امریکہ، کورونا میں کمی، ملازمتوں میں ریکارڈ اضافہ، معیشت بہتری کی طرف گامزن

امریکہ، کورونا میں کمی، ملازمتوں میں ریکارڈ اضافہ، معیشت بہتری کی طرف گامزن

  

واشنگٹن (اظہر زمان،خصوصی تجزیاتی رپورٹ) دنیا میں سب سے زیادہ کرونا وائرس سے متاثر ہونے والے ملک امریکہ کو بے شمار ہلاکتوں کے علاوہ معاشی تباہی کا سامنا تھا اور ابھی اس سے چھٹکارا نہیں ملا تھا 25مئی کو ریاست منی سوٹا کے شہر میناپولس میں ایک سیاہ فام باشندے جارج فلائیڈ کی سفید فام پولیس افسر کے ہاتھوں ہلاکت سے ایسا احتجاج شروع ہو گیا جو جلد ہی نسلی منافرت کے خلاف ملک گیر احتجاجی تحریک کی صورت اختیار کر گیا۔ لیکن گزشتہ ایک ہفتے میں کرونا وائرس میں جس تیز رفتاری سے کمی واقع ہوئی اس نے حالات کو یک دم بدل کر رکھ دیا۔ قبل ازیں معاشی ماہرین ایک مایوس کن نقشہ پیش کر رہے تھے کہ جون میں ملازمتوں میں زبردست کمی آئے گی اور بیروزگاری کی سطح معاشی تنزل کے دور کی طرح بیس فیصد تک گر جائے گی۔ ان اندیشوں کے برعکس کرونا وائرس کی اموات اور کیسز میں زبردست کمی آنے کے بعد ملازمتوں میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے اور معیشت تیزی سے بہتری کے راستے پر گامزن ہو گئی ہے۔ بیوریو آف لیبر کے کے اعداد و شمار کے مطابق بیروزگاری کی سطح 20فیصد تک نہیں گری۔ اپریل میں اس کی سطح 14.7فیصد تھی جو مئی میں بہتر ہو کر 13.3فیصد ہو گئی۔ معیشت کے پلٹا کھانے کے بعد مئی میں 25لاکھ ملازمتوں کا اضافہ ہوا جو امریکی تاریخ میں سب سے بڑا ریکارڈاضافہ ہے۔ صورت حال میں حوصلہ افزا تبدیلی کے بعد صدر ٹرمپ نے نومبر کے صدارتی انتخابات کے سلسلے میں اپنی انتخابی ریلیوں کو آئندہ دو ہفتوں میں شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ صدر ٹرمپ کی انتخابی مہم کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ امریکی اب دوبارہ عمل کیلئے تیار ہو گئے ہیں اس طرح صدر ٹرمپ بھی متحرک ہونے کے لئے پر تول رہے ہیں۔ تاہم صدریا ان کی مہم کی طرف سے ریلیاں شروع کرنے کی تاریخ نہیں بتائی گئی جس کے لئے ان کا غور و خوض جاری ہے۔ کرونا وائرس کی وباء کا زور ٹوٹنے کے بعد پورے ملک میں کاروبار دوبارہ کھلنے کی تیاریاں کر رہے ہیں جس کے بعد معیشت دوبارہ بحال ہونے کا امکان ہے۔ نسلی امتیاز کے خلاف تحریک ابھی جاری ہے جو سیاہ فام کی ہلاکت کے ذمہ دار افسروں کو سزا دینے، پولیس فنڈ ختم کرنے اور محکمہ پولیس کی از سر نو تشکیل کے مطالبات کے بعد اب صدر ٹرمپ کو آئندہ انتخابات میں شکست دینے کے ایجنڈے کی طرف مبذول ہو گئی تھی، تاہم اب ملکی معیشت کی بہتری کی امید کے ساتھ صدر ٹرمپ اور ان کی انتخابی مہم کے اعتماد میں اضافہ ہو گیاہے۔ اسی لئے صدر ٹرمپ نومبر کے صدارتی انتخابات کے لئے اپنی ریلیوں کو دوبارہ شروع کرنے جا رہے ہیں۔ وہ ان مشکلات پر قابو پانے کا کریڈٹ لے کر امریکی ووٹروں کو متاثر کرنے کی کوشش کریں گے۔ غیر جانبدار مبصرین کی رائے یہ ہے کہ ملکی حالات کی خرابی کا ڈیمو کریٹک صدارتی امیدوار جوبیڈن فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ لیکن اب ایک تو معیشت بہتر ہونے کا امکان ہے دوسرے جوبیڈن صدر ٹرمپ کے مقابلے پر ایک ”غیر متاثر کن“ شخصیت شمار ہوتے ہیں اس لئے اگر نسلی امتیاز کے خلاف احتجاجی تحریک نے زیادہ زور نہ پکڑا تو صدر ٹرمپ با آسانی جیت سکتے ہیں ابھی تک تو ایسا نظرا ٓ رہا ہے کہ وہ احتجاجی تحریک کو ایک خاص تک روکنے میں کامیاب رہے ہیں وباء کی کمی سے معیشت میں بہتری آ رہی ہے تو وہ اس کا کریڈٹ بھی انتخابات میں لیں گے۔ کرونا وائرس سے امریکہ میں بیس لاکھ سے زائدافراد متاثر ہوئے ہیں اور اب تک ایک لاکھ دس ہزار کے قریب افراد جان سے ہاتھ دھوچکے ہیں۔ تاہم ایک جائزے میں بتایا گیا ہے کہ سماجی فاصلے اور لاک ڈاؤن کی مؤثر حکمت عملی کے باعث چھ کروڑ افراد کو وباء سے بچا لیا گیا ہے۔ برکلے یونیورسٹی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس وباء کا مقابلہ کرنے کے لئے لاک ڈاؤن سے بہتر کوئی حربہ نہیں ہے۔ امریکہ کے علاوہ چین، جنوبی کوریا، اٹلی، ایران اور فرانس نے اس پر سختی سے عملدرآمد کر کے اس وباء پر قابو پایا ہے۔ مبصرین کے مطابق صدر ٹرمپ امریکہ کو درپیش تینوں بڑے چیلنجوں، کرونا وباء، معیشت کی خرابی اور نسلی امتیاز کے خلاف احتجاجی تحریک پر قابو پانے میں کامیاب نظر آ رہے ہیں جس کا فائدہ انہیں آئندہ انتخابات میں پہنچنے والا ہے جو دوبارہ صدر منتخب ہوتے نظر آ رہے ہیں۔

ٹرمپ

مزید :

صفحہ اول -