18برس سے کم عمر کے مجرموں کو سزائے موت نہیں دی جاسکتی:لاہور ہائیکورٹ

18برس سے کم عمر کے مجرموں کو سزائے موت نہیں دی جاسکتی:لاہور ہائیکورٹ

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ پاکستان نے اقوام متحدہ کے بین الاقوامی چارٹر پر دستخط کر رکھے ہیں جس کے تحت 18 برس سے کم عمر کے مجرموں کو موت کی سزا نہیں دی جا سکتی، چیف جسٹس مسٹر جسٹس محمد قاسم خان اور مسٹر جسٹس محمد اصغر گھرال پر مشتمل ڈویژن بنچ نے یہ آبزرویشن دوران ڈکیتی قتل کے مجرم محمد اقبال کی موت کی سزا 20 برس بعد عمر قید میں تبدیل کرنے کے اپنے تحریری فیصلے میں دی ہے،عدالت نے مجرم کے وقوعہ کے وقت نابالغ ہونے کی بنیاد پر موت کی سزا عمر قید میں تبدیل کی،فاضل بنچ نے قرار دیا کہ نابالغ قیدیوں کی سزاؤں میں رعایت دینے کا صدارتی آرڈیننس نافذ ہونے کے بعد ہوم ڈیپارٹمنٹ کو مجرم کی موت کی سزا کم کروانے کا ریفرنس بھیجنے کی ضرورت نہیں،یہ تسلیم شدہ صورتحال ہے کہ نابالغ قیدیوں کو سزامیں رعایت دینے کی پالیسی کو قانونی تحفظ حاصل ہے، نابالغ قیدی کی عمر کے تعین یا دوسرے بہانوں سے ملزم کو قانون میں دی گئی رعایت سے روکنا محکمانہ ایجنسیوں کا اقدام ناانصافی پر مبنی ہے،کسی بھی ایسی پالیسی کو خاص طور پر جو ملزم کی طرفداری کرتی ہو اسے کسی موقع اور وقت کی بنیاد پر محدود نہیں کیا جا سکتا، عدالت نے قرار دیا کہ مجرم محمد اقبال کو قتل کے مقدمہ میں 1998 ء میں گرفتار کیا گیا، ٹرائل کورٹ نے 1999ء میں مجرم کو موت کی سزا سنائی جسے ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ نے برقرار رکھا، اس حقیقت سے انکار نہیں کہ 2001ء میں صدارتی حکم کے تحت نابالغ قیدیوں کی سزاؤں میں خصوصی رعایت دینے کا آرڈیننس جاری ہوا، صدر مملکت نے مجرم کی سزا کے خلاف رحم کی پہلی اپیل خارج کی جبکہ نابالغ قیدی کی حیثیت سے خصوصی رعایت کیلئے مجرم کی دوسری رحم کی اپیل تاحال صدر مملکت کے پاس زیر التواء ہے، ہوم ڈیپارٹمنٹ پنجاب تسلیم کر چکا ہے کہ مجرم وقوعہ کے وقت نابالغ تھا، اس میں بھی کوئی شک نہیں اور تسلیم کیا جا چکا ہے کہ مقتول کے لواحقین نے مجرم کو معاف کر رکھا ہے، مقتول کے لواحقین کے معاف کرنے سے یہ امر عیاں ہے کہ وہ مجرم محمد اقبال کو پھانسی پر لٹکانے میں دلچسپی نہیں رکھتے، مجرم محمد اقبال نے موجودہ کیس میں آئین و قانون سے بالاتر کسی بھی چیز کا تقاضا نہیں کیا،درخواست میں مجرم نے اقوام متحدہ کے کنونشن کے تحت صرف صدارتی آرڈر اور حکومتی پالیسی پر عملدرآمد کی استدعا کی ہے، ٹرائل کورٹ میں مجرم کی عمر کا تعین کیا جا چکا ہے، 2018ء میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم ڈیپارٹمنٹ نے مجرم کو رعایت دینے کا ریفرنس بلاجواز صدر مملکت کو بھیجا کیوں کہ درخواست گزار سرکاری پالیسی اور قوانین کے تحت ہی اس رعائت کا مستحق تھا، اس سلسلے میں کسی ریفرنس کی ضرورت ہی نہیں تھی۔

ہائیکورٹ

مزید :

صفحہ اول -