پشاور پولیس نے دہشتگر دی کا منصوبہ ناکام بنادیا، 8دہشتگر د گرفتار

پشاور پولیس نے دہشتگر دی کا منصوبہ ناکام بنادیا، 8دہشتگر د گرفتار

  

پشاور(کرائم رپورٹر) کیپٹل سٹی پولیس پشاور نے مذموم مقاصد کی خاطر پشاور میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے خطرناک دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا، کارروائی میں وفاقی حساس ادارے کا تعاؤن بھی حاصل رہا، خطرناک دہشت گرد موٹر سائیکلز کے ذریعے ضلع خیبر کی جانب سے پشاور میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے جن کو پولیس مقابلے کے بعد گرفتار کر لیاگیا ہے، دہشت گردوں نے گرفتاری سے بچنے کی خاطرپولیس پارٹی پر فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہونے کی کوشش بھی کی جس کوپولیس جوانوں نے نہایت دلیری اور جوانمردی کے ساتھ مقابلہ کرتے ہوئے ناکام بنایا، گرفتار ہونے والے دہشت گردوں میں سے ایک کا تعلق ہمسایہ ملک افغانستان جبکہ بقیہ کا تعلق ضلع خیبر سے ہے جو کارخانو چیک پوسٹ پر ہونیوالے ہینڈ گرنیڈ حملوں جن میں ایک خاتون بھی جاں بحق ہوئی تھی کے ساتھ ساتھ تھانہ بھانہ ماڑی کی حدود میں تاجر طارق اور متنی میں حاجی عبدالرحمان کے بھٹہ خشت پر ہونے والے ہینڈ گرنیڈ حملوں میں بھی ملوث ہیں جنہوں نے ابتدائی تفتیش کے دوران دہشت گردی کے وارداتوں میں ملوث ہونے سمیت پشاور میں دیگر ٹارگٹس کا منصوبہ بنانے کا اعتراف کرتے ہوئے شریک ساتھیوں کی نشاندہی بھی کی جس پر ان کے دیگر چار ساتھیوں کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے جن سے تفتیش شروع کر دی گئی ہے، کارروائی کے دوران حراست میں لئے جانے والے آٹھ دہشت گردوں کا تعلق لشکر اسلام، جماعت الاحرار اور داعش سے ہے جن کے قبضہ سے چار عدد دستی بم، کلاشنکوف،چار عدد پستول سمیت مختلف دہشت گردانہ کارروائیوں میں استعمال ہونے والی موٹر کار اور دو موٹر سائیکل بھی برآمد کر لئے گئے ہیں۔تفصیلات کے مطابق پشاور پولیس کو انتہائی باوثوق ذرائع سے اطلاع ملی تھی کہ دہشتگردانہ کارروائیوں میں مطلوب خطرناک دہشت گرد کسی مذموم کارروائی کی خاطر پشاور میں داخل ہونے کی کوشش کریں گے جس پر ضلع خیبر اور ملحقہ علاقوں سے شہر میں داخل ہونے والے تمام داخلی راستوں کی نگرانی سخت کرتے ہوئے دہشت گرد وں کے عزائم کو خاک میں ملا کر گرفتار کرنے کا ٹاسک اے ایس پی حیات آباد حسن جہانگیر کوحوالہ کیا گیا،جن کی نگرانی میں ایس ایچ او تھانہ حیات آباد ظفر خان نے دیگر پولیس جوانوں کے ہمراہ مصدقہ اطلاع اور وفاقی حساس ادارے کے تعاون سے کارروائی کے دوران بمقام لنک روڈ فیز V حیات آباد میں چار موٹر سائیکل سوار دہشت گردوں کو گرفتار کرنے کی کوشش کی جس پر دہشت گردوں نے موقع سے فرار ہونے کی کوشش کرتے ہوئے پولیس پارٹی پر اندھا دھند فائرنگ شروع کی، موقع پر موجود پولیس پارٹی نے نہایت جوانمردی، ہوشیاری اور حکمت عملی کے ساتھ دہشت گردوں کے ساتھ مقابلہ کرتے ہوئے ان کے فرار کی کوشش ناکام بناتے ہوئے چار خطرناک دہشت گرد لیاقت ولد انور شاہ، خان اکبر ولد محمد رحیم، عاکف ولد ظفر خان اور واجد ولد عزیز کو گرفتار کر لیا جن میں سے ایک کا تعلق ہمسایہ ملک افغانستان سے جبکہ بقیہ تینوں کا تعلق ضلع خیبر سے ہے جنہوں نے ابتدائی تفتیش کے دوران دہشت گردی کے متعدد وارداتوں جس میں کارخانوں چیک پوسٹ پر دستی بم حملوں جس میں ایک خاتون جاں بحق ہو چکی تھی،متنی اور بھانہ ماڑی کے علاقے میں تاجروں کے گھروں اور بھٹہ خشت پر بھتہ خوری کی خاطر ہینڈ گرنیڈ حملوں کا بھی اعتراف کیاجبکہ پشاور میں مزید ٹارگٹس کو نشانہ بنانے کے منصوبے کا بھی انکشاف کیا ہے جنہوں نے مختلف دہشتگردانہ کارروائیوں میں شریک ساتھیوں کی بھی نشاندہی کی ہے جس پر فوری کارروائی کرتے ہوئے مزید چار دہشت گردوں نندار علی ولد اعراب خان، حسین شاہ ولد نیازبین شاہ، محمد زمان ولد محمد اکبر اور معراج الدین ولد مینار ساکنان جمرود کو بھی گرفتار کرلیا گیا ہے،تمام آٹھ دہشت گردوں کے قبضے سے چار عدد دستی بم، کلاشنکوف، چار عدد پستول اور دو موٹر سائیکل سمیت مختلف دہشت گردانہ کارروائیوں میں استعمال ہونے والی موٹر کار بھی برآمد کر لی گئی ہے جن سے دوران تفتیش مزید اہم انکشافات کی توقع کی جا رہی ہے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -