نئے مالی سال کے تعلیمی بجٹ میں کوئی کٹوتی نہ کی جائے‘ سول سوسائٹی

نئے مالی سال کے تعلیمی بجٹ میں کوئی کٹوتی نہ کی جائے‘ سول سوسائٹی

  

پشاور (سٹی رپورٹر)پشاور سول سوسائٹی کی تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ خیبر پختونخوا کے نئے سال مالی بجٹ میں تعلیمی تر قیاتی بجٹ میں کوئی کتوتی نہ کی جائے جبکہ کڑکیوں کے تعلیم کیلئے کورونا وباء کے سلسلے میں کیے گئے اقدامات پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے کیونکہ تعلیم کسی بھی معاشرے کی پائیدار ترقی کی بنیاد اور ضامن ہوتی ہے. پاکستان میں تعلیم کی بہتری میں بڑا کردار ہے اور آئین پاکستان کہ آرٹیکل 25 اے بھی ہر پاکستانی بچے کی مفت اور لازمی تعلیم کی ذمہ داری حکومت پاکستان پر عائد کرتا ہے جس کے مطابق ریاست پانچ سے سولہ سال کی عمر کے تمام بچوں کو مفت لازمی تعلیم مہیا کرے گی..پشاور پریس کلب میں سول سوسائٹی کی تنظیموں کے عہدیداران بلو وینز کے پروگرام کوآرڈینیٹر'قمر نسیم،سماجی رہنما ثناء احمد،سوشل ایکٹیوسٹ جنت محمود نے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کرونا وائرس کی وجہ سے تعلیم کی صورتحال پر بالعموم اور لڑکیوں کی تعلیم پر بالخصوص منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں اور خطرہ ہے کہ بہت ساری لڑکیاں اپنی تعلیم جاری نہ رکھ سکے اور ان کی بچپن میں شادیاں کر دی جائیں. انہوں نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا میں لاکھوں بچے تعلیم حاصل نہیں کر سکتے جس کی وجہ محض کرونا وائرس کا پھیلاؤ نہیں بلکہ سکولوں کا نہ ہونا, اساتذہ کا نہ ہونا اور اسکولوں میں سہولیات کا فقدان ہے.جبکہ کورونا وائرس اور لاک ڈاؤن کے معاشی اور معاشرتی اثرات نے بالخصوص غریب گھرانوں سے تعلق رکھنے والی لڑکیوں کے لئے تعلیم تک رسائی کو اور مشکل بنا دیا ہے - لڑکیوں کی اسکولوں میں واپسی اور تعلیم کے جاری رکھنے کو یقینی بنانے کے لئے حکومت کو ٹھوس اقدامات اٹھانا پڑیں گے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 22.8 ملین بچے سکولوں سے باہر ہیں جن کی ایک بڑی تعداد لڑکیوں پر مشتمل ہے اور سکولوں کی بندش سے اس تعداد کے بڑھنے کا خطرہ ہے - حکومت کو آنے والے نئے مالی سال میں خصوصی فنڈز مختص کرنے ساتھ ساتھ خصوصی اقدامات بھی کرنے پڑیں گیسول سوسائٹی کی تنظیموں کے نمائندگان نے خیبر پختونخوا حکومت کے اقدامات کو سراہا اور کہا کہ پچھلے سال حکومت نئے تعلیمی ترقیاتی بجٹ کا 70 فیصد حصہ لڑکیوں کی تعلیم کے لیے مختص کیا تھا جو خوش آئند ہے. سول سوسائٹی کی تنظیموں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ رواں سال بھی تعلیمی ترقیاتی بجٹ کا زیادہ حصہ کی تعلیم بالخصوص ثانوی تعلیم پر خرچ کیا جائے اس میں کسی قسم کی کٹوتی نہ کی جائے. اور تعلیمی بجٹ مالی سال 2021 - 2020 میں کٹوتی نہ کی جائے جبکہ لڑکیوں کے تعلیم کیلئے زیادہ رقم محتص کی جائے اور کورونا کے سلسلے میں لڑکیوں کے تعلیم کیلئے کیے گئے اقدامات پر عم درآمد یقینی بنایا جائے تاہم خیبر پختونخوا کہ مفت لازمی تعلیم کے قانون 2017 کے نفاذ کے قواعد و ضوابط کو فوری طور پر تشکیل دیا جائے

مزید :

پشاورصفحہ آخر -