وزیر اعلیٰ محمود خان کی وزیر اعظم سے کامیاب ملاقات،

وزیر اعلیٰ محمود خان کی وزیر اعظم سے کامیاب ملاقات،

  

متنازعہ امور بھی حل ہونے کی امید بندھ گئی

عالمگیر وبا کورونا کی تباہیوں کے باوجود عید الفطر کے بعد سیاسی میدان بھی گرم ہوتا دکھائی دے رہا ہے، بالخصوص اپوزیشن جماعتوں نے یکدم سرگرمی دکھانا شروع کر دی ہے، خیبرپختونخوا اور پنجاب میں تو حزب اختلاف نے آل پارٹیز کانفرنس بھی منعقد کر ڈالیں،پاکستان پیپلزپارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری، جمعیت علمائے اسلام کے مولانا فضل الرحمن اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے میاں شہباز شریف نے بھی بڑی تیزی سے حکومت مخالف ایجنڈے پر کام شروع کر دیا۔ پشاور میں اپوزیشن جماعتوں نے اے پی سی کا انعقاد کر کے حکومت کے خلاف باقاعدہ تحریک کا اعلان کیا اگرچہ اپوزیشن جماعتوں کے صوبائی قائدین کا زیادہ تر موقف پاکستان تحریک انصاف کی وفاقی حکومت کے خلاف ہی سامنے آیا تاہم کورونا سمیت امور صحت پر صوبائی حکومت کی ناکامیوں پر بھی سیر حاصل تبصرے کئے گئے یہاں تک کہا گیا کہ کے پی کے حکومت شہریوں کو حفظان صحت اور جان و مال کے تحفظ میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ اس حوالے سے صوبائی حکومت کے ترجمان اجمل وزیر نے اپوزیشن کو آڑے ہاتھوں لیا اور یہاں تک کہا کہ خیبر پختونخوا میں اپوزیشن کی کل جماعتی کانفرنس بے وقت کی راگنی ہے۔اپوزیشن کو مسائل حل ہونے کے بعد مسائل کی نشان دہی یاد آجاتی ہے، وزیراعظم عمران خان کے وژن کے مطابق وزیراعلی محمود خان کی قیادت میں صوبے میں کورونا کے خلاف موثر اقدامات کئے جارہے ہیں، اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس پر ردعمل دیتے ہوئے مشیر اطلاعات اجمل وزیر نے کہا کہ موجودہ حالات ہم سے سیاست کا نہیں قومی یک جہتی کا مطالبہ کرتے ہیں، لاک ڈاؤن سے متاثرہ خاندانوں کے لیے حکومت نے احساس ایمرجنسی کیش پروگرام شروع کیا ہے جو ملک کی تاریخ کا شفاف ترین منصوبہ ہے۔صوبائی حکومت کی سرتوڑ کوششیں بھی جاری ہیں اور کورونا کی روک تھام کے لئے بالخصوص حال ہی میں جو سخت انتظامی رویہ اپنایا گیا ہے وہ قابل تعریف ہے ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے والے تجارتی مراکزاور گاڑیوں کے خلاف جو اقدامات کئے گئے اس سے وباکے پھیلاؤ میں کمی ضرور واقع ہوئی ہے سرکاری طور پر دی گئی اطلاعات کے مطابق خیبرپختونخوا میں 49 ہسپتالوں کو عالمی وبا کورونا سے نمٹنے کیلئے حفاظتی سامان کی 7 ویں کھیپ فراہم کر دی گئی۔ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق سامان میں این 95 ماسک، سرجیکل فیس ماسک، حفاظتی سوٹس اور گاونز شامل ہیں۔ قدرتی آفات سے نمٹنے والے صوبائی ادارے پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل کیمطابق حفاظتی سامان کی تقسیم این ڈی ایم اے کے طر یقہ کار کے مطابق کی گئی ہے۔ 3000 فیس ماسک اور 1500حفاظتی کٹس ریسکیو 1122کو بھی مہیا کر دی گئی ہیں۔

صوبائی حقوق کے حصول اور طویل عرصے سے متنازعہ چلے آنے والے معاملات کے حل کے لئے صوبائی وزیر اعلیٰ محمود خان نے بنی گالہ میں وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کی، ون آن ون ہونے والی اس میٹنگ کو نہایت کامیاب اور اہل خیبر کے لئے سود مند قرار دیا جا سکتا ہے صوبے میں میگا ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت اور خصوصا ضم شدہ اضلاع کے دس سالہ ترقیاتی پروگرام کے تحت تیز رفتار ترقیاتی منصوبوں سے متعلق مختلف معاملات کے علاوہ اگلے مالی سال کے لئے صوبائی حکومت کی بجٹ ترجیحات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ صوبے کے ان میگا منصوبوں میں چشمہ رائٹ بینک کینال منصوبہ، انڈس ہائی وے کو دو رویہ کرنے کا منصوبہ، پشاور ڈی آئی خان موٹر وے، سوات موٹروے فیز ٹو، رشکئی اسپیشل اکنامک زون وغیرہ شامل ہیں۔ وزیر اعلی نے سی آر بی سی لفٹ سسٹم منصوبے کو صوبے کی زراعت کے لئے انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے اسے اگلے پی ایس ڈی پی میں شامل کرنے کی استدعا کی۔ اس موقع پر پن بجلی کے خالص منافعوں کی مد میں صوبے کو بقایا جات کی ادائیگیوں خصوصا اس حوالے سے صوبائی حکومت اور واپڈا کے درمیان طے شدہ معاہدے کے مطابق ادائیگیوں سے متعلق معاملات پر گفتگو ہوئی۔۔ اس موقع پر وزیر اعلی نے صوبے میں کورونا کی صورتحال اور انسداد کورونا کے حوالے سے صوبائی حکومت کے اقدامات سے وزیر اعظم کو اگاہ کیا۔ وزیر اعلی نے کورونا وبا کی وجہ سے خلیجی ریاستوں میں مقیم خیبر پختونخوا کے شہریوں کو درپیش مشکلات سے بھی وزیر اعظم کو اگاہ کرتے ہوئے اس سلسلے میں ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھانے کی درخواست کی۔ خیر پختونخوا کے باسیوں کے لئے خوشخبری یہ ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے صوبائی وزیر اعلیٰ کی طرف سے پیش کردہ مسائل کے ناصرف فوری حل کی یقین دہانی کرائی بلکہ متنازعہ امور فوری طور پر طے کرنے لئے احکامات بھی جاری کر دیئے۔

صوبے میں آٹے کی فراہمی کا معاملہ پھر سر اٹھاتا دکھائی دے رہا ہے اور ذخیرہ اندوزوں، کساد بازاریوں نے خود ساختہ بحران پیدا کرنے کے لئے انڈر ہینڈ طریقے بھی اپنانا شروع کر دیئے ہیں اس حوالے سے اطلاع ہے کہ پنجاب سے خیبر پختونخوا کو گندم کی درآمد بند ہونے کے باعث پشاور میں بھی آٹے کی قلت دکھائی دے رہی ہے ، آٹے کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافے نے فلور ملز مالکان کے ساتھ ساتھ عوام اور نانبائیوں کی مشکلات بڑھا دی ہیں۔سبزیاں دالیں چکن گوشت اور پٹرول تو پہلے ہی عوام کے دسترس سے دور تھے،حکومتی پالیسیوں سے نالاں شہری زندگی کی سب سے بڑی اور بنیادی ضرورت آٹے کی قیمتوں میں اضافے کے باعث پریشان دکھائی دے رہے ہیں۔آٹا ڈیلروں نے بیس کلو آٹے کا تھیلا بارہ سو اور اور اسی کلو بوری کی قیمت پانچ ہزار تک پہنچا دی جس پرایک بار پھر نانبائی ہڑتال کرنے کا سوچ رہے ہیں۔

مزید :

ایڈیشن 1 -