پاکستان اور آئی ایم ایف میں بجٹ مذاکرات، اکتوبر تک بجلی اور گیس مہنگی نہ کرنے پر اتفاق

پاکستان اور آئی ایم ایف میں بجٹ مذاکرات، اکتوبر تک بجلی اور گیس مہنگی نہ ...

  

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک،آن لائن)پاکستان اور عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے درمیان بجٹ مذاکرات میں تنخواہیں اور پنشن بڑھانے پر اتفاق کرلیا گیا۔ اکتوبر 2020ء تک بجلی اور گیس بھی مہنگی نہیں ہوگی، بجٹ خسارہ قابو کرنے کیلئے متبادل آمدن پر اتفاق ہو گیا۔ وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کیساتھ آئندہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں ریلیف پر آمادگی کا اظہار اور بجٹ خسارہ قابو کرنے کیلئے متبادل آمدن پر اتفاق ہو گیا، آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ پاکستان نان ٹیکس آمدن بڑھائے گا۔ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف آئندہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی تک شرائط میں نرمی کرے گا اور وفاقی حکومت سٹیٹ بینک سے قرض نہ لینے کی شرط برقرار رکھے گی۔وزارت خزانہ حکام نے آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی کہ موجودہ قرض پروگرام کی بیشتر شرائط اکتوبر کے بعد پوری ہوں گی۔ پاکستان موجودہ قرض پروگرام پر کاربند رکھے گا۔علاوہ ازیں حکومت نے 7 ہزار 570 ارب روپے کے وفاقی بجٹ کا مسودہ تیار کر لیا جس میں خسارہ 3 ہزار ارب روپے کے لگ بھگ ہے، میڈیا رپورٹس کے مطابق رواں ہفتے وفاقی کابینہ میں پیش کیاجائے گا جس کی منظوری کے بعد 12جون کو پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں و پنشن میں 20 فیصد تک اضافے کا امکان ہے۔ زراعت، توانائی کے منصوبوں کیلئے درآمدی مشینری پر کسٹمز، ایکسائز ڈیوٹیز میں 3 فیصد تک کمی متوقع ہے۔سٹاک مارکیٹ کے ٹیکسوں میں بھی سہولت دی جائے گی۔ ٹیکس وصولیوں کا ہدف ساڑھے 4 ہزار ارب اور ترقیاتی بجٹ 530 ارب تک مختص ہونے کا امکان ہے۔ تعمیراتی صنعت کو خصوصی مراعات جبکہ ترقیاتی منصوبوں کیلئے سرکاری،نجی شراکت داری کے تحت 200 ارب سے زیادہ مختص کرنے کی تجویزہے۔بنیادی اشیائے خورونوش پر ٹیکس میں کمی، کورونا سے نمٹنے اور کاروبار کی سہولت کیلئے ہزار ارب مختص، اسلام آباد میں پرتعیش گھروں اور جائیدادوں پر لاکھ سے 2لاکھ روپے تک لگژری ٹیکس امکان ہے۔دوسری جانب آئی ایم ایف نے 6 ارب ڈالر کے ایکسٹنڈڈ فنڈ فسیلیٹی پروگرام کو آئندہ وفاقی بجٹ میں چھوٹے اقتصادی ڈھانچے کی مجوزہ اصلاحات سے مشروط کردیا۔ رپورٹ کے مطابق منجمند قسطیں جاری کرنے کیلئے ڈیوٹی و ٹیکسوں میں غیر ضروری چھوٹ و رعایتیں ختم کرنے پر زوردیاجارہا ہے،رواں ہفتے ویڈیوکانفرنس میں بجٹ سازی سے متعلق اہم اقدامات زیر غور آئیں گے۔

بجٹ مذاکرات

مزید :

صفحہ اول -