دماغی رسولی کا عالمی دن،ریڈیو پاکستان لاہورکی خصوصی نشریات

دماغی رسولی کا عالمی دن،ریڈیو پاکستان لاہورکی خصوصی نشریات

  

لاہور(فلم رپورٹر)دماغی رسولیوں کے عالمی دن کے موقع پر ریڈیو پاکستان لاہور سے خصوصی پروگرام نشر،میزبان و پروڈیوسر مدثر قدیر جبکہ پی جی ایم آئی کے پروفیسر آف نیورو سرجری اور ایگزیٹو ڈائریکٹرڈاکٹر خالد محمود نے بزریعہ فون لائن شرکت کی،اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ دماغی رسولیوں کی 100 اقسام ہیں اور ہر رسولی کینسر نہیں ہوتی،دماغ میں بننے والی رسولیاں انسانی اعضا کو متاثر کرسکتی ہیں،سر درد،بولنے میں دقت،یاداشت کا خراب ہونااور نظر کا خراب ہونا بھی رسولیوں کی علامات ہوسکتا ہے۔جبکہ کرونا وائرس دماغ کی سوزش پیدا کرتا ہے جو جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے ان کا مزید کہنا تھا کہ ایک لاکھ کی آبادی میں 30لوگ کسی نہ کسی دماغی رسولی کا شکار ہوتے ہیں۔

جبکہ وراثتی طور پران کا منتقل ہونا تقریبا نہ ممکن ہے،دماغی رسولیوں کے علاج اور تشخیص کے حوالے سے ہمارا نظام امریکہ اور برطانیہ سے کم نہیں، تشخیص اور چھوٹے کٹ کے ذریعے آپریشن کرکے کم وقت میں مریض صحت یاب ہوجاتا ہے۔

مزید :

کلچر -