منی لانڈرنگ، اثاثہ جا کیس، شہباز شریف نیب لاہور کی تفتیشی ٹیم کو سوالات کے جوابات دینے میں ناکام

منی لانڈرنگ، اثاثہ جا کیس، شہباز شریف نیب لاہور کی تفتیشی ٹیم کو سوالات کے ...

  

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک،خبرنگار،کرائم رپورٹر) مسلم لیگ (ن)کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف نیب لاہور آفس میں پیش ہوکر منی لانڈرنگ اور اثاثہ جات کیس میں سوالات کے جوابات دینے میں ناکام رہے۔نجی ٹی وی ذرائع کے مطابق شہبازشریف سے ایک گھنٹہ تک تحقیقات کے دوران 37 سوالات کئے گئے جن میں سے وہ صرف 4 کے جواب دے سکے۔ شہباز شریف نے دوران تفتیش کیمرہ ہٹانے کا مطالبہ کیا اور نہ ہٹائے جانے پر کمرے سے اٹھ کر باہر چلے گئے تاہم بعد ازاں کچھ سوچ کر خود ہی واپس آ گئے۔ذرائع کے مطابق نیب ٹیم کی جانب سے کہا گیا کہ آپ کے خلاف 7 ارب روپے کا ریفرنس تیار ہے، کوئی جواب ہے تو بتا دیں، جس پر شہباز شریف نے صرف اتنا کہا کہ میں نے ایک روپیہ تنخواہ نہیں لی۔نیب تحقیقاتتی ٹیم نے شہباز شریف سے 1988سے لے کر 1999تک جائیداد کی تفصیلات جاننے کیلئے مختلف سوالات کیے، نیب ٹیم نے ماڈل ٹاؤن کی رہائش گاہ کو کیمپ آفس بنا کر حکومتی اخراجات اور 6کاروباری شخصیات سے قرضہ لے کر رقم بیرون ملک شفٹ کرنے کے بارے میں بھی تفتیش کی۔اس موقع پر میاں شہباز شریف نے کہا کہ وہ نیب کی تحقیقاتی ٹیم کو ان تمام سوالوں کے جوابات دے چکے ہیں۔ میاں شہباز شریف نے کہا کہ وہ اداروں کی مکمل طور پر عزت کرتے ہیں اور ہر قسم کے احتساب کیلئے تیار ہیں اور نیب لاہور کی ٹیم جب دوبارہ طلب کرے گی وہ حاضر ہو جائیں گے تاہم اس حوالے سے نیب کو بلاوجہ گرفتاری اور چھاپوں سے اجتناب کرنا چاہئے کیونکہ ایسے ہتھکنڈوں سے نیب کی خودمختاری پر سوالات جنم لیتے ہیں جوکہ ملکی اور اداروں کی سلامتی کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے۔علاوہ ازیں نیب لاہور نے میاں شہباز شریف کی پیشی کے موقع پر حکومتی ایس او پیز کے تحت سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے تھے جبکہ اس موقع پر مسلم لیگ(ن)کے رہنماؤں اورکارکنوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی،لاہور تنظیم کے سیکرٹری جنرل خواجہ عمران نذیر اورپارٹی رہنماء رانا ارشد کارکنوں کی قیادت کررہے تھے۔اپوزیشن لیڈر کی آمد پر کارکنوں نے گاڑی کو گھیر لیا اور میاں شہباز شریف اور حمزہ شہباز شریف کے حق میں نعرے بازی کرتے رہے۔

شہباز شریف/پیشی

مزید :

صفحہ اول -