پنجاب اسمبلی، حمزہ شہباز کی اسیری کیخلاف مسلم لیگ (ن) کا واک آؤٹ

          پنجاب اسمبلی، حمزہ شہباز کی اسیری کیخلاف مسلم لیگ (ن) کا واک آؤٹ

  

لاہور(نمائندہ خصوصی)پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز کی ایک سال سے زائد قید پر مسلم لیگ(ن) کا ایوان سے واک آؤٹ،رانامشہود کاکہناتھاکہ حمزہ شہباز کو جان بوجھ کر پابند سلاسل رکھاجارہاہے،راجہ بشارت نے کہا کہ حمزہ شہباز کی قید پر بولے کہ ہم نے نہیں نیب نے گرفتار کیاہے، سپیکر کا محکمہ خوراک اور پارلیمانی سیکرٹری پر تیاری نہ کرنے کی وجہ سے برہمی کا اظہار سپیکر نے محکمہ خوراک سے متعلقہ سوالات موخر کردئیے، تدریسی کتابوں میں اسلامی معلومات کے حوالے سے پنجاب کریکولم اینڈ ٹیکسٹ بک بورڈ ترمیمی بل2020 متفقہ طورپر منظورکرلیاگیا،نصابی کتب میں شعائر اسلام سے متعلقہ کسی قسم کی ترمیم علماء بورڈ کی منظوری کے بغیر نہیں ہو سکے گی۔ پنجاب اسمبلی کا اجلاس ایک گھنٹہ 36 منٹ کی تاخیر سے سپیکر چودھری پرویز الٰہی کی صدارت میں شروع ہوا۔ پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں چودھری بلاول اصغر اور صوبائی وزیر راجہ راشد حفیظ کی والدہ کی روح کے ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی۔ اجلاس میں محکمہ خوراک کے بارے میں سوالوں کے جوابات دئے جانے تھے لیکن سپیکر پرویز الٰہی نے صوبائی وزیر خوراک علیم خان کی عدم موجودگی پر برہمی کااظہارکرتے ہوئے کہا کہ انہیں معلوم ہے کہ اجلاس چل رہا ہے،صوبائی وزیر خوراک ایوان میں موجود کیوں نہیں ہیں، سوال جواب ان کے محکمے کے ہیں، منسٹر کو اجلاس میں آنا چاہئے، اسلام آباد میں ہیں تو کیا کریں اجلاس تو کئی دنوں سے چل رہاہے،سوالوں کے جوابات متعلقہ محکمہ کے پارلیمانی سیکرٹری رائے ظہور احمد نے دینے شروع کئے تو وہ صحیح جوابات نہ دے سکے جس پر سپیکر پرویز الٰہی نے محکمہ کے حکام اور پارلیمانی سیکرٹری کی سرزنش کی، آپ کی محکمے کے متعلق تیاری نہیں اگلی بار تیاری کرکے اجلاس میں آئیں۔ جس کے بعد سپیکر نے سوالات کو موخر کردیا۔اسمبلی کے اجلاس میں مسلم لیگ ن نے اجلاس سے حمزہ شہباز شریف کی بے جاقید کو ایک سال ہونے پر ایوان سے علامتی واک آؤٹ کیا۔مسلم لیگ ن کے ایم پی اے رانا مشہود نے کہا کہ 12 جون کو حمزہ شہباز کو جیل میں ایک سال مکمل ہوجائے گا،آج کے دن تک حمزہ شہباز کیخلاف ریفرنس نہیں بن سکا۔مسلم لیگ(ن) کے واک آؤٹ پر وزیر قانون راجہ بشارت نے کہا کہ حمزہ شہباز کسی ایگزیکٹو آرڈر کے تحت جیل نہیں گئے جبکہ میاں نواز شریف علاج کیلئے باہر گئے مگر مفرور ہونے کا کہیں تو نعرہ بازی شروع کردیتے ہیں،سپیکر نے کہا کہ پنجاب حکومت کا حمزہ شہباز کیس سے کوئی تعلق نہیں،اس دوران پنجاب اسمبلی سپیکر نے ماسک نہ پہننے والے ممبران کو سختی سے ایس او پیز پر عمل درآمد کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ کورونا سب پر حملہ آور ہورہاہے جو ممبر بھی آئے وہ ماسک پہن کر ایوان میں بیٹھے۔غیر سرکاری کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے رکن اسمبلی خدیجہ عمر کی طرف سے پیش کردہ بل پنجاب اسمبلی پنجاب کریکولم اینڈ ٹیکسٹ بک بورڈ ترمیمی بل2020 ایوان نے متفقہ طورپر منظور کر لیا.مسلم لیگ ق کی رکن خدیجہ عمر نے ایوان میں پنجاب کریکولم اینڈ ٹیکسٹ بک بورڈ ترمیمی بل2020 پیش کیا، بل کے مطابق اسلامیات، مطالعہ پاکستان، تاریخ، اردو لٹریچر اور دوسرے مضامین کا اسلامی مواد تدریسی کتابوں میں اس وقت تک شائع نہیں ہوگاجب تک متحدہ علما بورڈ پنجاب منظوری نہیں دے گا۔ سپیکر نے کہا کہ ختم نبوتؐ کی حفاظت پر ایوان مبارکباد کا مستحق ہے،نصابی کتابوں میں اسلام کے حوالے سے شر پھیلایا جارہا ہے، ہم آنے والی نسلوں کو شر سے محفوظ رکھنا چاہتے ہیں یہ ملک اسلام کے نام پر بنا ہے ہم کسی صورت اسلام کی توہین نہیں ہونے دیں گے۔وزیر تعلیم مراد راس نے کہا کہ جنہوں نے مذموم حرکت کی ان کے خلاف مقدمات درج کروائے۔سپیکر پرویز الٰہی نے کہا کہ پنجاب کریکولم اینڈ ٹیکسٹ بک بورڈ کے معاملے پر ایسے ہی منہ اٹھا کر نہیں آ گئے پوری تحقیقات کی ہیں، بل حکومت اور اپوزیشن نے مشترکہ طور پر منظور کر لیا۔پنجاب اسمبلی پنجاب اسمبلی نے پروفیسر وارث میر سے متعلق قرار داد متفقہ طورپر منظور کر لی، پانی کی فراہمی کیلئے فلٹریشن پلانٹس لگانے کی قرارداد متفقہ طورپر منظور کر لی گئی۔ایوان نے ماؤں کے عالمی دن پر ماؤں کے تحفظ کیلئے قرارداد کثرت رائے سے منظور کر لی،پنجاب اسمبلی میں دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر کے حوالے سے تیسری قرارداد بھی کثرت رائے سے منظور کر لی گئی۔ ایوان میں چار قراردادیں آؤٹ آف ٹرن بھی پیش کی گئیں جن میں ایک وارث میرکو خراج عقیدت پیش کرنے کی دوسری حضرت عمر بن عبدالعزیر، ان کی اہلیہ حضرت فاطمہ اور ان کے غلام کی قبروں کی بے حرمتی کے حوالے مذمتی قرارداد تھی جو کہ معاویہ اعظم کی جانب سے پیش کی گئی تیسری سید حسن مرتضی کی جانب سے تھی جس میں حضرت فاطمۃ الزہرہ کا جنت البقیع میں مزار بنانے کے حوالے سے تھی،سکھ اقلیتی رکن رمیش سنگھ اروڑہ کی طرف سے پیش کی گئی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ 6جون 1984ء سکھ قوم کا مقدس ترین استھان شری اکال تخت پر بھارت فوج کے ٹینکوں اور توپوں سے سے حملے کی مذمت کرتا ہے اور مطالبہ کیا کہ بھارت کے اس گھناؤنے کھیل میں جو بھی شامل تھے انہیں قرارواقعی سزا دی جائے۔اجلاس کا وقت ختم ہونے پر اجلاس جمعہ12جون دوپہر دو بجے تک ملتوی کردیا گیا۔

پنجاب اسمبلی

مزید :

صفحہ آخر -