پنجاب حکومت اور وباء

پنجاب حکومت اور وباء
 پنجاب حکومت اور وباء

  

آج ساری دنیا کورونا وائرس کی زد پر ہے،اس وائرس کی کوئی ویکسین بھی دریافت نہیں کی جا سکی، سائنسدانوں کے مطابق اس وباء پر قابو پانا مستقبل قریب میں ممکن نہیں یعنی نوع انسانی اس قدرتی وباء کے رحم و کرم پر رہے گی، کب تک؟ نہیں معلوم، اور کون کون اس کی زد میں آئے گا کوئی نہیں جانتا مگر ہم نے اس نازک، سنگین، اور ابترین صورتحال کو بھی کاروبار بنا لیا ہے۔ حکومت تو خیر یونہی قابل رحم ہے خاص طور پر پنجاب حکومت، اس کے انتظامی، سیاسی امور الامان و الحفیظ، اسے معلوم ہی نہیں کس سے کیا کام لینا ہے،کون کس فن میں ماہر ہے اور کس مشکل کا مداوا کون کر سکتا ہے؟ یا پھر یہ جانتے بوجھتے اس سے انجان بنی ہوئی ہے، وزیر اعلیٰ عثمان بزدار سے کیا شکوہ کیسا گلہ کہ وہ آج بھی شخصی حکومت کے قیام کیلئے کوشاں ہیں، ان کی تان وزیر اعظم سے شروع ہوتی ہے وہیں ختم ہو جاتی ہے۔

کورونا کیا اور کیسی تباہی پھیلا رہا ہے اس سے انہیں کوئی غرض ہے نہ اس وباء سے نبٹنے کی اہلیت ہے، بیوروکریسی کو وہ ہاتھ کی چھڑی اور جیب کی گھڑی بنا نا چاہتے ہیں، مگر کسی کو پوچھنے کیلئے بھی کچھ جاننا ضروری ہوتا ہے۔ آج جس کی جو مرضی ہے کئے جا رہا ہے کوئی سمجھانے والا نہیں، ٹیم ورک کا مکمل فقدان ہے۔ میرا کام تو لکھنا ہے وہ کرتا رہوں گا، ہم نیک و بد حضور کو سمجھائے دیتے ہیں مگر اس قدرتی آفت میں نجی ہسپتالوں کا رویہ من مانی اور لوٹ مار پنجاب حکومت کی کارکردگی اور اہلیت پر سوالیہ نشان ہے مگر بد قسمتی سے اس سوالیہ نشان پر کسی کی آنکھ نہیں ٹک رہی، ڈاکٹروں سے کام لیا جا رہا ہے مگر انہیں حوصلہ ہی نہیں دیا جا رہا ایک بہت نیک نام اور محنتی ڈاکٹر سلیم چیمہ کو سروسز ہسپتال کا ایم ایس مقرر کیا گیا تو انہوں نے اس کی جون ہی بدل کے رکھ دی، ہسپتالوں، ڈاکٹروں اور صحت سے متعلقہ معاملات کو سمجھنے والے اور ان کے ناقد سنیئر رپورٹر جاوید اقبال تک ان کے کاموں کے معترف تھے مگر ایسے شاندار منتظم کم ڈاکٹر سلیم چیمہ کو کسی الزام کے بغیر کورونا کی وبا کے آغاذ میں ہی تبدیل کر دیا گیا۔کیا اس طرح ہم ڈاکٹروں کو حوصلہ دے رہے ہیں یا ان کو بتا رہے ہیں کہ کام کرنا جرم ہے،ایسے میں پنجاب حکومت سے کارکردگی کی امید ہی عبث ہے۔

اس وقت نجی ہسپتالوں اور پرائیویٹ کلینکس کے مالکان کورونا کی آڑ میں خود وائرس بن چکے ہیں،کئی گنا زائد قیمت پر ٹیسٹ کئے جا رہے ہیں،اوران ٹیسٹوں کا رزلٹ بھی مشکوک ہے،مریضوں کو لاکھوں روپے لیکر قرنطینہ دیا جاتا ہے،دوا دارو کے اخراجات عام شہری تو کیا متوسط طبقہ کی برداشت سے بھی باہر ہیں،کورونا کا پھیلاؤ روکنے کیلئے جن احتیاطی تدابیر کی ضرورت ہے ان کا بھی فقدان ہے مگر کوئی ادارہ ان سے باز پرس کرنے والا ہی نہیں،سرکاری ہسپتالوں میں حالات اس سے بھی دگر گوں ہیں،یہ ٹھیک کہ وہاں پیسے خرچ نہیں ہوتے مگر جتنی بے احتیاطی وہاں دیکھنے میں آئی اور جس قدر سہولیات کی کمی ہے اس کو دیکھتے یہ کہنا کچھ مشکل نہیں کہ اگر وہاں صحت مند شخص کو رکھا جائے تو چند منٹ میں وہ بھی کورونا کا شکار ہو جائے، ستم یہ کہ علاج معالجہ اور حفاظت پر مامور عملہ بھی حفاظتی لباس ماسک سینی ٹائزر سے محروم ہے اور یہ لوگ بھی تیزی سے اس وباء کا شکار ہو رہے ہیں، ضرورت ہے نجی ہسپتالوں کیلئے ایک ضابطہ اخلاق ترتیب دیکر اس پر عملدرآمد کرانے کی، ٹیسٹوں کے نرخ مقرر کرنے اور زائد وصولی روکنے کی، پرائیویٹ کلینکس میں کورونا کے علاج کی سہولت لازمی فراہم کرنے کی، اس سے بھی زیادہ ضرورت احتیاطی تدابیر کو اختیار کرنے کی ہے تاکہ کورونا کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔

چاند رات کو حکومت نے ماکیٹیں کھول دیں اور لاک ڈاؤں ختم کر دیا،تب اٹھنے والے طوفان بد تمیزی کے دوران شہریوں سے گزارش کی تھی کہ اپنی اور دوسروں کی زندگی کی قیمت پر عید کی خریداری نہ کریں یہ بھی تنبیہ کی تھی کہ اس بے احتیاطی کے نقصان کا اندازہ عید کے چند دن بعد ہو گا اور خدشات درست ثابت ہوئے، نہ صرف کورونا مریضوں کی تعداد میں بے تحاشا اضافہ ہواء بلکہ ہلاکتیں بھی بڑھ گئیں اور ابھی جانے ایسے کتنے ہیں جو کورونا کے کیرئر بنے اسے تاحال پھیلانے میں مصروف ہیں،کاروبار کرنا جرم ہے نہ خریدو فروخت مگر یہ کام اگر احتیاطی تدابیر اپنا کر کیا جائے تو خود بھی محفوظ رہا جا سکتا اور دوسروں کو بھی تحفظ دیا جا سکتا ہے اور اگر نجی ہسپتالوں کو کورونا کی روک تھام میں ایسے شامل کیا جائے جیسے ڈینگی کے دنوں میں شہباز شریف نے نجی ہسپتالوں کو ساتھ ملا کر چلنے اور مریضوں کو سرکاری نرخ پر ٹیسٹ اور علاج کی سہولت دینے پر مجبور کیا تھا ایسے ہی اب انہیں کورونا مریضوں کے سرکاری نرخ پر ٹیسٹ اور علاج کی سہولت دینے پر مجبور کیا جائے،ورنہ لوٹ مار بھی جاری رہے گی اور اس قدرتی آفت کا مقابلہ بھی نہیں کیا جا سکے گا، نقصان کا اندازہ تو لگانا ہی مشکل ہو گا،اس لئے عثمان بزدار صاحب جو وسائل موجود ہیں ان کو قرینے سے استعمال میں لائیں اور اس آفت کا مقابلہ کریں ورنہ یہ وائرس کس کس کو نگلے گا اس بارے کچھ نہیں کہا جا سکتا، اللہ ہم پر رحم فرمائے۔

اللہ تعالیٰ قران ٰمجید میں اپنے احسانات انعامات یاد دلا کر بار بار اہل اسلام سے استفسار کرتے ہیں کہ (ترجمہ)”اے بنی آدم تم میری کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے“سچ یہ ہے کہ ہم نے اللہ رب العزت کی کسی نعمت اور کسی احسان کا شکر ادا نہیں کیا اور خود کو ایک ناشکری قوم کے طور پر متعارف کرانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، حالات کیسے بھی ہوں سانحہ کیسا بھی شدید ہو،حادثہ کسی بھی نوعیت کا ہو ہماری لالچی اور حرصی طبع اپنے عروج پر ہوتی ہے،اللہ عزوجل،نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات،اسلامی تعلیمات، اخلاقی روایات کو پامال اور انسانی اقدار کو فراموش کرکے اپنی جیب ہر جائز نا جائز طریقے سے بھرنا ہم نے فرض اول جانا،ہم میں سے ہر مسلمان کی دعا ہوتی ہے مالک ہمیں موت اسلام اور ایمان پر آئے مگر ہم زندگی اسلامی تعلیمات کے مطابق گزارنے کیلئے تیار نہیں،ہر رشوت خور، منافع خور، ذخیرہ اندوز، قبضہ گروپ، ڈاکو لٹیرا اس لوٹ مار کی رقم سے ہر سال عمرہ و حج کرنا بھی ضروری گردانتا ہے،عمر کے آخری حصے میں حقوق اللہ کی طرف توجہ ہوتی ہے صدقہ خیرات کی طرف بھی طبیعت مائل ہو جاتی ہے مگر حقوق العبادجن کی ادائیگی کو فرض قرار دیا گیا اہمیت اور فوقیت دی گئی اس پر کوئی دھیان نہیں دیا جاتا، ترقی یافتہ ممالک کی ترقی و خوشحالی پر طائرانہ سی نظر دوڑائیں تو معلوم ہوتا ہے وہاں ہر شہری ملکی قوانین اور انسانی ہمدردی کے مطابق حقوق العباد کا بہت خیال کرتے ہیں،ہر آجر اپنے ماتحت کا حق ادا کرتا ہے، شہریوں کو اپنے نظام انصاف پر اتنا اعتماد ہے کہ کوئی کسی کے ساتھ زیادتی کرنے سے پہلے سو بار سوچتا ہیاور مظلوم کو یقین ہوتا ہے کہ اسے نہ صرف بر وقت انصاف ملے گا بلکہ ظالم کو سزا بھی ملے گی، ہمارے ہاں مگر نظام انصاف پر آج بھی سوالیہ نشان ہے،چھوٹے چھوٹے معاملات کیلئے انصاف حاصل کرنے کیلئے برسوں کا عرصہ اور ڈھیروں روپے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اب اگر ہم بحرانوں اور مسائل و مشکلات کا شکار ہیں تو ذمہ دار بھی خود ہیں،مذہبی اور قومی تہواروں پر دنیا بھر میں عام لوگوں کی شرکت کیلئے چیزوں کے نرخ کم کر دئیے جاتے ہیں ہمارا رمضان المبارک بھی منافع خوری میں گزرا اور اب اس مہلک وبا سے بھی ہم نے کچھ نہیں جانا۔ اللہ ہم پر رحم کرے۔

مزید :

رائے -کالم -