی عمر میں انتقال کرگئے وہ علوم اسلامیہ میں ماسٹر ڈگری تھے سکول سے کالج میں اردو پڑھانے کے ساتھ تحقیقی کام بھی جاری رکھا۔ ان کی سرائیکی میں 56کتابیں شائع ہوچکی ہیں جبکہ لغت کے حوالے مختلف کتابوں کے تراجم بھی کئے اور اعزازات کی تعداد حاصل کی۔

مزید :

ایڈیشن 1 -